زینبِؑ امام رضاؑ کریمہ اہلبیتؑ معصومہ قم کی دردناک شہادت

ولایت نیوز شیئر کریں

امام صادق علیہ السلام اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

… تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى (س) و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم۔

میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون ۔ جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے۔

راوی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی۔ یہ حدیث قم کی قداست کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف ۔ جو روایات سے ثابت ہے ـ ریحانۃ الرسول (ص)، کریمۂ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سر زمین میں شہادت پا کر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنا دیا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ قم  امام رضا علیہ السلام کے مجبوراً شہر مرو کی طرے سفر کرنے کے ایک سال بعد سن 201ہج  میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے مقصد سے عازم سفر ہوئیں راستے میں ساوہ پہنچیںلیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہل بیت کے مخالف تھے لہٰذا انھوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑ دی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہو گئے۔

حضرت  فاطمہ معصومہ  غم و الم کی شدت سے مریض ہو گئیں اور ایک روایت کے مطابق ساوه میں ایک شقی  عورت نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی پیاری دختر  کو ز ہر پلا دیا۔

زہر کے اثرات کے سبب حضرت معصومہ  سلام اللہ علیھا بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جا سکیں گی اور زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا: مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔اس وجہ سے حضرت معصومہ قم وہاں سے قم روانہ ہو گئیں۔

عباسی حکمرانوں حکمرانوں کا مسموم امام کی بیٹی اور مسموم امام کی بہن کو زہر پلانا ، دشمنان اہل بیت کا ان کے قافلے سے نبرد آزما ہونا اور معصومہ کا سفر اس بات کا غماز ہے کہ ظالم حکمران امام رضا ؑ کی خواہر سے ایسے ہی خوفزدہ تھے جیسے یزیدیت شریکۃ الحسین ؑ سیدہ زینب بنت علی ؑ سے خوفزدہ تھی ۔

المختصر بزرگان قم کو جب امام کاظم کی دختر اور امام رضا علیہ السلام کی خواہر گرامی کی ۤمد کا معلوم ہوا تو حضرت زہرا ؑ کی دختر نبیؐ کی نواسی  کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، موسی بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ(س) اہل قم کے عشق اہل بیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں۔ موسی بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا۔(تاریخ قدیم قم ص213)

حضرت معصومہ  نے 17 دن اس شہر امامت و ولایت میں گذارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لیے بے قرار روح قفس خاکی سے سوئے افلاک پرواز کر گئی۔ سیده دعوت حق کو لبیک کہہ کر عاشقان امامت و ولایت کو سوگوار کر گئیں۔ یہ  12 ربیع الثانی سن 201 ہجری کا واقعہ ہے۔

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا۔ کفن پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی۔ لیکن دفن کے وقت مَحرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے۔ آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ اس عظیم کام کو انجام دیں، لیکن وہ بزرگ اور دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت(س) کے جنازے کو ہر کوئی سپرد خاک نہیں کرسکتا تھا۔ لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگاہ لوگوں نے دو سواروں کو آتے ہوئے دیکھا وہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے تھے۔ جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پھنچے تو نیچے اترے اور کچھ کہے سنے بغیر نماز جنازہ پڑھی اور اس ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسد اطہر کو داخل سرداب دفن کردیا۔ اور کسی سے گفتگو کیے بغیر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا۔(تاریخ قدیم قم ص 214)

آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی(رہ) فرماتے ہیں کہ بہ امر بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لیے قم تشریف لائے اور چلے گئے۔

سیدہ معصومہ(س) کو دفن کرنے کے بعد موسی بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا۔ مگر حضرت زینب بنت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام قم تشریف لائیں تو انھوں نے مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا۔(سفینة البحار ج2، ص 376)

قائدملتِ جعفریہ آغا سیدحامدعلی شاہ موسوی  نے کریمہ اہلبیتؑ حضرت فاطمہ معصومہ قم ؑ بنت حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کی وفات کی مناسبت سے 12 ربیع الثانی کو’’یوم عزا“  منانے ک اعلان کیا ہے ۔اس موقع پر مذہبی تنظیموں اور دینی اداروں کے زیر اہتمام امام بارگاہوں اورعزاخانوں میں مجالس عزا ہوں گی،خواتین کی مجالس میں تابوت حضرت معصومہ قم ؑ  ؑ برآمدکیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.