باب الحوائج امام کاظمؑ کی توہین کے خلاف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی کال پر پورے ملک میں احتجاج ؛ اندر کے دشمن کو نہ پکڑا تو سب اجلاس بیکار، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ، اہلبیت اطہارؑ اورصحابہ کبار ؓ کی شان میں گستاخی کیخلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے
قومی سلامتی پر عسکری و سیاسی قیادت کا اکٹھ لائق تحسین، کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی ترک کی جائے۔ حامدموسوی
اندر کے دشمن پر ہاتھ نہ ڈالا تو قومی سلامتی کے سب اجلاس بیکار چلے جائیں گے،سرکاری کمیٹیوں میں کالعدم گروپوں کی شمولیت ملک وقوم کیلئے خطرہ ہے
وطن عزیز خطرات کی زد میں ہے، ہم اسلام کے محسنوں کی توہین اور امن کے خلاف سازشوں پر خاموش نہیں رہ سکتے،حکمران سیاسی مصلحتوں کا شکار نہ ہوں
بدلتے حالات کے مقابلے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا،خانوادہ رسالت کی شان میں گستاخی قہر الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے
اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بننے والوں کو بچانے کیلئے صحابہ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ قائدملت جعفریہ کاخطاب
سوشل میڈیاپر اہلبیت اطہار، صحابہ کبارکی شان میں گستاخی، منافرت کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ علامہ بشارت امامی
ٹی این ایف جے کی کال پراسلام آباد،کوئٹہ کراچی لاہور،لاڑکانہ،فیصل آبا اوردیگرشہروں میں احتجاجی مظاہرے، گستا خان آئمہ اہلبیت ؑ ور صحابہ کبارؓ کی توہین کرنے والوں کی گرفتاری کامطالبہ

اسلام آباد(ولایت نیوز ) قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کی اپیل پر جمعہ کو حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ، اہلبیت اطہارؑ اور صحابہ کبار کی توہین کیخلاف پرامن یوم احتجاج منایاگیا۔ اس موقع پر ملک بھرمیں مشترکہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

علمائے کرام اور ٹی این ایف جے کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو عبرت ناک سزادینے کامطالبہ اورشعائراللہ، مشاہیراسلام اوردین و وطن کے تحفظ و حرمت کیلئے ہرقربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اگراندر کے دشمن پر ہاتھ نہ ڈالا گیا تو قومی سلامتی کے سب اجلاس بیکار چلے جائیں گے، قومی سلامتی کے بارے میں عسکری و سیاسی قیادت کا اکٹھ لائق تحسین ہے وہ کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی ترک کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ قوم کے مجرموں بیرونی ممالک کے نمک خواروں کو نظریاتی کونسل، امن کمیٹیوں میں بٹھانا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ حضرت امام موسیٰ کاظم اورخانوادہ رسالت کی مخدرات کی شان میں گستاخی قہر الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

آقای موسوی نے مطالبہ کیاکہ اسلام کی جگہ ہنسائی کا سبب بننے والوں کو بچانے کیلئے صحابہ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس مرپرتشویش کااظہارکیاکہ وطن عزیز خطرات کی زد میں ہے سیاسی مصلحتوں اور بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوا جائے،ہم اسلام کے محسنوں کی توہین اور امن کے خلاف سازشوں پر خاموش نہیں رہ سکتے لہذابدلتے حالات کے مقابلہ کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔

ٹی این ایف جے اسلام آبادکی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی ریلی کی قیادت سیکرٹری جنرل سیدشجاعت علی بخاری،صدرکیپٹیل علامہ بشارت حسین امامی، مرکزی کنوینر یوم احتجاج کمیٹی سیدارشادحسین نقوی، آغاسیدمحمدمرتضیٰ ایڈووکیٹ، آغاسیدعلی روح العباس موسوی، ذوالفقارعلی راجہ،علمائے کرام اوردیگرعمائدین نے کی۔ شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ بشارت حسین امامی نے شوشل میڈیاپر اہلبیت اطہار، صحابہ کبارکی شان میں گستاخی، منافرت کو ہوادینے کی پرزورمذمت کرتے ہوئے اس مذموم کاروائی کو مشترکہ ازلی دشمن کی منظوم گھناؤنی سازش قراردیااورحکومت، اپوزیشن سمیت تمام دینی وسیاسی حلقوں اورمحب وطن قوتوں پرزوردیاکہ وہ دشمن کی ریشہ دوانی کوناکام کرنے کیلئے سیسہ پلائی دیواربن جائیں، حکومت اہلبیت اطہارؑ وصحابہ کبارکے گستاخوں آہنی شکنجے میں جکڑاکرعبرت ناک سزادے، پارلیمنٹ سے عجلت میں منظورکرائے گئے متنازعہ بلوں کوفی الفورواپس لے اورتمام مکاتب کیلئے قابل قبول بناجائے۔

اس موقع پرذوالقرنین حیدر کی جانب سے قراردادمتفقہ طورپرمنظورکی گئی جس میں باورکرایاگیاکہ یہ احتجاج ایک ایسے قبیح فعل و گستاخی و جسارت کے خلاف کیا جا رہا ہے جس میں ملک و قوم کے دشمنوں نے ایک مرتبہ پھرشان ِ اہل بیت و صحابہ کرام میں بدترین گستاخی کر کے پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو ملیا میٹ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے،سوشل میڈیا کے طلاطم خیز دورمیں ایسی مذموم کاروائی کے مہلک اثرات سے سبھی با خبر ہیں کہ منٹوں میں گمراہ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو وائرل کر کے کیسی کیسی آگ لگائی جا سکتی ہے،ایسے میں ابتسام الہی ظہیرکو اپنا رشتہ دار بتانے والے عبد الرحمن سلفی عرف آذان نے فرزاندان رسول ؐ آئمہ اہل بیت،حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ،حضرت امام تقی ؑ، حضرت امام نقی ؑ،حضرت امام حسن عسکریؑ،مخدر ات عصمت و طہارت کی شان میں سنگین توہین آمیز و گستاخانہ مغلظات بکے ہیں جونہایت قابل مذمت ہیں، قرارداد میں اس سلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں بانیان ِ اسلام اہلبیت رسول ؐکے خلاف ناپاک ترین جسارت کا ہونا لمحہ فکریہ قراردیتے ہوئے اس امرپرافسوس کااظہارکیاگیاکہ اب تک اس گستاخ و شاتم ِآئمہ اہلبیت ؑکونہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا۔قراردادمیں حکومت سے مطالبہ کیاگیاکہ وہ نیشنل ایکشن پلان کی ہرشق پر عمل کویقینی بنائے، نظریاتی کونسل، متحدہ علماء بورڈ، ہم آہنگی کمیٹیوں سمیت تمام ریاستی اداروں کو کالعدم جماعتوں سے پاک کیا جائے جو امن کے دشمنوں کی پشت پناہی کا کردار ادا کرہے ہیں۔ قراردادمیں نو تشکیل یکساں نصاب‘ تعلیم کوقرآن و سنت سے انحراف اور نظریہ اساسی سے متصادم قراردیتے ہوئے باور کرایا گیاکہ پاکستان کی بنیاد دوقومی نظریہ اوردین محمدی ؐپر استوار ہے جب ملک میں کوئی قانو ن قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا تو نصاب بھی تشکیل اور تبدیل نہیں کیا جاسکتا لہذاآئین کی روح او آئندہ نسلوں کا مستقبل بچانے کیلئے بڑے سے بڑا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔کیونکہ نیا نصاب حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ملک وقوم کو افتراق کی ایک نئی دلدل میں دھکیلنے کی سازش ہے اور نصاب کی تیاری میں مکتب تشیع کو سرے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا،

قراردادمیں زوردیاگیاکہ کسی ایک مسلک مکتب کا عقیدہ دوسرے پر ہرگز مسلط نہ کیا جائے نئے نصاب کے تحت شائع ہونے والی کتب کو منسوخ کیا جائے، آئینی اداروں کمیٹیوں کو متعصب اور بیرونی ممالک کے ایجنڈوں پر کام کرنیو الوں سے پاک کیا جائے،نصاب پر اتفاق ہونے کے بعد اسے مشتہر کیا جائے تاکہ صائب الرائے اس میں موجود اغلاط اور کمی بیشی کی نشاندھی کرسکیں۔ایک اورقراردادمیں متنازعہ نصاب کے بعدمسلم فیملی لاز1961آرڈینینس ترمیمی بل کو فقہ جعفریہ میں مداخلت قراردیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان طے شدہ مسائل سے مسلسل چھیڑ خانی کا نوٹس لینے کامطالبہ کیاگیا،قراردادمیں باورکرایاگیاکہ قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی واضح کرچکے ہیں کہ مکتب تشیع کو لاوارث نہ سمجھا جائے ہم حیدر کرار ؑ کے پیروکار ہیں قد م اٹھالیں تو پیچھے نہیں آگے ہی بڑھتے ہیں پرسنل ہی نہیں پبلک لاء میں بھی کسی کو ڈاکہ زنی نہیں کرنے دیں گے،

قراردادمیں حکومت سے مطالبہ کیاگیاکہ وہ گستاخ امام موسیٰ کاظم ؑ اہلبیت اطہار اور صحابہ کبار کے خلاف فوری کاروائی کرے اور گستاخوں کو قرار واقعی سزا دلوائے بصورت دیگر مقدسات وشعائراللہ کی حفاظت و تکریم کے لئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی جو لائحہ عمل دینگے پوری قوم اس پر عمل درآمد کر کے ضیائی مارشل لاء میں ایجی ٹیشن اور اسلام آباد کے سیکریٹریٹ پر پرچم حضرت عباس و پاکستان لگانے کی تاریخ دہرا سکتی ہے۔کراچی، کوئٹہ ہزارہ ٹاؤن، لاہور،پشاور، مظفرآباد، باغ ، کوہاٹ، شکارپور، لاڑکانہ، فیصل آباد،مریدکے، اٹھارہ ہزاری جھنگ، چینوٹ، جہلم دینہ، چکوال، اٹک اوردیگرشہروں میں پرامن یوم احتجاج کے موقع پراحتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.