ہم نامِ ذوالجلال کا نام و نشاں یہ ہے
ہاں لشکرِ خدا کا نمودی جواں یہ ہے
جعفر شکوہ، حمزۂ صاحب قِراں یہ ہے
سیفِ خدا خطاب ہے عباس نام ہے
یہ بازوئے حسین علیہ السلام ہے
عباس بولے مدح کے قابل امام ہیں
بھائی بھی اُن کے بس حسنِ سبز فام ہیں
باقی جو اور بھائی ہیں وہ سب غلام ہیں
وہ رہنما وہ قبلۂ ہر خاص و عام ہیں
گمراہ ہے تو دور ہو، جا اپنی راہ لے
ورنہ یہ ہے نبی کا علم، آ، پناہ لے
ذکرِ حسین حور و ملک کا وظیفہ ہے
تیرا خلیفہ طالبِ دنیائے جیفہ ہے
وہ ہے خلافِ حق یہ نبی کا خلیفہ ہے
وہ خود غلط ہے اور یہ خدا کا صحیفہ ہے
ناداں بتا! خدا کا شناسا نہیں حسین؟
لے تو ہی کہہ نبی کا نواسہ نہیں حسین؟
یہ رتبہ زر کے زور سے حاشا نہ ہوئے گا
ادنیٰ ہوا و حرص سے اعلا نہ ہوئے گا
فرعون جا کے طور پر موسیٰ نہ ہوئے گا
حکمت سے اپنی کوئی مسیحا نہ ہوئے گا
کس نے دی انگوٹھی رکوع و سجود میں
آیا نہ آیہ مثلِ علی مدح وجود میں
ہر سبز پوش خضر نہیں عز و جاہ میں
سرسبز حیدری ہیں جنابِ الٰہ میں
یوسف نہ ہوگا لاکھ گرے کوئی چاہ میں
دن رات کا ہے فرق سپید اور سیاہ میں
کوئی یتیم فاطمہ سا خوش گہر نہیں
ہر اک یتیم دُرِّ یتیم، اے عمر نہیں
چاہے زِرہ بنا کے جو داؤد کا وقار
واللہ، جعل ساز ہے، کیا اس کا اعتبار
ہر بخیہ گر نہ ہو کبھی ادریسِ نام دار
ہر ناخدا کو ‘نوح’ کہے گا نہ ہوشیار
کیا جاہلوں کے عیش کا سامان ہو گیا
بیٹھا جو تخت پر وہ سلیمان ہو گیا
گوسالے نے کیا تھا جو دعویٰ، تو کیا ہوا
کہہ تو ہی صدق کذب ہوا، بت خدا ہو؟
یوں ہی یزید بھی جو خلیفہ ہوا، ہوا
باطل نہ اُس سے حقِ امامِ ہُدا ہوا
جس طرح سے خدا کوئی غیر از خدا نہیں
یوں ہی بجز حسین امامِ ہُدا نہیں
وارث ہر اک نبی کا ہے یہ سیدِ جلیل
بیٹے کو ذبح کرنے لگے جس گھڑی خلیل
دنبہ ریاضِ خلد سے لے آئے جبرئیل
فدیہ ہوا ذبیح کا حیوانِ بے عدیل
نعلین اس کے پوست کی ہے شہ کے پاؤں میں
اور چتر حق کے سائے کی ہے دھوپ چھاؤں میں
قرآں ورق ورق سے سپر ہے حسین کی
چشمِ نبی زرہ ہے شہِ مشرقین کی
اور تیغِ تیز فاطمہ کے نورِ عین کی
ہے ذوالفقار فاتحِ بدر و حنین کی
اتری تو ہے زمین پہ عرشِ جلیل سے
پر کاٹنے کا حال کھلا جبرئیل سے
جس کی زمین عرش ہے وہ گھر ہمارا ہے
کرسی خدا کے نور کی منبر ہمارا ہے
ایماں ہے جس کی فرد وہ دفتر ہمارا ہے
مکتب ازل سے عرشِ منور ہمارا ہے
احمد مدینہ علم کے، در بوتراب ہے
اس باب میں حدیثِ رسالت مآب ہے
اپنی ولا سے فوق ملک پر ہے روح کو
ہم روحِ تازہ دیتے ہیں سام ابنِ نوح کو
