ہوشیار خبردار! جس نظریے کو بھارت خلیج بنگال میں ڈبو نہ سکا بعض قوتیں اسے اپنے ہاتھوں غرق کرنا چاہتی ہیں قوم تیا ررہے خاموش نہیں بیٹھیں گے،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

جس نظریہ کو بھارت نہ ڈبو سکا‘ بعض قوتیں اسے اپنے ہاتھوں غرق کرنا چاہتی ہیں، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
قومی سلامتی کے ضامن ادارے ملک کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کی کوشش روکیں، حکومت انتہا پسندوں سے مسلسل بلیک میل ہو رہی ہے
آئین کے تحت قرآن و سنت کی تعبیر وہی ہوگی جو ہر فرقے کے نزدیک معتبر ہے آئینی ضمانت کو بلڈوز کرتے ہوئے فیملی لاز بل پاس کرایا گیا
ہر مسلم وغیر مسلم شہری کو اپنے عقائد کے مطابق تعلیم کا آئینی تحفظ میسر ہے نام نہاد یکساں نصاب نے مکتب تشیع کوعدم تحفظ میں مبتلا کردیا
کھلے عام مکتب تشیع اور قائد اعظم ؒکو گالی دی جا رہی ہے کالعدم جماعتیں کفر کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہی ہیں نیشنل ایکشن پلان اورپیغام پاکستا ن کہاں ہیں؟
ایک طرف ’کسی کے عقیدے کو چھیڑو مت اور اپنا عقیدہ چھوڑو مت‘کے پیغام اور دوسری جانب مکتب تشیع کے نوحوں اور نعروں پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے
غریب ضرور ہیں لیکن سودا باز نہیں! قوم تیا ررہے عقائد پر حملوں اورپاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کا سلسلہ نہ رکا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے
عالمین کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ زہرا ؑکے یوم ولادت و شہادت پر چھٹی دی جائے،خاتون جنت ؑکے ذکر پر پابندیوں کے بجائے ان کی فکر کوعام کیا جائے
پاکستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں خود کو لہولہان کرواکے پراکسی جنگوں کی سازشیں ناکام بنائیں منفی اقدامات اور بیانات سے پر ہیز کیا جائے، مجلس عزائے فاطمیہؑ سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ جس دو قومی نظریے کو بھارت خلیج بنگال میں ڈبو نہ سکا وطن عزیزمیں موجود بعض قوتیں اس نظریے کو اپنے ہاتھوں غرق کرنا چاہتی ہیں۔

ایام عزائے فاطمیہ ؑ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئےانہون نے کہا کہ قومی سلامتی کے ضامن ادارے پاکستان کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کی مکروہ کوششیں روکیں، حکومت انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلسل بلیک میل ہو رہی ہے، انتہاپسندوں سے امن کی بھیک مانگنے کا سلسلہ ترک کیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن استحکام اور ترقی چاہتے ہیں خود کو لہولہان کرواکے پراکسی جنگوں کی سازشیں ناکام بنائیں کسی بیرونی ملک کے پٹھو نہیں، غریب ضرور ہیں لیکن سودا باز نہیں،دین و وطن کی خاطر زمین پر بیٹھنا قبول کیا،عقیدہ ہر شے سے عزیزہے قوم تیار رہے عقیدے کیلئے بنائے گئے ملک میں عقائد پر حملوں او ر پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کا سلسلہ نہ رکا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے، منفی اقدامات اور بیانات سے پر ہیز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ تمام مکاتب کے نزدیک عالمین کی عورتوں کی سردار اور خاتون جنت ہیں ایام ولادت و شہادت پر چھٹی دی جائے،خواتین کو مثالی خواتین بناناہے تو حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے ذکر پر پابندیوں کے بجائے ان کی فکر کوعام کرنا ہوگا، پنجتن پاک کے ایام سرکاری طور پر منائے جائیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا جس کی تکلیف کانگرسیوں اور مہاسبھائیوں کو ہمیشہ رہی اوراسی نظریے کو توڑنے کیلئے پاکستان کو دولخت کیا گیا بفضل خدا پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے لیکن موجودہ حکومت کے دور کے اقدامات اور احکامات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب کوئی فرقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 227کے تحت قرآن و سنت کی تعبیر وہی ہوگی جو ہر فرقے کے نزدیک معتبر ہوگی لیکن آئین کی اس ضمانت کو بلڈوز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں فیملی لاز بل پاس کیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ آئین میں ہر مسلم غیر مسلم شہری کو یہ تحفظ دیا گیا کہ اسے اپنے عقائد کے مطابق تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن قرآن و سنت سے متصادم نام نہاد یکساں نصاب مسلط کرکے مکتب تشیع کوعدم تحفظ میں مبتلا کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزراء کی موجودگی میں کھلے عام مکتب تشیع اور قائد اعظم ؒکو گالی دی جارہی ہے کالعدم جماعتیں دندنا رہی ہیں کفر کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہی ہیں لیکن ان پر گرفت کرنے کی سکت کسی میں نہیں، نیشنل ایکشن پلان، پیغام پاکستا ن کہاں چلے گئے ہیں؟گذشتہ روز دارالحکومت میں سر عام کا فر کافر کے نعرے لگتے رہے لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ایک طرف کانفرنسوں سیمیناروں میں ’کسی کے عقیدے کو چھیڑو مت اور اپنا عقیدہ چھوڑو مت‘کے خوبصورت پیغام اوربھاشن دیے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب مکتب تشیع کے نوحوں اور نعروں پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے، حضرت فاطمہ زہراؑ کائنات کی وہ واحد ہستی ہیں جن کا استقبال نبی کریم ؐ کھڑے ہو کر کرتے تھے متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ رسالت کا جزو اور ٹکڑا ہیں جس نے انہیں اذیت دی اس نے خدااور رسول ؐ کو اذیت دی دشمنان زہراؑ سے برات ہر مسلمان کا ایمان ہے لیکن پاکستان میں اسے بین کر کے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک مخصوص گروہ کو خوش کرنے کیلئے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں حضرت ابو بکرؓکے دن منانے کی روش پر چلتے ہوئے بعد از خدا بزرگ ترین ہستیوں پنجتن پاک کے ایام بھی سرکاری طور پر منائے جائیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ ہم نے اللہ کے سوا کسی طاقت کے سامنے نہ جھکنا کربلا والوں سے سیکھا ہے ہمارے سارے کام خوشنودی خدا، رسول ؐخدا، آئمہ ہدی ٰ، پاکستان کی عزت و حرمت اور عوام کی فلاح کیلئے ہیں ہم اسی راہ حق و صداقت پر گامزن رہتے ہوئے ارفع مقاصد کیلئے سرگرم عمل رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.