حریت، ایثار، قربانی، حمیت اور وفا۔۔ سارے راستے جا رہے ہیں سوئے بابِ کربلا : قدسیہ قدسی کی تقدسی شاعری

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریر:پروفیسر سید محمد اصغر کاظمی (صدر، تخلیق کار انٹرنیشنل کراچی چیپٹر)

اردو ادب میں تقدسی شاعری ایک نہایت معتبر، پاکیزہ اور باوقار روایت کی امین ہے۔ اس صنفِ سخن نے ہر عہد میں ایسے شعراء و شاعرات کو جنم دیا جن کے کلام میں عشقِ رسولِ اکرم ﷺ، محبتِ اہلِ بیتِ اطہارؑ اور اسلامی اقدار کی خوشبو پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی۔ یہ شاعری محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، ایثار اور روحانی شعور کی ترجمان بھی ہے۔ عصرِ حاضر میں جن شاعرات نے اس روایت کو اپنے فکری شعور اور فنی ریاضت سے نئی تازگی بخشی ہے، ان میں قدسیہ قدسی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔

قدسیہ قدسی کا تعلق ایک ایسے علمی، ادبی، دینی اور تہذیبی خانوادے سے ہے جس کی دونوں جانب علم و فضل اور روحانی اقدار کی روشن روایت موجود ہے۔ ان کے دادا جعفری سادات سے جبکہ نانا کاظمی سادات سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی پاکیزہ خاندانی ورثہ ان کی شخصیت کی فکری تعمیر کا بنیادی سرمایہ بنا۔ بچپن ہی سے انہیں ایسا ماحول میسر آیا جہاں علم، ادب، دین اور تہذیب کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی تربیت کا اثر ہے کہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہارؑ سے بے پناہ محبت، دینی شعور، اخلاقی اقدار اور روحانی وابستگی پوری قوت کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی دیگر اصناف، خصوصاً سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا، لیکن تقدسی شاعری ان کی ادبی شناخت کا سب سے روشن باب ہے۔

اپنے ایک خوب صورت سلام میں وہ واقعۂ کربلا کی ابدی عظمت کو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں:

دیکھو تو کیا درس دیتی ہے کتابِ کربلا
اکمل و کامل ملا ہم کو نصابِ کربلا
عیشِ دوراں تختِ شاہی زر، جواہر تج دیے
ہیچ تھا سب کچھ پہ افضل انتخابِ کربلا

سلام کے ابتدائی اشعار میں شاعرہ نے کربلا کو انسانیت کی دائمی درسگاہ قرار دیا ہے۔ "کتابِ کربلا” اور "نصابِ کربلا” جیسی تراکیب نہایت معنی آفریں ہیں، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ واقعۂ کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے حق شناسی، استقامت، صبر، ایثار اور قربانی کا مکمل منشور ہے۔ دوسرے شعر میں حضرت امام حسینؑ کے اس عظیم فیصلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے حق کی سربلندی کے لیے دنیا کی تمام ظاہری آسائشوں، اقتدار، زر و جواہر اور شاہانہ زندگی کو تج دیا۔ شاعرہ نے "انتخابِ کربلا” کی ترکیب کے ذریعے یہ حقیقت نہایت مؤثر انداز میں بیان کی ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ نے دنیاوی مفادات کے مقابلے میں رضائے الٰہی کو ترجیح دی۔ یہی شعر سلام کے فکری حسن کو مزید جلا بخشتا ہے۔
اسی تسلسل میں شاعرہ کہتی ہیں:

حریت، ایثار، قربانی، حمیت اور وفا
سارے راستے جا رہے ہیں سوئے بابِ کربلا
دھوپ، چادر، پیاس، پانی، جلتے خیمے اور لہو
جی یہ چاہتا ہے کہ لکھ دوں انتسابِ کربلا

ان اشعار میں شاعرہ نے کربلا کو تمام انسانی عظمتوں کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ آزادی، ایثار، قربانی، حمیت اور وفا جیسی بلند اقدار کو انہوں نے بابِ کربلا سے وابستہ کیا ہے۔ "بابِ کربلا” ایک مؤثر علامت ہے جو حق، صداقت اور روحانی رفعت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگلے شعر میں صرف چند الفاظ کے ذریعے میدانِ کربلا کی ایسی دل گداز منظر کشی کی گئی ہے کہ قاری خود کو اسی فضا میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ "دھوپ”، "پیاس”، "جلتے خیمے” اور "لہو” جیسے الفاظ نہ صرف تصویریت پیدا کرتے ہیں بلکہ واقعۂ کربلا کے درد، صبر اور استقامت کو بھی پوری شدت کے ساتھ نمایاں کرتے ہیں۔ یہی اختصار، علامتی اظہار اور منظر نگاری شاعرہ کے فنی شعور کی بہترین مثال ہے۔

سلام کے اختتامی اشعار میں شاعرہ فرماتی ہیں:

روزِ محشر جس گھڑی ہوگی عدالتِ عدل کی
جابر و قاہر بھی دے گا سب حسابِ کربلا
معرکے دنیا میں ہوتے آئے ہیں قدسی بہت
پر نہیں ایسا کہ کہیے ہے جوابِ کربلا

اختتامی اشعار میں شاعرہ نے واقعۂ کربلا کی ابدی معنویت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر عدلِ الٰہی کے حضور ہر ظالم کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ "حسابِ کربلا” ایک ایسی بامعنی ترکیب ہے جو شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو ظلم کے خلاف دائمی احتساب کی علامت بنا دیتی ہے۔ آخری شعر میں شاعرہ نے اپنے تخلص "قدسی” کو نہایت خوب صورتی سے برتا ہے، جو حسنِ تخلص کی عمدہ مثال ہے۔ وہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ تاریخِ عالم میں بے شمار معرکے رونما ہوئے، لیکن حق و باطل کی وہ فیصلہ کن کشمکش جو کربلا میں برپا ہوئی، اپنی معنویت، مقصد اور نتائج کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی حق کے متلاشی ہر انسان کے لیے روشنی کا مینار ہے۔

قدسیہ قدسی کی تقدسی شاعری کا مطالعہ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ ان کے ہاں عقیدت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ فکری پختگی، روحانی بصیرت اور اخلاقی شعور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر، زبان شستہ، اظہار متوازن اور فکر نہایت بلند ہے۔ وہ واقعۂ کربلا کو صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حریت، ایثار، عدل، وفا اور انسانی وقار کی ابدی علامت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہی اوصاف قدسیہ قدسی کو عصرِ حاضر کی قابلِ احترام تقدسی شاعرات میں ایک نمایاں مقام عطا کرتے ہیں اور ان کا یہ سلام ان کے فکری وقار، ادبی شعور اور اہلِ بیتِ اطہارؑ سے والہانہ عقیدت کا خوب صورت آئینہ دار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.