حکمِ خدا سے قبض بھی کرتے ہیں روح کو
ہم کھولتے ہیں جنگ میں بابِ فتوح کو
فیصل ہوا ہے قول یہ خیبر کے قصے میں
آیا ہے لافتیٰ مرے بابا کے حصے میں
پہلے مصرعے میں روح= جبرئیل
لذت ملے گی حشر کے دن ان کلاموں کی
جس دم نکل پڑے گی زباں تشنہ کاموں کی
کوثر نبی کا ہو گا حکومت اماموں کی
سقائی ہم کریں گے علی کے غلاموں کی
آلِ رسول مالکِ روزِ حساب ہے
کیا قہر ہے انہیں کے لیے قحطِ آب ہے
یہ دن وہ ہیں تپش کے کہ سب رحم کھاتے ہیں
اکثر سبیلیں رکھتے ہیں، پانی پلاتے ہیں
پردیسیوں کو سائے میں لا کر بٹھاتے ہیں
یاں اپنے مہمانوں سے پانی چھپاتے ہیں
ہے ہے قلق یہ ہوں چھ مہینے کی جان کو
آنکھیں پھرا کے ہونٹوں پہ پھیرے زبان کو
اب بھی سمجھ خدا کے لیے، آ، جناں میں آ
دے پانی، لے بہشت، نہ جا نار میں، نہ جا
بیعت ہے ابنِ فاطمہ کی بیعتِ خدا
تیری بھلائی کے لیے کہتے ہیں، ہم کو کیا
سب خاک ہے، نہ زر نہ پسر کام آئیں گے
تربت میں بوتراب ہی آ کر بچائیں گے
بولا وہ منہ پھرا کے ۔ سنو اے گروہِ شام!
لو، ہم سے لینے آئے ہیں یہ بیعتِ امام
میں حُر نہیں کہ مان لوں۔ حاکم کا ہوں غلام
دنیا مجھے پسند ہے، ایمان کو سلام
بیعت یزید کی تو نہ شاہِ امم کریں؟
قدرت خدا کی، بیعتِ شبیر ہم کریں؟
یاں کان آشنا تھے کب اس بول چال سے
دیکھا لرز کے تیغ کو قہر و جلال سے
بھاگا چھپا کے روئے سیہ کو وہ ڈھال سے
بادل اٹھے نشانوں کے دشتِ قتال سے
تیغیں اُپی ہوئیں جو یکایک نکل پڑیں
بازو کی مچھلیاں سرِ بازو اچھل پڑیں
بڑھ کر نقیب بولے کہ ہاں، سرفروشو ہاں
شیرو، دلیرو، غازیو! تازی کی لو عناں
مرتے ہیں مرد نام پہ، نامرد بہرِ ناں
سنبھلے ہوئے، کہ سامنے ہے ہاشمی جواں
لینا نہ منہ پہ ڈھال کہ ہستی حباب ہے
دینا نہ آبرو کہ یہ موتی کی آب ہے
بولی یہاں رضائے خداوند ذوالجلال
بسم اللہ اے جنابِ امیرِ عرب کے لال
عدلِ خدا پکارا کہ خونِ عدو حلال
پنجہ بڑھایا مہرِ علی نے سوئے ہلال
قبضہ وفورِ شوق سے دو ہاتھ اچھل پڑا
قالب سے ماہِ نو کے مہِ نو نکل پڑا
نکلی غلافِ نور سے تفسیرِ جوہری
یا آ کے دست بوسِ سلیماں ہوئی پری
یا حجلے سے عروس نے کی جلوہ گستری
یا تھی یہ شاخِ میوۂ طوبیٰ ہری بھری
اس ہاتھ سے مرادیں تھیں جو جو وہ مل گئیں
باچھیں خوشی سے تیغ کے قبضے کی کھِل گئیں
شاخِ نیام سے ہوا اس طرح پھل جدا
پیروں کے قد سے جیسے جوانی کا بل جدا
ہستی جدا زمین پہ تڑپی، اجل جدا
خنجر جدا فلک پہ گرا اور زحل جدا
غل تھا کہ اب مصالحۂ جسم و جاں نہیں
لو تیغِ برق دم کا قدم درمیاں نہیں!
سایہ بھی صاف تیغ سے فوراً جدا ہوا
مطلب ملا کہ پانی سے روغن جدا ہوا
تنہا نہ رنگِ چہرۂ دشمن جدا ہوا
گردن سے سر، تو روح سے ہر تن جدا ہوا
پیہم صدا دلوں کے دھڑکنے کی آتی تھی
آوازِ بوق اٹھتی تھی اور بیٹھ جاتی تھی
سیدھی ہوئی جو تیغ تو لشکر الٹ گیا
میداں سے پاؤں، جینے سے دل سب کا ہٹ گیا
سب رو رہے تھے زور کو واں، سن بھی گھٹ گیا
مانندِ ناف خوف سے سینہ سمٹ گیا
بولی یہ تیغ دم سرِ اعدا پہ لوں گی میں
بُرّش پکاری تو بھی ٹھہرنے نہ دوں گی میں
پڑھتی ہوئی زبان سے وہ ‘لا فتا’ چلی
‘روشن نگاہ’ کہنے کو آگے قضا چلی
بائیں کو قہر داہنی جانب بلا چلی
بالکل چراغِ عمر ہوئے گل ہوا چلی
کہیے نہ تیغ دولھا کو برچھی لگائی تھی
ابنِ حسن کی آہ نے بجلی گرائی تھی!
پھل وزن میں تھا پھول، تجلی میں نخلِ طور
گرمی میں محض نار تو نرمی میں صاف نور
آسیب سایہ، چال پری، قبضہ چشمِ حور
خود لہر، آب زہر، تڑپ قہر، شور صور
یوں دفعتاً زمیں سے گئی آسمان پر
جس طرح غصہ آئے کسی ناتوان پر
تیغیں بڑھیں تو اور گھٹی شانِ اشقیا
دستِ سوال جیسے سب اعضا میں بدنما
الزام ان کی تیغ نے سب تیغوں کو دیا
گرمی سے اس کی سرد تھے اعدا کے دست و پا
جوہر کے خرمنوں پہ یہ مثلِ شرر گری
ہر تیغ پھلجڑی کی طرح چھوٹ کر گری
پھر تو پکار تھی یہ اِدھر، وہ اُدھر گرا
وہ نیمچہ، وہ ہاتھ، وہ خود، اور وہ سر گرا
بن بن کے برق، سایۂ تیغِ ظفر گرا
واں مورچے سے باپ اٹھا، یاں پسر گرا
گر گر کے سر یہ رن میں برابر تپاں ہوئے
جو رن میں سرزمین کے معنی عیاں ہوئے
اس تیغ سے تھا سارے زمانے میں ماہِ عید
روشن تھا پنجتن کے گھرانے میں ماہِ عید
آنے میں روزِ وعدہ تو جانے میں ماہِ عید
صائم کو تھا غذا کے کھلانے میں ماہِ عید
دل کے شکست ہونے سے روزے کا در کھلا
برسوں کے بعد روزۂ فتح و ظفر کھلا
مشکل ہے ابتدا بہ سکوں، سب کو ہے خبر
کلیہ یہ حسام نے باطل کیا مگر
ساکن بنائی زخم کے جِرموں سے سینِ سر
سب وقف پیشِ تیغ تھے، کیا زیر کیا زبر
آخر کی صف میں کچھ حَرَکَت آشکار تھی
سو بسملوں کی طرح وہ بے اختیار تھی
دینارِ تیغ رونقِ بازار ہو گیا
نادار اُس کے چلتے ہی زردار ہو گیا
اور دور مفلسی کا سب آزار ہو گیا
یہ آبِ تیغ شربتِ دیدار ہو گیا
صد پارہ رن میں قالبِ ہر بیدریغ تھا
اس تیغ میں یہ خوردۂ دینار تیغ تھا
آندھی تھی گرد، گھوڑے نے وہ خاک اڑائی تھی
دریائے تیغ نے نئی گرمی دکھائی تھی
آندھی نے آگ پانی کے اندر لگائی تھی
نعلوں کی بجلیوں سے ہر اک صف جلائی تھی
چل پھر سے اس کی تیغ کی جنبش زیاد تھی
کشتیِ تیغ کے لیے بادِ مراد تھی
چہروں پہ مردنی کی طرح تیغ چھا گئی
ہر استخواں میں مثلِ تپِ دق سما گئی
اعجازِ خاکساریِ حیدر دکھا گئی
مانندِ خاک ناریوں کے تن کو کھا گئی
سب کے گلوں سے ملتی تھی لیکن رکی ہوئی
جوہر یہ تھے کہ بوجھ سے تھی خود جھکی ہوئی
باطل کو حق سے، تیغ نے یوں کر دیا پرے
خورشید جیسے رات کو دن سے جدا کرے
خالی طرارے رخشِ جہندہ نے جو بھرے
میدان سے ہرن ہوئے روباہوں کے پرے
شعلہ جو اس کے مشعلِ سُم سے عیاں ہوا
کیا کیا چراغ پا فرسِ آسماں ہوا
آتے تھے جوڑ توڑ غضب تیغِ تیز کو
سر سے ملی جدا کیا پائے گریز کو
اپنے سے گرم دیکھ کے اس شعلہ ریز کو
برق و شرر نے نذر کیا جست و خیز کو
بو گل نے رنگ لالے نے سرعت ہوا نے دی
یہ ہدیہ کیا ہے اپنی نیابت قضا نے دی
قربان، فیضِ بازوئے شاہِ جلیل پر
ترجیح دستِ جود کو ہے سلسبیل پر
یوں فوج کا ہجوم تھا تیغِ اصیل پر
گرمی میں جیسے پیاسوں کا بلوہ سبیل پر
تازے خواص تیغِ رواں نے دکھا دیے
پانی کے بدلے پیاس کے تیور بجھا دیے
ڈوبی سپر میں گر کے نئی چال ڈھال سے
پاکھر کے بیچ میں نہ پڑی سیدھی چال سے
اٹھ کر زرہ میں آئی شکوہ و جلال سے
اک جال میں تڑپ کے گئی ایک جال سے
گذری جو چار آئینے سے منہ کو موڑ کے
غل تھا پری نکل گئی شیشے کو توڑ کے
سُکّانِ شام و کوفہ میں اک باخدا نہ تھا
ان کا سوائے قہرِ خدا ناخدا نہ تھا
مطلب بجز خلاصیِ جاں تیغ کا نہ تھا
ڈوبا وہی حسین سے جو آشنا نہ تھا
رنگِ سیہ کے اڑنے میں یہ امتیاز تھا
دریائے تیغ میں وہ دھویں کا جہاز تھا
بازو و دست و گردن و سر بہتے پھرتے تھے
گھوڑے اِدھر، سوار اُدھر بہتے پھرتے تھے
طائر تھے آشیانوں میں پر بہتے پھرتے تھے
سب سنگ دل تھے کوہ، مگر بہتے پھرتے تھے
نے مرتے تھے نہ جیتے تھے لیکن سسکتے تھے
بھیگے تھے مرغِ روح کے پر اڑ نہ سکتے تھے
قربانِ برق و بارقۂ تیغِ شعلہ تاب
موتی کی آب و تاب، سمندر کا پیچ و تاب
خود نوح، خود سفینہ و خود ماہی و خود آب
سرگوشیاں فرات میں کرنے لگے حباب
ظرفِ تنک میں تھی نہ جگہ اس کے آب کی
بندھتی تھی اور کھلتی تھی مٹھی حباب کی
ہے قاعدہ کہ بھرتا ہے پانی جو ناگہاں
دریا میں بیٹھ جاتی ہے ہر کشتیِ رواں
پر اس جہازِ تیغ کو خطرہ نہ تھا وہاں
عباس ناخدا تھے، علم شہ کا بادباں!
