اسلام کو ڈھال بنانادینی روح کے منافی ہے،دہشتگردوں کی معافی کا مطالبہ انصاف کے خلاف ہے، حضرت ابو طالبؑ کے فعل کو خدا نے اپا فعل قراردیا، یوم الحزن کے مرکزی جلوس میں قائد ملت جعفریہ کا خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

دہشتگردوں کی معافی کا مطالبہ انصاف کے خلاف،مجرموں کوقانون کے مطابق سز ا دی جائے۔حامد موسوی
نئے تعلیمی نصاب میں اسلامی ہیروز کو نظر انداز کیا گیا ہے،حضرت عبد المطلب، حضرت ابو طالب کے ایثار و قربانی کو شامل نصاب کیا جائے
کالعدم جماعتوں کے محض نام نہیں بلکہ کام پر بھی پابندی لگائی جائے،حکمرانوں کو قوم وملک کے بجائے اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں
قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خلاف ہرزہ سرائی کا نوٹس لیا جائے،مسلمہ مکاتب کیخلاف سر عام تکفیری نعرہ بازی نہایت قابل مذمت ہے
مذہب و مسلک کے نام پر انتخابات میں حصہ لینے کو ممنوع قرار دیا جائے،مذہبی جماعتوں کا اسلام کو ڈھال کیلئے استعمال کرنادینی روح کے منافی ہے
حکمرانوں کو اپنا مفاد عزیز ہے، کشمیر و فلسطین کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں،عربوں کی پالیسی دوغلی ہے،گرجے مندر بن رہے ہیں، اہلبیت صحابہ کے مزارات مسمار ہیں
مزارات قدسیہ کی عظمت رفتہ بحال کی جائے،غریب عوام کیلئے موثرزیارت پالیسی بنائی جائے۔قائد ملت جعفریہ کا میڈیا اور عزاداروں سے خطاب

اسلام آ باد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی معافی کا مطالبہ انصاف کے خلاف ہے،مجرموں کوقانون کے مطابق سز ا دی جائے،نئے نصاب میں اسلامی ہیروز کو نظر انداز کیا گیا ہے،حضرت عبد المطلب اور حضرت ابو طالب کے ایثار و قربانی کو نصاب میں شامل کیا جائے،کالعدم جماعتوں کے محض نام نہیں بلکہ کام پر بھی پابندی لگائی جائے،حکمرانوں کو قوم وملک کے بجائے اپنے مفاد ات عزیز ہیں،قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خلاف ہرزہ سرائی کا نوٹس لیا جائے،مسلمہ مکاتب کیخلاف سر عام تکفیری نعرہ بازی نہایت قابل مذمت ہے،حکومت شر پسندوں کو لگام دے،مذہب و مسلک کے نام پر انتخابات میں حصہ لینے کو ممنوع قرار دیا جائے،مذہبی جماعتیں اسلام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں جو اسلام کی روح کے منافی ہے،عربوں کی پالیسی دوغلی ہے کیونکہ گرجے مندر بن رہے ہیں جبکہ اہلبیت ؑ اطہار و صحابہ کبار کے مزارمسمار پڑے ہیں،جنت المعلیٰ اور جنت البقیع کی عظمت رفتہ بحال کی جائے، غریب عوام کو مد نظر رکھ کر زیارت پالیسی بنائی جائے، حضرت ابو طالب ؑ نبی اکرم کے کفیل و نگہبان ہیں جنکے فعل کو خداوند عالم نے قرآن میں اپنا فعل قرار دیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمگیر ایام الحزن کے اختتامی ماتمی جلوس کے دوران میڈیا کے نمائندوں اور عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے سید شجاعت علی بخاری،مرکزی سیکرٹر ی اطلاعات علامہ سید قمر حیدر زیدی اورعلمائے کرام بھی موجود تھے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاکہ اسلام ادیان عالم میں سب سے بہترین دین اورنظریہ ہے جسکی قرآن نے تصدیق کی ہے کہ خدا کے نزدیک اسلام ہی دین اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔انہوں نے باور کرایا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی مدد کرنیوالے کوقرآن نے مومن آل فرعون کہا جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا،اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے ہجرت کے لئے کہا ورنہ انہیں قتل کر دیا جاتالیکن حضرت ابو طالب ؑ جنہوں نے محمد عربی کو اپنے بستر پراور کبھی اپنے بیٹے کو انکے بستر پر سلا کر رسالت کی نگہبانی کی تاکہ رسول بچ جائیں،اگر ابوطالب ؑ ایسا نہ کرتے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کو سخت خطرہ تھا،گویا ابوطالب ؑ کا فعل خدا کا فعل ہے یہی وجہ ہے کہ خدا وند عالم نے یتیم عبداللہ ؑ کیلئے ابو طالب ؑ کی پناہ کو اپنی پناہ قراردیا۔انہوں نے کہا کہ محبت کے اسباب میں قرابت،وطنیت اور انسانیت کے جذبات شامل ہیں، پسر نوح قرابت کے باوجود تبلیغ دین میں اپنے والد کی مدد نہ کر سکا کیونکہ اسکا اور حضرت نوح کا مذہب ایک نہ تھا،اسی طرح حضرت نوح ولوط کی ازواج نے انکی مدد نہیں کی کیونکہ انکا مذہب ایک نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذہب اوروطنیت کی وجہ سے انبیاء کے قرابتداروں نے ان کی مدد نہیں کی جبکہ حضرت ابو طالب ؑ نے ہر موقع و مقام پر رسولخدا کی تائیدونصرت کی جو ابو طالب کے ایمان اور اسلام پرمہر تصدیق ہے۔آقای موسوی نے کہا کہ پاکستان کے نئے نصاب تعلیم میں حضرت ابوطالب ؑ سمیت اسلام کی مقتدر ہستیوں کویکسر نظر انداز کیاگیا ہے جن میں سندھ کے سلطان اولیاء حضرت سخی شہباز قلندر اور شاہ عبد الطیف بھٹائی بھی شامل ہیں جن کی عزت و شہرت سے زمانہ واقف ہے اسکے برعکس سندھ کی ایک گمنام شخصیت کو شامل نصاب کیا گیا ہے،حکمرانوں کے اس قسم کے اقدامات کو عوام قبول نہیں کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ عوام حکومت کے ایسے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس میں انکے دکھ درد اور مسائل کے حل کو مقدم رکھا جائے۔حکومت کی جانب سے یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم مرتب کرتے وقت ملک میں آباد تمام مکاتب،طبقات حتیٰ کہ اقلیتوں کے عقائد و نظریات کو پیش نظر رکھا جائے ورنہ وہ فرقہ وارانہ تو کہلائے گا اسے قومی نصاب نہیں کہاجا سکتا۔

