ایام عزائے حسینیؑ کیلئے ضابطہ عزاداری جاری ؛ موسوی جونیجو معاہدے کے تحت تمام مجالس و جلوس کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے ، علامہ حسین مقدسی
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ آغاسیدحسین مقدسی نے محرم الحرام کیلئے 14 نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کر دیا
محسنِ انسانیت امام حسین ؑکی ابدی وسرمدی قربانی کی یاد میں عزاداری عقیدت و مودت کے ساتھ منائیں گے، علامہ حسین مقدسی
راہ ولاء وعزاء میں کسی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے قواعد و ضوابط میں شامل عزاداری مخالف غیر آئینی پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں،
قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے نقشِ قدم پر چل کر عزاداری کی ہرآن تحفظ کریں گے، شعائر عزاء کی عزت وحرمت کی حفاظت اپنی جانوں سے بڑھ کر کریں گے
دین و وطن کے بدخواہوں اور فتنوں سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیلئے دروازے کھلے ہیں،مشنِ حضرت زینب وزین العابدین عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
ایران امریکا معاہدہ دنیائے انسانیت کے لیے خوش آئندہے، استعمار و استکبار کی شکست اور علی والوں کی فتح کے ڈنکے دنیا میں بج رہے ہیں،
آزاد کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جائے،افہام وتفہیم کی راہ اپنائی جائے اور فریقین اپنے رویوں میں لچک پیدا کر کے دوریوں کو محبت وامن میں بدل دیں
ملک بھر میں ماتمی جلوسہائے عزا 21مئی 1985کے موسوی جونیجو معاہدے کے تحت برآمد ہونگے جن میں کسی قسم کی رخنہ اندازی برداشت نہیں کی جائے گی
عزاداران و بانیان کے مسائل کے حل اور امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے حکومت وفاقی وزارت داخلہ سمیت پانچو ں صوبوں بشمول آزاد کشمیر میں محرم کنٹرول رومز تشکیل دے
مجالس و جلوس کے انعقاد میں نظم و نسق اور وقت کی پابندی کو ہر قیمت پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے حساس مقامات پر قبل ازوقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں اورانہیں فوج کے سپرد کیا جائے۔
سربراہ علامہ حسین مقدسی نے پریس کانفرنس میں باور کرایا کہ امن و سلامتی اور اتحاد و یکجہتی کے لئے رہبر تشیع آقائے موسوی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں
سربراہ ٹی این ایف جے کا ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع علی ؑ مسجد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب؛تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا مرکزی محرم کمیٹی عزاداری سیل قائم کردیا گیا، علامہ بشارت امامی کنوینر ہوں گے
راولپنڈی ( ولایت نیوز)سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی ؒ کی تاسی میں ہیڈکوارٹر مکتب ِتشیع علی مسجد میں پرہجوم پریس کانفرنس میں محرم الحرام کے لئے 14 نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کر تے ہوئے باور کرایا کہ محرم الحرام کے دوران قیام امن اور دشمنانِ دین و وطن کی سازشوں کو قلع قمع کرنے اور بین المکاتب ہم آہنگی کے فروغ اور وطنِ عزیز کی عزت وحرمت وشرف کو دوبالا کرنے مثبت کرداراداکریں۔

علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا کہ امام حسین محسنِ دین وشریعت اور انسانیت ہیں جن کی لازوال ابدی وسرمدی قربانی کی یاد میں عبادتِ عزاداری تزک و احتشام عقیدت و مودت اور روحِ بندگی سمجھتے ہوئے منائیں گے، راہ ولاء وعزاء میں کسی قدغن، پابندی اور روکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے قواعد و ضوابط میں شامل عزاداری مخالف غیر آئینی پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں، مومن فقط احکام خداوندی کا پابند ہے بلا جواز غیر آئینی وغیر قانونی پابندی کسی صورت قبول نہیں، دنیا یاد رکھے شیعیانِ حیدر کرار کی خلقت ولاء و عزاء کی خاطر ہوئی ہے اپنی غرضِ خلقت سے سرِ مُو انحراف نہیں کریں گے۔ پیشوائے تشیع آقائے موسوی کے نقشِ قدم پر چل کر عزاداری کی ہرآن حفاظت کریں گے، شعائر عزاء کی عزت وحرمت کی حفاظت اپنی جانوں سے بڑھ کر کریں گے، دین و وطن کے بدخواہوں اور فتنوں سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور تمام اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں لیکن مشنِ حضرت زینب وزین العابدین عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران امریکا معاہدہ دنیائے انسانیت کے لیے خوش آئند ہے، امریکی و اسرائیلی جنگی جارحیت میں استعمار واستکبار کی شکست اور علی والوں کی فتح کے ڈنکے پوری دنیا میں بج رہے ہیں، پاکستان نے مصالحت کی ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں اور استعماری سرغنہ کو جنگ سے نکلنے کا راستہ ہموار کیا اس تاریخی کردار کی تحسین ہونی چاہیے، امریکا کو بھی پاکستان کے ساتھ یہی کردار ادا کرنا چاہیے کہ وہ جوہری فلیش پوائنٹ کشمیر کے حل میں بنیادی کردار ادا کرے، اسی طرح پاکستان کی معاشی مشکلات کا بھی ازالہ کرے ڈالروں کی برسات مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ کچھ پھوار پاکستان پر بھی کی جاے تاکہ دہشت گردی اور خوارج کے فتنوں سے نمٹا جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں علامہ مقدسی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جائے، افہام وتفہیم کی راہ اپنائی جائے اور فریقین اپنے رویوں میں لچک پیدا کر کے دوریوں کو محبت وامن میں بدل دیں۔ ضابطہ عزاداری کے نکات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ماتمی جلوسہائے عزا ۲۱ مئی ۱۹۸۵ کے موسوی جونیجو معاہدے کے تحت برآمد ہونگے جن میں کسی قسم کی رخنہ اندازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت موسوی جونیجو معاہدے میں ریاست کے ساتھ طے پانے والے فارمولے کے مطابق جلوسہائے عزا کی عزت و حرمت کے ساتھ برآمدگی کو یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عزاداران و بانیان کے مسائل کے حل اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے حکومت وفاقی وزارت داخلہ، پانچو ں صوبوں بشمول آزاد کشمیر میں ضلعی سطح تک محرم کنٹرول رومز تشکیل دے اور انہیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی محرم کمیٹی عزاداری سیل کے مرکزی و علاقائی کنٹرول رومز سے مربوط بنائے۔ علامہ مقدسی نے کہا کہ عزاداری ہمارا بنیادی و آئینی حق ہے جس میں کوئی رخنہ اندازی قبول نہیں کی جائے گی، محرم الحرام کو ہوا بنا کر پیش کرنے کی روش ترک کی جائے اور سیکیورٹی کے نام پر عزاداری ِحسین ؑ کے پروگراموں کو محدود و مسدود کرنے اور بانیان مجالس و جلوس کو ہراساں کرنے سے اجتناب کیا جائے۔نیز ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے عزاداری پرعائد کی گئی غیر آئینی پابندیوں کے ایس اور پیز کا فی الفور خاتمہ کیا جائے۔سربراہ ٹی این ایف جے نے کہا کہ حکومت انسداد دہشتگردی اور امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر بلا رو رعایت عملدرآمد یقینی بنائے۔ شرپسند اور دہشتگرد کا کوئی مذہب و مسلک نہیں ہوتا لہٰذا کالعدم جماعتیں پرانے یا نئے جس نام سے بھی ملقب ہوں یا جس لبادے میں بھی ملبوس ہوں انکی سرگرمیوں پر عملی اور ٹھوس پابندی عائد کی جائے اور ان کے رہنماوں کو شیڈول فورمیں ڈالا جائے، جبکہ شیڈول فورمیں پھنسے برامن و بیگناہ عزاداروں کے نام خارج کیئے جائیں۔
علامہ مقدسی نے واضح کیا کہ بانیان مجالس و جلوس سیکورٹی اداروں سے تعاون کرتے ہوئے خود بھی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔اس ضمن میں مختار فورس اور ابراہیم سکاوٹس (رجسڑڈ) کے رضاکاروں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ مجالس و جلوس کے انعقاد میں نظم و نسق اور وقت کی پابندی کو ہر قیمت پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو عزاداری کی روح کے منافی ہو۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حساس مقامات پر قبل ازوقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، اورانہیں فوج کے سپرد کیا جائے۔انہوں نے ضابطہ عزاداری کے نکات واضح کرتے ہوئے کہا کہ نیاز و سبیل بغیر تصدیق کے وصول نہ کیے جائیں، اور کسی کو عزاداری کے مقامات پر تلاشی کے بغیر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
آغا مقدسی نے کہ انتظامیہ کو بانیان مجالس و جلوس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں اور کوئی ایسا حکم لاگو نہ کیا جائے جس سے پاکستان کے شہریوں کے آئینی حقوق سلب ہوں، امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کا تاثر پیدا ہو، یاانہیں عباداتِ عزا کی انجام دہی میں دشواری کا سامنا ہو۔انہوں نے علمائے کرام و ذاکرین پر زور دیا کہ مثبت انداز میں پیغام ِحسینیت ؑ کا ابلاغ کریں اور اتحاد و یکجہتی کے فروغ کو ہر شے پر مقدم رکھیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ تمام مکاتب فکر ایکدوسرے کے عقائد و نظریات کا مکمل احترام کیا جائے، اپنے عقیدے کو چھوڑو مت اوردوسرے کے عقیدے کو چھیڑو مت کے اصول پر کاربند رہا جائے۔
علامہ مقدسی نے کہا کہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ شہدائے کربلا کی قربانیوں کو اجاگر کریں اور ایام عزائے حسینی ؑکے دوران موسیقی، ڈرامے اور طربیہ پروگرام بند رکھے جائیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ مجالس و جلوس کے راستوں میں روشنی و صفائی کا انتظام کیا جائیاور دوران ِ مجالس و جلوس بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کیا جائے۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے اپیل کی کہ سیاسی جماعتیں عشرہ محرم کے دوران سیاسی سرگرمیاں معطل رکھیں اور امام ِ عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی یاد کو ترجیح دی جائے۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا کہ مسلمہ مکاتب فکر شیعہ سنی میں سے کسی کو بھی غیر مسلم قرار دینے کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ حکومت سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھے اور نفرت و اشتعال پھیلانے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر علامہ مقدسی نے ملک وقوم کی سلامتی و استحکام، قیام امن اور باہمی رواداری و احترام کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ازاں بعد سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے صحافیوں سے ملاقات کی اور ان کے جملہ مسائل کے حل کے دعائیں کیں۔