دریائے خوں تھا تیغِ سبک رو کی ناؤ پر
پر یوں رواں تھی جیسے کہ کشی بہاؤ پر
پوچھا فلک نے، امن و اماں زیرِ ناؤ ہے؟
آواز دی زمیں نے کہ ‘تیرا ڈباؤ ہے’
اس نے کہا کہ تحتِ ثریٰ میں بچاؤ ہے؟
بولی: نمودِ سینۂ ماہی و گاؤ ہے
اس پوچھنے میں تیغ کا دریا جو بڑھ گیا
نو پُل فلک کے کیا ہیں کئی پُل پہ چڑھ گیا
کاٹا پلک میں آنکھ کو، پتلی میں نور کو
پاؤں میں کج روی کو سروں میں غرور کو
سینے میں بغض و کینہ کو دل میں فتور کو
نیت میں معصیت کو طبیعت میں زور کو
ذات اک طرف مٹا دیا بالکل صفات کو
کیسی زباں، زبان میں کاٹ آئی بات کو
جب سرکشوں پہ سایۂ تیغِ اجل پڑا
بالوں کی طرح ہوش سروں سے نکل پڑا
جھگڑا سر و قدم میں عجب بے محل پڑا
دونوں کی بے خودی پہ بدن خود اچھل پڑا
سر بھاگنے کو پائے سپاہِ عمر بنے
بچنے کی آرزو میں قدم اٹھ کے سر بنے
مردہ تھا سر میں ہوش، سراسیمہ سرفروش
سر قبر، خود گنبدِ قبرِ حواس و ہوش
بے جاں سلاحِ جنگ، پریشاں سلاح پوش
دم مارا تیغ نے نہ ہلایا سپر نے گوش
چلّایا کی کمان نہ تیر اک رواں ہوا
ڈھالوں کے پھول چلنے کا چالیسواں ہوا
روکی جو ڈھال اور بھی اندھیر چھا گیا
روزِ سیاہ شامیوں کے منہ پہ آ گیا
آخر بغیر بھاگے نہ ہرگز رہا گیا
اور نہرِ علقمہ میں یہ بحرِ سخا گیا
دریائے آبرو سے جو دریا کو بھر دیا
دُرِّ نجف نے بحر کو بحرین کر دیا
چلّو بھرا فرات سے سرکا کے آستیں
عبرت سے دیر تک اُسے دیکھا کیے وہیں
پھر لائے امتحاں کے لیے ہونٹوں کے قریں
سینے میں دل تڑپ کے پکارا، نہیں نہیں
گو مہرِ فاطمہ ہے پہ مجھ پر حرام ہے
وارث جو فاطمہ کا ہے وہ تشنہ کام ہے
پانی جو بے حسین کے منہ سے لگائے گا
ہے ہے وفا کا نام ابھی ڈوب جائے گا
اس وقت آبرو جو گئی پھر نہ پائے گا
یہ روز اب زمانے میں کاہے کو آئے گا
چلیے تو آبِ نہر سے کوثر بھی پاس ہے
جب ہاتھ کٹ گئے تو نہ فاقہ نہ پیاس ہے
غازی نے دل کے مشورے پر مرحبا کہا
دریا سے رو کے پیاسوں کا سب ماجرا کہا
کاندھے پہ مشک بھر کے دھری، ‘یا خدا’ کہا
چلتے ہوئے اجل نے پیامِ قضا کہا!
ہے ہے نصیب پیاسوں کا رستے میں پھر گیا
سقہ حرم کا فوج کے طوفاں میں گھر گیا
اکبر یہاں کھڑے تھے سنبھالے حسین کو
سمجھا رہے تھے دیکھنے والے حسین کو
اِن کی فغاں تھی ‘بھائی بلا لے! حسین کو’
عباس آ گلے سے لگا لے حسین کو
تنہائی اپنے بھائی کی بھائی پسند کی
کوثر پہ آپ پہنچے ترائی پسند کی
بانو پکاری: ضامنِ عباس کو بلاؤ
لوگو کہو سکینہ سے لاؤ چچا کو لاؤ
انگلی پکڑ کر فضّہ کی سوئے فرات جاؤ
حضرت تڑپ رہے ہیں علم دار سے ملاؤ
