موسویؒ جونیجو معاہدہ تحفظِ عزاداری کی مسلّم دستاویزی ضمانت ہے، سربراہ ٹی این ایف جے کا اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب
مقدس مشنِ ولایت و عزاداری، قومی و ملکی وقار کے دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی
موسویؒ جونیجو معاہدہ تحفظِ عزاداری کی مسلّم دستاویزی ضمانت ہے، ماتمیوں کے اٹھتے ہوئے ہاتھ یزیدی چہروں پر طمانچے عزاداری کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی
قیادت کے نام نہاد دعویدار قیادت جنت البقیع پر خاموش کیوں ہیں۔۔؟ شہادتِ امام علی رضاؑ پر دنیاوی سیاست کو ترجیح دینے والے تعلیماتِ معصومینؑ سے نابلد ہیں
ملتِ کو کھوکھلے نعروں، منافقانہ سیاست کے پیچھے لگانا، قومی جھنڈوں کی بے حرمتی، محافظینِ مملکت کو نشانہ بنانا سازش اور بدیانتی ہے
ٹی این ایف جے قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی موسویؒ کے پاکیزہ اصولوں ولایتِ علیؑ، عزائے حسینؑ، حرمتِ سادات، احترامِ مرجعیت اور مرکزیت پر گامزن ہے
مکتبِ تشیُع کے مسائل کے حل کیلئے حکومت 21 مئی 85ء کے جونیجو موسویؒ معاہدے پر عملدرآمد کرے، تمام مکاتب کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے
وطنِ عزیز میں کسی مخصوص مکتب کی بالادستی قبول نہیں کریں گے، مکتبِ تشیُع کے بنیادی آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی
تحفظِ عزاداری ہمارا نصب العین ہے، آمدہ محرم الحرام کیلئے پالیسی مرتب، باقاعدہ اعلان بذریعہ پریس کانفرنس کیا جائے گا
اسلام و پاکستان کیخلاف سازشوں کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے، سربراہ ٹی این ایف جے کا اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب
راولپنڈی ( ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ سربراہ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے اس عہدکا اعادہ کیا ہے کہ مقدس مشنِ ولایت و عزاداری کے تحفظ، ملک و قوم کی عزت و حرمت اور دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، موسویؒ جونیجو معاہدہ تحفظِ عزاداری کی مسلّم دستاویز ہے، ماتمیوں کے اٹھتے ہوئے ہاتھ یزیدی چہروں پر طمانچے ہیں عزاداری کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی، داعیانِ قیادت جنت البقیع پر خاموش کیوں ہیں۔۔؟ شہادتِ امام علی رضاؑ پر دنیاوی سیاست کو ترجیح دینے والے تعلیماتِ معصومینؑ سے نابلد ہیں، ملتِ کو کھوکھلے نعروں، منافقانہ سیاست کے پیچھے لگانا، قومی جھنڈوں کی بے حرمتی، محافظینِ مملکت کو نشانہ بنانا سازش اور بدیانتی ہے، ٹی این ایف جے قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی موسویؒ کے پاکیزہ اصولوں ولایتِ علیؑ، عزائے حسینؑ، حرمتِ سادات، احترامِ مرجعیت اور مرکزیت پر گامزن ہے، مکتبِ تشیُع کے مسائل کے حل کیلئے حکومت 21 مئی 1985ء کے جونیجو موسویؒ معاہدے پر عملدرآمد کرے، تمام مکاتب کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، وطنِ عزیز میں کسی مخصوص مکتب کی بالادستی کو قبول نہیں کریں گے، مکتبِ تشیُع کے بنیادی آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اسلام و پاکستان کیخلاف سازشوں کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے، تحفظِ عزاداری ہمارا نصب العین ہے، آمدہ محرم الحرام کیلئے پالیسی مرتب، باقاعدہ اعلان بذریعہ پریس کانفرنس کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیڈکوارٹر مکتبِ تشیُع علیؑ مسجد میں تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی پہلی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا کہ سانحہ ترلائی میں تحریک نے مثالی، پُرامن طرزِ عمل سے داخلی و خارجی دشمن کی کو ناکام اور قومی غیرت و حمیت، آبرو مندی کا پرچم سربلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ترلائی میں تین ممالک کی فارن فنڈنگ کا انکشاف ہوا، حقائق تاحال قوم کے سامنے نہیں لائے گئے، حکومت حقائق کو کارپٹ تلے نہ دبائے، ایکشن پلان پر عمل کا وعدہ پورا کیا جائے، انہوں نے کہا کہ داعیانِ قیادت جنت البقیع پر خاموش کیوں ہیں۔۔؟ شہادتِ امام رضاؑ کے روز سیاست کو ترجیح کیوں دی گئی۔۔؟ ایمانی و ملی شعائر سے انحراف کرنے والے قوم کے ترجمان نہیں ہو سکتے۔ ملتِ جعفریہ کو کھوکھلے نعروں، منافقانہ سیاست کے پیچھے لگانا سازش ہے، تشیُع تدبر و تعقل سے عبارت ہے، قوم کو جذبات کے سپرد کرنا قومی جھنڈوں کی بے حرمتی، محافظینِ مملکت کو نشانہ بنانا سازش ہے۔ علامہ مقدسی نے کہا کہ رہبرِ تشیُع قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے نقشِ قدم کو مشعلِ راہ بنایا تو خود ریاست نے آپ کے دروازے پر آ کر حقوق دیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک غربت مگر غیرت کیساتھ جدوجہد کر رہی ہے، گنتی کے افراد کے ماہانہ چند ہزار عطیات سے عالمگیر تحریک چلانا فقرِ امام موسیٰؑ ابنِ جعفرؑ اور تائیدِ سیدِ سجاد علیہ السلام کا کرشمہ ہے۔ آقائے موسویؒ کی مسلسل چالیس سالہ جدوجہد سے اجلاسوں میں یا علیؑ مدد کا درس دیا ہے کہ ہمارے ہاتھ مولا و آقا کے سامنے دراز ہوتے ہیں، بیرونی آقاوں کی امداد اور مَن و سلویٰ پر پابندی کا مطالبہ اغیار کے دستر خوان کے پروردہ نہیں کر سکتے، تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ کے مسئولین، عزاداران و ماتمیانِ شبرؑ و شبیرؑ کو فی زمانہ بدرجہ اتم بصیرت و تدبر اور عظمتِ کردار کیساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ افراط و تفریط و عقائدی اختلافات کے بر عکس عقائدِ حقہ کی پرچارک اور زیارتِ جامعہ کبیرہ کے نظریات کا حسیں گُلشن ہے، دین و شریعت کے زاویے غیرِ معصوم نے نہیں امامِ معصومؑ نے بنانے ہیں، امام نقی علیہ السلام کی تعلیم کردہ دعائے زیارتِ جامعہ کبیرہ اساسِ عقیدہ اور نسخۂ نجات ہے۔ امامِ نقی علیہ السلام نے فرمایا کہ متقدمین و مقصرین خسارے والے ہیں، امامِ معصومؑ نے فرمایا کہ متقدمین یعنی افراط و غُلُو کے شکار راغب و مارق اور مقصرین یعنی تفریط و تقصیر زاھق جبکہ متمسکین یعنی اعتدال پسندوں کو لاحِق کہا گیا جو کامیاب و سرفراز و نجات یافتہ ہیں۔ یہی گروہ لاحقین ہیں جو دنیا و آخرت میں آئمہ علیہم السلام کے ساتھ محشور ہوں گے، عیدِ غدیر کو فرمانِ امامِ رضاؑ کی تاکید کے ساتھ جوش ولولے اور تزک و احتشام کے ساتھ منائیں، عزادارانِ حسینؑ محرم سے قبل ہر سطح پر اجلاس کریں، عزاداری سیل قائم کریں، کسی بھی ممکنہ مسائل میں ہیڈکوارٹر علیؑ مسجد سے مربوط رہیں۔ موسویؒ جونیجو معاہدہ تحفظِ عزاداری کی مسلّم دستاویز، تحفظِ عزاداری کا پروانہ ہے۔ ماتمیوں کے اٹھتے ہوئے ہاتھ یزیدی چہروں پر طمانچے ہیں جنہیں روکنا ناممکن ہے۔ آقائے موسویؒ نے فرمایا تھا کہ بزدل و کمزور عزاداری نہ کرے، یہ مردوں کا کام ہے، عزاداری ذریعۂ نجات ہے جس پر پابندی نہ قبول کی نہیں کریں گے۔ عزاداری پر پابندی قبول کرنا حضرتِ زہراؑ کے حق سے خیانت کرنے کے مترادف ہے، قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی موسویؒ کے تعلیم کردہ پانچ اصولوں ولایتِ علیؑ، عزائے حسینؑ، حرمتِ سادات، احترامِ مرجعیت اور مرکزیت پر قائم دائم رہتے ہوئے مشنِ مقدس کا کارواں رواں دواں رہے گا۔ ماہِ ذی الحجہ صرف ذبیحے کی نہیں بلکہ نفوس کی قربانی کی متقاضی ہے، قربِ حق کے خاطر تاکید ہے کہ محبوب ترین شے کی قربانی کی جائے۔ حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ نے اپنے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دی جبکہ نواسۂ رسولؐ آقا و مولا حسین علیہ السلام کربلا میں فخرِ ذبیح اللہ کی قربانی دے کر معنی ذبیح قرار پائے۔ قومی غیرت، عظمتِ کردار تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ کے نشان ہائے افتخار و امتیاز ہیں، دجالی گماشتے مشرقِ وسطیٰ میں بحری بیڑوں سے مہدیِؑ موعود کا راستہ روکنا اور منتظرینِ قائمؑ کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، امامِؑ زمانہ اعجازِ ولایتِ تَکوِین اور ولایتِ کُبریٰ کے ساتھ ظہور فرمائیں گے، مکتبِ اہلِ بیتؑ و عزاداری کا فروغ اور مذہبِ حقہ کی پذیرائی اور غلبہ بقیۃ اللہ فی الارض کے ورودِ مسعود و ظہورِ مقدس کی نشانیاں ہیں، مادیت پرست مُلّا کریسی اقتدار کے لیے دست و گریباں اور ٹریڈنگ میں مصروف ہیں، گلگت الیکشن میں اشعری سازشوں، سودا بازی کی بُو آ رہی ہے، علیؑ ولی کے ماننے والوں کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، قومی سانحات و دہشت گردی پر دُم چھلہ نیم سیاسی چغادریوں کی زبانیں گُنگ کیوں ہو جاتی ہیں۔۔؟ قوم کی امنگوں کا لحاظ نہ ہی شہداء کے جنازوں میں شرکت، قوم منافقانہ سیاست کو ہر محاذ پر ناکام کرے گی، قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے رہنما اصولوں اور تعلیمات کی روشنی میں مشنِ ولاء و عزاء ہر قیمت پر جاری و ساری رکھا جائے گا۔ ٹی این ایف جے کے ترجمان کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس کے آغاز پر سیکرٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے ملک بھر سے آئے مندوبین کے اعزاز میں خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔
