عقیلہ بنی ہاشمؑ کانفرنس : متعصبانہ یکساں نصاب،نوحوں پر پابندیاں، فیملی لاز بل کی عددی اکثریتی کے بل بوتے پر منظوری عوام کا گلا گھونٹنا ہے

ولایت نیوز شیئر کریں

سانحات،شدت پسندی کے خاتمے کیلئے کالعدم گروپوں کی سرکاری و سیاسی سرپرستی ترک کی جائے۔مختارآرگنائزیشن
سیالکوٹ،فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر مقامات پرغیر انسانی شرمناک واقعات کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا نا حکومتی ذمہ داری ہے۔وجیہ کاظمی
پاکستان کسی مخصوص فرقے نہیں بلکہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا،آئین کے تحت تمام مکاتب کوحقوق کی برابر کی سطح پر ادائیگی انکا آئینی حق ہے
قائد ملت جعفریہ آقای حامد موسوی کے بقول عصبیتی بنیادوں پر انتخابی سیاست موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے،فوری پابندی عائد کی جائے
یکساں نصاب کے نام پر مخصوص فرقہ وارانہ نصاب کا تسلط،نوحوں پر پابندیاں فیملی لاز بل کی عددی اکثریتی کے بل بوتے پر منظوری عوام کا گلا گھونٹنا ہے
عقیلہ بنی ہاشم کانفرنس کا اعلامیہ، شجاعت بخاری،مرتضیٰ موسوی، علی موسوی،قمرزیدی،بشارت امامی،زاہد کاظمی اوردیگر کا خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز) مختار آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام”المرتضیٰ ہال“جی نائن فور اسلام آباد میں منعقدہ”عقیلہ بنی ہاشم کانفرنس“کے اعلامیے میں اندوہناک سانحات اورشدت پسندی کے جڑسے خاتمے کیلئے کالعدم شدت پسند گروپوں کی سرکاری و سیاسی سرپرستی مکمل طور پر ترک کرنے ہر سطح پر انکی حوصلہ شکنی کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کا پرزورمطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے شریک چیئرمین سید وجیہ الحسن کاظمی نے اعلامیہ پیش کرتے ہوئے باوکرایا کہ سیالکوٹ،فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر مقامات پر رونما ہونیوالے غیر انسانی شرمناک واقعات کے مجرموں کو بلاتاخیر کیفر کردار تک پہنچا نا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔اعلامیہ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے پیغام وحدت و اخوت کو عام کرنے کیلئے جوانان ملت موسوی امن فارمولے کی پاسداری کرتے ہوئے حسینی و زینبی ؑشمعیں روشن کرنے کی عملی جدوجہد جاری رکھیں گے،سیدہ زینب ؑ بنت علی ؑ کی سیرت طاہر ہ پر عمل پیرا رہتے ہوئے کبھی ظلم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اور قومی و ملی حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