بھیجا تھا کیوں جو اُن کو نہیں اب بلاتی ہو
عاشق ہو کیسی باپ کو اپنے رلاتی ہو
سہمی ہوئی سکینہ قریب آئی ننگے پا
ننھے سے ہاتھ جوڑ کے حضرت سے یہ کہا
میں جاؤں بابا جان؟ نہ آئیں اگر چچا
ضامن دیا ہے لو مجھے جھوٹا کریں گے کیا
ایسے تو وہ نہیں ہیں کہ وعدہ بھلائیں گے
فرما گئے ہیں نہر سے آگے نہ جائیں گے
شہ رو کے بولے: ٹوٹ پڑا ہم پہ آسماں
سچے ہیں بھائی، ٹھیک تمہارا بھی ہے بیاں
اچھا نہ آگے جائے گا حیدر کا وہ نشاں
کیا نہر پر اجل نہیں آ سکتی میری جاں
دریا پہ کون روکنے والا قضا کا ہے
دو لاکھ سے مقابلہ تیرے چچا کا ہے
یہ سن کے ہو گئی وہ سراسیمہ اور کہا
ہے ہے یہ اب کھلا مجھے بہلا گئے چچا
لائے کہیں صحیح و سلامت انہیں خدا
یوں روٹھوں میں کہ ان کو بھی معلوم ہو بھلا
مجھ کو بھی ضد ہے پیاس سے جاں اپنی دوں گی میں
پانی بھی ان کا لایا ہوا اب نہ لوں گی میں
یہ ذکر تھا کہ نہر سے ماتم کا غل اٹھا
نوحہ یہ تھا کہ ‘وا ولَدِی وا مصیبتا’
اکبر لپٹ کے رونے لگے شہ سے اور کہا
دادا کی روح روتی ہے، مارے گئے چچا
ان کی عزا کا آپ بھی سامان کیجیے
شہ بولے چاک میرا گریبان کیجیے
ناگہ ندا یہ آئی: میں قربان یا حسین
آقا حسین، قبلۂ ارض و سما حسین
اے میرے وقتِ نزع کے حاجت روا حسین
اے جاں بلب غلاموں کے مشکل کشا حسین
ہچکی لگی ہے دم کو قرار ایک دم نہیں!
بالیں پہ میری آہ تمہارا قدم نہیں!
شہ نے کمر پکڑ کے کہا: ہائے بھائی جاں
جانا نہ بے ملے ہوئے ہم آئے بھائی جاں
اللہ تم تلک ہمیں پہنچائے، بھائی جاں
دھڑکا یہ ہے نہ غش کہیں آ جائے بھائی جاں
گو نورِ چشم تھامے ہوئے ہاتھ میرا ہے
اس پر بھی دونوں آنکھوں کے آگے اندھیرا ہے
اکبر کو ساتھ لے کے چلے شاہِ کربلا
یاں قبۂ خیام گرے ہِل کے جا بجا
دوڑی سکینہ ڈیوڑھی سے، اور رو کے دی صدا
ہے ہے ستم ہوا، ارے لوگو غضب ہوا
بابا سوئے فرات ابھی ننگے سر گئے
لو صاحبو، ہمارے چچا جان مر گئے
واں شہ کو نہر پر گہرِ مدعا ملا
پر لال خون میں وہ دُرِ بے بہا ملا
مچھلی کی طرح شیر تڑپتا ہوا ملا
آنکھیں عطش سے بند ملیں، منہ کھلا ملا
دیکھا کہ روحِ پاک سوئے حق رجوع ہے
رکتی ہے سانس موت کی ہچکی شروع ہے
یہ دیکھتے ہی آگے بڑھے اکبرِ جواں
بڑھنا تھا بس کہ ہو گئے کپڑے لہولہاں
دیکھا کہ دھار خون کی سینے سے ہے رواں
حضرت نے پوچھا: کیا ہے؟ کہا: کیا کروں بیاں
نوکِ سناں چچا کے جگر میں در آئی ہے
کیا بے جگہ کسی نے یہ برچھی لگائی ہے
لاشے پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ نام دار
جھک کر کہا یہ کان میں ہو ہو کے برقرار
ہم دم، رفیق، دوست، وفادار، جاں نثار!
