مظلومِؑ کربلا کی عزاداری کو من پسند سانچوں میں ڈھالنے کے بجائے سیرتِ زینبؑ و زین العابدینؑ کی اتباع کی جائے۔ علامہ آغا حسین مقدسی
وطنِ عزیز کودرپیش سیکورٹی چیلنجز پر حکومت قوم کو اعتماد میں لے کر متفقہ ایکشن پلان پیش کرے۔ مقدسی
ملکی سالمیت کو لاحق مہلک وائرس اور نا سوروں کے خلاف جرأت مندانہ اقدام کیے جائیں قوم بہادر سپاہ کی پشت پر کھڑی ہے
عزاداریِ حسینؑ خودکار روحانی دفاعی نظام اور تائیدِ غیبی سے تہذیبِ عزاءکی حفاظت کرتی ہے
ملک میں بیرونی مداخلت و دہشت گردی کو اقوامِ متحدہ میں اٹھایا جائے، بھارتی فنڈڈ پراکسیز نے ملک لہولہان کر رکھا ہے
پاک وطن کی حفاظت کے لیے قوم کی نگاہیں بہادر افواج پر مرکوز ہیں۔ سربراہ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ
واہ کینٹ (ولایت نیوز ) سربراہ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر حکومت قوم کو اعتماد میں لے کر متفقہ ایکشن پلان پیش کرے، ازلی دشمن شہہ رگ پر شست لگائے بیٹھا ہے جبکہ حکمرانوں کی توجہ صرف اقتدار کی بقاء کی جانب مبذول ہے، پارلیمان کے ایوان صرف مراعات کے لیے نہیں قومی امنگوں پر مبنی پالیسی سازی کی خاطر سجائے گئے ہیں، ملکی سالمیت کو لاحق مہلک وائرس اور نا سوروں کے خلاف جرأت مندانہ اقدام کیے جائیں قوم بہادر سپاہ کی پشت پر کھڑی ہے، عزاداریِ حسینؑ خود کار روحانی دفاعی نظامِ اور تائید غیبی سے تہذیبِ عزاءکی حفاظت کرتی ہے، مظلومِؑ کربلا کی عزاداری کو من پسند سانچوں میں ڈھالنے کے بجائے سیرتِ زینبؑ و زین العابدینؑ کی اتباع کی جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سردار محمد عباس ملک مالاکنڈ اسٹاپ واہ کینٹ میں مجلسِ عشرہ شہیدۂ زندان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ مقدسی نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں بیرونی مداخلت و دہشت گردی کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے، بھارت کی پراکسیز نے ملک لہولہان کر رکھا ہے اور حکومت وزراء کے محکموں کی تبدیلی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا پاک وطن کی حفاظت کے لیے قوم کی نگاہیں بہادر افواج پر مرکوز ہیں۔ سربراہ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جاتا تو دہشت گردوں کو سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوتی۔ انہوں واضح کیا کہ ہیڈکوارٹر مکتبِ تشیُع سے ولایتِ علیؑ، عزائے حسینؑ، حرمتِ سادات، احترامِ مرجعیت اور مرکزیت کے اصولوں کا دفاع جاری رہے گا۔ مجلسِ عزا سے علامہ باقر نقوی اور دیگر ذاکرین نے بھی خطاب کیا۔