آغا سید حامد علی موسوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ختم کئے گئے نصاب تعلیم کی خامیوں اور نئے نصاب تعلیم کی خوبیوں کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ختمی مرتبت کو پال کر پروان چڑھانے والے حضرت عبد المطلب اور حضرت ابو طالب ؑ جیسے اسلام کے عظیم ہیروز کے فضائل اور قربانیوں کو نصاب تعلیم سمیت ہر فورم پر اجاگر کیاجائے۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ حضرت عبد المطلب کے مختلف ازواج سے آٹھ بیٹوں میں حضرت ابو طالبؑ و عبداللہ ایک ماں سے تھے اسی لئے جب حضرت رسولخدا سے پوچھا گیا کہ آپ کس کے پاس جانا چاہتے ہو تو وہ کسی اور کی بجائے چچا ابو طالب ؑ کی گود میں جا کر بیٹھ گئے جنہوں نے تا دم وفات خاتم النبیین کی پرورش اور تائید و نصرت کی جن کی قربانیاں تاریخ اسلام کا تابناک باب ہے۔ ایک کالعدم مذہبی گروپ کے احتجاج کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ حکومت خود جوابدہ ہے کہ اس نے کسی کے ساتھ کو ئی معاہدہ کیا تھا یا نہیں؟ تا ہم شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب ملک کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ ایک سو دس فیصد عوام نے سنا تھا۔

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کالعدم گروپوں کے محض نام کو نہیں بلکہ انکے کام کو بھی ممنوع قرار دیا جائے، قومی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے پرپابندی اور مسلمہ مکاتب کیخلاف تکفیری نعرے لگانیوالوں کوگرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔کالعدم گروپوں کو قومی دھارے میں لانے کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آقای موسوی نے کہا کہ جو بھی مجرم ہے وہ سزا کا مستحق ہے لیکن کسی مجرم کو سزا دیئے بغیر قومی دھارے میں لاناممکن نہیں کیونکہ ایسا کرنا نیشنل ایکشن پلان کے منافی ہو گا۔

قبل ازیں ٹی این ایف جے کی ضلع یوم الحزن کمیٹی کے زیر اہتمام امام بارگاہ زین العابدین ؑ میں مجلس عزا ہوئی جس کے اختتام پر احتجاجی ماتمی جلوس برآمد ہوا جس کی قیادت قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی اور دیگر علمائے کرام،ماتمی سالاروں،بزرگ عزاداروں نے کی۔درایں اثنا ہیڈکوارٹر مکتب تشیع میں موصولہ اطلاعات کے مطابق ایام الحزن کے اختتام پر ملک تمام صوبوں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور مجالس عز اکا انعقاد کیا گیا۔جن میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے بھر پور شرکت کر کے بارگاہ رسالت میں تعزیت و پرسہ پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.