ذاکرِحسینؑ کی شان : پورا عراق سید جاسم الطویرجاوی کے جنازے میں امڈ آیا

ولایت نیوز شیئر کریں

کئی عشروں تک گنبد امام حسین ؑ کے نیچے مجالس سے خطاب کا اعزاز رکھنے والے جا سم الطویرجاوی کویتی ہسپتال میں 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے
عراقی وزیر اعظم نے ان کے جسد خاکی کو کویت سے نجف اشرف لانے کیلئے خصوصی طیارہ روانہ کیا تھا
آخری رسومات میں علماء، مراجع عظام کے نمائندگان، مقدس حرموں کے خدام اور سیاسی و سماجی شخصیات سمیت لاکھوں عقیدت مندوں نے شرکت کی

کربلائے معلی (ولایت نیوز) ملاّ احمد مقدّس اردبیلی فرماتے ہیںکہ ہم لوگ طلاّب کے ہمراہ امام حسین کی زیارت کرنے کربلا جاتے تو ہمارے قافلہ میں ایک طالب علم تھا جو مصائب امام حسین بیان کیا کرتا اور خدانے اسے عجیب انداز مصائب دیا تھاعلاّمہ مقدّس اردبیلی کہتے ہیںہم امام حسین کے چہلم کے دن کربلا میں پہنچے تو دیکھا ہر طرف بھیڑ ہی بھیڑ ہے میں نے طالب علموں سے کہا : وہ طالب علم کہاں ہے جو مصائب پڑھا کرتا تھا کہانہیں معلوم وہ کہاں چلاگیا ،میں نے کہا جاؤ اسے ڈھونڈ کے لاؤ ۔ طالب علموں نے اندر بہت بھیڑ ہے آپ ادھر ہی ایک کونے کھڑے ہو کر زیارت پڑھ لیں تاکہ زائرین کے لئے مزاحمت ایجاد نہ ہو ۔میں نے طالب علموں کو جمع کر کے پوچھا کہ وہ طالب علم کہاں گیا تاکہ مصائب سناتا ،اتنے میں ایک عربی شخص مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور کہا: اے مقدّس اردبیلی کیا پروگرام ہے ؟ میں نے کہا : زیارت پڑھنا چاہتا ہوں۔کہااچھا بلند آواز سے پڑھو تاکہ میں بھی سن سکوں ۔میں نے بلند آواز سے زیارت پڑھی تو اس نے مجھے زیارت کے بعض لطیف نکات کی طرف متوجہ کیا اور کہا تم اس طالب علم سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا:ہم اس سے مجلس سننا چاہتے ہیں۔کہا اگر میں سنا دوں تو پھر؟ہم نے کہا : اگر پڑھنا جانتے ہوتو سنا دو ۔اب اس نے امام حسین کی ضریح کی طرف منہ کیا اور عجیب انداز میں مصائب پڑھا کہ ہمیں منقلب کردیا ۔اور پھر ایک جملہ کہا :یا اباعبداللہ یہ طلاّب اور میں اس منظر کو کیسے بھول ہیں جب آپ نے اپنی بہن زینب کو الوداع کیا تھا ۔علاّمہ مقدّس اردبیلی فرماتے ہیں: جب میں سر اٹھا کر دیکھا تو وہ عربی نوجوان وہاں سے غائب ہو چکا تھا اس وقت میں سمجھا کہ وہ امام زمانہ عجّل اللہ فرجہ الشّریف تھے ۔

امام حسین ؑ کے ذاکر کی اس سے بڑھ کو کیا فضیلت ہو سکتی ہے کہ عہد حاضر کے امام صاحب العصر والزمان ؑ خود مصائب خواں اور ذاکر حسین ؑ ہیں ۔ راہ امام زمانہ ؑ پر چلنے والے ایسے ہی ایک عظیم ذاکر عالمی شہرت یافتہ عرب خطیب سید جاسم الطويرجاوي اکتوبر کے پہلے عشرے میں کچھ عرصہ علالت رہنے کے بعد کویت کے ایک ہسپتال میں 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے انہیں ایک طویل عرصہ حرم امام حسین ؑ میں مجالس عزا پڑھنے کا اعزاز حاصل تھا ۔

عزاداری کے حلقے جاسم الطویرجاوی کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دے رہے ہیں عراقی وزیر اعظم نے ان کے جسد خاکی کو کویت سے نجف اشرف لے آنے کیلئے ایک خصوصی طیارہ روانہ کیا تھا ۔ کویت سے نجف ائر پورٹ پہنچنے کے بعد امام حسین ؑ کے مقبول ذاکر کی میت کو حرم مولا علی علیہ السلام نجف اشرف لے جایا گیا جہاں حرم مطہر امیر المؤمنین علی علیہ السلام میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں تشییع جنازہ کی گئی ۔ بعدازاں میت کو کربلائے معلی روانہ کردیا گیا۔