بازو، جگر، ضیائے بصر، رونقِ کنار
ہر زخم پر حسین فدا ہو، نثار ہو
آنکھوں کو کھولو، بات کرو ہوشیار ہو
سننا تھا یہ کہ ہونٹ علم دار نے ہلائے
شہ نے جو کان لب پہ دھرے تو سنا، یہ ہائے
چپکے سے کہہ رہے ہیں ‘میں صدقے حضور آئے’
بچپن سے ناز آپ نے کیا کیا مرے اٹھائے
اپنا غلام کہہ کے پکارو تو بولیں ہم
آئی نہ ہو سکینہ تو آنکھوں کو کھولیں ہم
یہ کہہ کے بے کسوں کے مددگار مر گئے
حمزہ سدھارے جعفرِ طیار مر گئے
جبریل بولے حیدرِ کرار مر گئے
اب مصطفیٰ کے سارے علم دار مر گئے
مولا جدا نہ بھائی کے لاشے سے ہوتے تھے
شانوں کا خون چہرے پہ مل مل کے روتے تھے
مَل کر لہو جبیں پہ امامِ امم چلے
لاشے سے مڑ کے بولے کہ لو بھائی ہم چلے
اکبر اٹھا کے کاندھے پہ مشک و علم چلے
دو حشر سوئے خیمۂ اہلِ حرم چلے
سقے کو ڈھونڈتے ہوئے گھر میں پھرے حسین
پھر ہائے بھائی کہہ کے زمیں پر گرے حسین
بانو نے رو کے پوچھا علم دار کیا ہوئے
بولے تمہاری بیٹی پہ پیاسے فدا ہوئے
شبیر کے حقوق سب ان سے ادا ہوئے
ہم مبتلائے صدمۂ شرم و حیا ہوئے
اس بے کسی میں سوگ کا سامان کیا کریں
عباس کے یتیموں پہ احسان کیا کریں
اس نے کہا کہ سچ ہے نہ مقدور و نے وطن
موجود ہے سکینہ و اکبر کا پیرہن
عباس کے یتیموں کو بخشیں شہِ امم
پہنیں پدر کا خلعتِ ماتم وہ گل بدن
چادر کو پھاڑ کر کفنی اب بناتی ہوں
رنڈ سالہ اُن کی بیوہ کی خاطر میں لاتی ہوں
زیرِ علم بچھائی نبی زادیوں نے صف
بیوہ بھی آئی کہتی ہوئی ‘یا شہِ نجف’
سر ننگے بیٹی اِس طرف اور بیٹا اُس طرف
ملبوس لائی بچوں کا بانوئے باشرف
یہ پیرہن تو سقے کی اولاد کے لیے
اور سادہ کپڑے بیوۂ ناشاد کے لیے
آئی نظر جو اکبرِ مظلوم کی قبا
تھرائی تڑپی بیوۂ عباسِ باوفا
اور دونوں ہاتھ جوڑ کے بانو سے یہ کہا:
ٹھہرو خدا کے واسطے، ہے ہے یہ کیا کیا
اکبر کے کپڑے خلعتِ ماتم میں دیتی ہو
زینب کھڑی ہیں ان سے نہیں پوچھ لیتی ہو
کیوں لائیں فرشِ سوگ پہ بن بیاہے کا لباس؟
زینب بھی بے حواس ہیں، لونڈی بھی بے حواس
وسواس ہے خوزادے کی جانب سے بے قیاس
میٹھا برس تو خیر، غضب ہے یہ بھوک پیاس
سب کنبہ اب تو جیتا ہے اکبر کی آس پر
صدقہ اتاروں بچوں کو میں اس لباس پر
خوزادے = شہزادے
اکبر پہ جو کہ آنی ہو میرے پسر پہ آئے
اللہ شاہزادے کا سہرا تمہیں دکھائے
کُرتی سکینہ جان کی اور میری بیٹی، ہائے
بس اب سدھاریے کہ مرا سایہ پڑ نہ جائے
پُرسے سے سرفراز نہ نہ فرمائیے مجھے
یہ سادے کپڑے آپ نہ پہنائیے مجھے
رو کر کہا یہ بانو نے اس نیک ذات سے
بس بس کلیجہ پھٹتا ہے ہر ایک بات سے
رنڈ سالہ پہنو فاطمہ کبریٰ کے ہات سے
یہ نامراد بیوہ ہے شادی کی رات سے
بیٹی حسین کی ہے بہو یہ حسن کی ہے
گھونگھٹ میں فکر دولھا کی خاطر کفن کی ہے
رو رو کے بین فاطمہ کبریٰ نے یہ کیے
ہے ہے دولہن بنی تھی میں ان کاموں کے لیے
بس اے دبیر خوب صلے نظم کے لیے
تائیدِ غیب کے ہیں نمونے یہ مرثیے
بحرِ رواں ہے یا کہ طبیعت ملی ہے یہ
سقائے اہلِ بیت ؑ کی دریا دلی ہے یہ