کانفرنس کے مہمانان خصوصی میں سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے سید شجاعت علی بخاری،آغاسید محمد مرتضیٰ موسوی،آغاسید علی روح العباس موسوی،علامہ سیدقمرحیدرزیدی،سید ارشاد نقوی،علامہ بشارت حسین امامی،ذوالفقار علی راجہ،علامہ زاہد عباس کاظمی،سجادہ نشین سید قاسم علی شاہ کاظمی،باوا فرزندعلی شاہ کاظّی،مخدوم سید التجا حسین نقوی،علامہ فخر عباس عابدی،تبیان زیدی،چوہدری مشتاق حسین،مقداد نقوی،طیب موسوی،مولانا شہزاد سندی،سیدعباس کاظمی،سید جون علی مشہدی،شوکت جعفری،فیاض کاظمی،تاثیر کاظمی،اقرار رضوی،امجد حسین،نزاکت کاظمی،سید ظہیر مشہدی،شمائم علی اکبر کاظمی،حاجی نسیم تنویر کاظمی شامل تھے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ وطن عزیز پاکستان کسی مخصوص فرقے یا مکتب نہیں بلکہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا لہٰذا آئین پاکستان کے تحت تمام مسالک و مکاتب یکساں حقوق کی برابر کی سطح پر ادائیگی انکا آئینی حق ہے۔کانفرنس کے اعلامیے میں پاکستان کو نظریہ اساسی سے ہٹانے کی سازشوں اور متعصبانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے یکساں نصاب کے نام پر مخصوص فرقہ وارانہ نصاب کو پوری قوم پر زبردستی مسلط کرنے،مجالس و جلوس،نوحوں،نعتوں پر پابندیوں،عزاداروں کے خلاف مقدمات،حالیہ فیملی لاز کے بل کی عددی اکثریتی کے بل بوتے پر منظوری کو عوام کا گلا گھونٹنے کے مترادف قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت دہشتگردی و شدت پسندی، اقتصادی بحران اور بیروزگاری سمیت گوں نا گوں مسائل میں گھرے ہوئے ملک کو مصائب و آلام کے گرداب سے نکالنے کیلئے نئے مسائل کو جنم دینے کی کوششیں بند کرے اور ملک میں بسنے والے تمام مکاتبِ فکر کے حقوق کی یکساں ادائیگی یقینی بنائے۔

اعلامیے میں مکتب تشیع کے خلاف تحریف قرآن کے بے بنیاد اور لغو الزامات کی مذمت کر تے ہوئے واضح کیا گیا کہ فقہ جعفریہ رسولؐ پاک کی حدیث مبارکہ کے مطابق قرآن و اہلبیت ؑ سے یکساں طور پر متمسک رہنے والوں کا مکتب ِ فکر ہے اور اسکا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ قرآن کریم اللہ کی وہ کتاب ہے جسکی حفاظت کا ذمہ بھی پروردگارِ عالم نے خود لے رکھاہے لہٰذ ا اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ کسی طور ممکن نہیں اورقرآن پاک تا قیام قیامت انسانیت کی ہدایت کا سرچشمہ رہے گا۔مختارآرگنائزیشن کے شریک چیئرمین سید وجیہ کاظمی نے عقیلہ بنی ہاشم کانفرنس کے ۔

اعلامیے میں ملک میں بڑھتی ہو ئی شدت پسندی اور دہشتگردی کے رجحانات کے خاتمے کیلئے حکومت پر زور دیا کہ وہ نئے اور پرانے ناموں سے کام کرنے والے کالعدم گروپوں پر مذہب، فرقہ و مسلک اور زبان سمیت ہر قسم کی عصبیت کی بنیاد پرانتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے پرپابندی عائد کرے کیونکہ بقول قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی عصبیتی بنیادوں پر انتخابی سیاست میں حصہ لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

معروف شعراء انجم خلیق، خرم خلیق اور محسن جعفری نے اپنا کلام پیش کیا جبکہ پرویز شوکت،اعزاز حیدر نقوی،سید اسد حسنین مشہدی،ذاکر مطیع الحسنین کاظمی اور نذر عباس کاظمی نے بارگاہ عقیلہ بنی ہا شم حضرت زینب بنت علی ؑمیں منقبت و قصیدہ خوانی کی۔

کانفرنس کی نظامت ملک جواد حسین اعوان نے کی۔کانفرنس کے آخر میں علامہ سید تصور حسین نقوی نے عالم اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے دعا کرائی۔ڈپٹی چیئرمین حزیفہ یمانی،شہاب مہدی،مرکزی صدر ثمر الحسن نقوی،سیکرٹری جنرل ذوالقرنین حیدر جمیل،وقار حسن کاظمی،حسین بدر ہمدانی،اسد عباس نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔،

جڑواں شہروں کے معروف عزاداروں،لائسنسداروں،بانیا ن مجالس،ماتمی سالاروں،مذہبی و ماتمی تنظیموں کے سرکردہ عہدیداروں اور ہر طبقہ فکر کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.