24 صفر 1442ھ بمطابق 12 اکتوبر 2020ء کو دوپہر کے وقت روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں سید جاسم الطويرجاوي طاب ثراه کی تشیع جنازہ اور زیارت کے مراسم ادا کیے گئے کہ جس میں علماء، مراجع عظام کے نمائندگان، مقدس حرموں کے خدام اور سیاسی و سماجی شخصیات سمیت ان کے لاکھوں عقیدت مندوں نے شرکت کی ۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پورا عراق کربلائے معلی میں امڈ آیا ہو ۔ ماتمی مواکب مرحوم کے جنازے کے دوران نوحے اور مصائب آل محمد پڑھتے رہے جنہیں سن سن کر عاشقان اہلبیت ؑ غم سے نڈھال ہوتے رہے ۔

مرحوم کی نیابت میں الوداعی زیارت اور تشیع جنازہ کے مراسم کا آغاز شارع عبّاس علیہ السلام سے ہوا جنازہ کے روضہ مبارک حضرت عباس علمدار کے صحن مطہر میں پہنچنے کے بعد سیکرٹری جنرل اور مجلس ادارہ کے ارکان کی موجودگی میں مرحوم کی طرف سے مراسم زيارت ادا کیے گئے اور پھر میت کا ضریح مبارک کے گرد طواف کروایا گیا۔ اس کے بعد ما بین الحرمین سے ہوتے ہوئے جنازہ کو روضہ مبارک امام حسین(ع) لے جایا گیا کہ جہاں پر بھی تشیع جنازہ اور زیارت کے مراسم ادا کیے گئے۔ بعد ازاں سید جاسم الطویرجاوی کو کربلائے معلی میں دفن کردیا گیا۔

کاظمین نجف کربلا سامرا سمیت تمام حرم ہائے قدسیہ کی جانب سے اس عظیم ذاکر کی رحلت پر خصوصی پیغامات جاری کئے گئے تھے ۔ مرحوم حرم ہائے قدسیہ کی مجالس کی زینت تھے مجالس حسینی میں اپنے  خطبات ، ارشادات ، تبلیغ ،مرثیہ گوئی اور ذکر مصائب کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو تعلیمات محمدؐ و آل محمد ؐ سے روشناس کراتے تھے ۔

سید الطویرجاوی 1947ء میں شہر نجف اشرف میں پیدا ہوئے ۔ مرحوم مجالس و محافل حسینی علیہ السلام کے مشہور و معروف خطباء اور مبلغین میں سے ایک تھے آپ نے اپنی پوری زندگی اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں صرف کی اور مرحوم کا نام اہل بیت علیہم السلام کے خادموں کی فہرست میں درج تھا۔

اس عظیم خطیب نے سن1962ء سے سن 1980ء تک ، امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر کے زیر گنبد مجالس پڑھیں اس سے قبل مرحوم نے ماتمی جلوسوں میں ھرولہ طویریج عراقی مخصوص انداز میں نوحہ خوانی کرتے تھے اس لئے ان کو طویرجاوی کا لقب دیا گیا ہے ۔ انہوں نے حوزوی تعلیم کو ،حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مایہ ناز اساتذہ شیخ عزالدین الجزائری اور شیخ طہ البصری جیسے اساتذہ سے حاصل کیا۔

کئی بار سید الطویرجاوی کو صدام کی بعثت حکومت نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سید الطویرجاوی سے صدامی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا جس سے جاسم الطویرجاوی نے صاف انکار کردیا تھا ، اسی وجہ سے سید نے 1980ء میں عراق چھوڑنے کا فیصلہ کیا ، حکومتی کارندوں کا سید پر ظلم کرنے کا اصرار بڑھ گیا ۔ ان تمام مصائب کے باوجود جاسم الطویرجاوی کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی ۔ صدام کے دور حکومت میں پھانسی اور گرفتاریوں کا سلسلہ عروج پر تھا ، آپ نے کویت کی جانب ہجرت کرلی جہاں مرحوم کا والہانہ استقبال کیا گیا ۔ادھر 1982ء میں سید جاسم الطویر جاوی کے بیٹے قطحان کو صدام حکومت نے پھانسی دے دی ۔

کویت میں صدامی حکومت کے شر پسندوں کی آمد کے بعد 1990ء میں مرحوم نے ایران کی طرف ہجرت کر لی۔

سید الطویرجاوی نے ایران ، شام ، لبنان ، سعودی عرب ، کویت ، بحرین ، قطر اور برطانیہ میں مجالس پڑھیں ہیں اور ان تمام ممالک میں ان کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں زیادہ تر اپنے والد سے تربیت کا اثر لیا ہے ، جس نے انہیں امام حسین علیہ السلام کے عشق و محبت سے سرشار کردیا ہے ۔

منبر حسینی کےعظیم الشان خطیب جاسم الطویر جاوی ، آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم کو اپنا روحانی باپ سمجھتے تھے اور نجف اشرف کے مراجع عظام تقلید سے مستقل رابطے میں رہتے تھے اور ایک بار جب مرحوم آیت اللہ العظمی سید ابو القاسم خوئی تشریف فرما ہوئے ایک مجلس میں داخل ہوئے تو اس مرجع نے انہیں اپنے پاس بیٹھایا اور امام حسین علیہ السلام کے بلبل کے نام سے منسوب کردیا۔آیت اللہ العظمی سید محمد باقر صدر بھی شب جمعہ کربلا آتے تھے اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.