خطباء اپنے اوپر فقہ جعفریہ نافذ کریں ذاکر کبھی مشرک نہیں ہو سکتا، موسوی ہیں فرعونوں سے نہیں ڈرتے، نظریہ دین و طن کنونشن میں قائد ملت جعفریہ کا تاریخی پیغام

ولایت نیوز شیئر کریں

دہشت گردی ہمیں دین وطن کی محبت  اور امن کی راہ سے کبھی نہیں ہٹا سکتی ۔ آغا حامد موسوی

ہم موسوی ہیں، فرعونوں سے ٹکرانے سے نہ پہلے گھبرائے نہ آئندہ ڈریں گے

حکومت ایکشن پلان کی تمام شقوں پر پر عمل کرے

سانحہ کوئٹہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے

ریاستی اداروں میں نظریاتی نمائندگی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی

بنات فاطمہ ؑ غیر سادات پر حرام ہیں اس کو جائز قرار دینا سادات کشی اور سلسلہ ہدایت کو قطع کرنے کے مترادف ہے

عزاداری وسیلہ نجات اور دین و شریعت کی محافظ ہے

مرجعیت اور علمائے حقہ کا احترام اقوال معصومین کی پیروی ہے

ماتمی عزاداروں کی خاکِ پاہمارے لئے سرمہ اکسیر ہے، قومی وحدت کیلئے مرکز سے وابستگی لازم ہے

قوم اصحاب حسین ؑ کی طرح ساتھ دے یا اصحاب مسلمؑ کی طرح ساتھ چھوڑد ے قومی حقوق پر کوئی سودا بازی نہیں کرنے دیں گے

جو ذاکر کلام کا آغاز خطبہ تو حید ، آیہ قرآنی اور فرمان رسالت ؐو آئمہؑ سے شروع کرے  وہ کیسے غالی یا مشرک ہو سکتا ہے؟

پاکستان ہم نے بنایا ہمیشہ دفاع بھی کیا۔ٹی این ایف جے کے نظریہ دین ووطن کنونشن کے موقع پر قائدملت جعفریہ کا تاریخی پیغام

راولپنڈی ( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہکوئٹہ جیسی دہشت گردی ہمیں وطن کی محبت اور امن کی راہ سے کبھی نہیں ہٹا سکتی، اپنے عقیدہ و نظریہ پر ثابت قدم رہتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی و استحکام کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،حکومت ایکشن پلان کی تمام شقوں پر پر عمل کرتے ہوئے کالعدم جماعتوں پر شکنجہ سخت کرے ، اپنے آئینی حقوق، عبادات کی آزادی ، ترقی کے یکساں مواقع ، تمام ریاستی اداروں میں برابری کی سطح پرنظریاتی نمائندگی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے،ہم حسینی وموسوی ہیں اپنے حقوق کیلئے ڈکٹیٹر و ں فرعونوں سے ٹکرانے سے نہ پہلے گھبرائے نہ آئندہ ڈریں گے ۔

اس امر کا اظہار انہوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ راولپنڈی ریجن کے زیراہتمام دربارشاہ پیاراکاظمی المشہدی میں منعقد ہ ’’تحفظ نظریہ دین و وطن کنونشن‘‘ کے موقع پر مندوبین کے نام اپنے پیغام میں کیاہے جوٹی این ایف جے راولپنڈی ریجنل کے صدرعلامہ سیدابوالحسن تقی نے اپنے صدارتی خطاب میں پڑھ کر سنایا۔

سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے سیدشجاعت علی بخاری اورصوبائی صدرپنجاب علامہ سیدحسین مقدسی اس موقع پرمہمانان خصوصی تھے ۔کنونشن میں ریجنل عہدیداران کے علاوہ ریجن کے تمام اضلاع اورتحصیلوں سے نمائندگان نے شرکت کی ۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی  کے پیغام کا مکمل متن

روحانی فرزندان کا دینی و قومی اہداف کیلئے کنونشن کا انعقاد لائق تحسین اور خوش آئند ہے نیک جذبوں سے سرشار فرزندان قوم یہ جان لیں وطن کی مضبوطی اور دنیا و آخرت میں کامیابی کیلئے دین کے اصولوں اور مرکزکے اہداف کی شناسائی، فہم ادراک شد ضروری ہے ۔مکتب تشیع توحید عدل نبوت امامت و قیامت کی پانچ بنیادوں پر استوار ہے ان تمام عقائد کا تعلق دل سے ہے جن کے اظہار کیلئے فروعات دین نماز روزہ حج زکوۃ خمس جہاد امر بالمعروف نہی عن المنکر تولہ تبرہ پر عمل واجب ہے ۔اصولہائے دین اور فرعات کے تحفظ کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پانچ اہداف کا تعین کررکھا ہے

۱۔حدیث قدسی ہے کہ ’ولایۃ علی بن ابی طالب حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی‘ علی ابن ابی طالب کی ولایت میرا قلعہ ہے جو اس میں داخل ہو گیا عذاب سے نجا ت پاگیا۔اسی لئیامام علی ابن موسی الرضاؑ نے اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے رسول خداؐ سے جنہوں نے جبرئیل کے ذریعہ خداوند عالم کا یہ قول نقل فرمایا ” کلمۃ لا الٰہ الا اللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی ” یعنی کلمہ لا الٰہ الا اللہ ایک قلعہ ہے جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ عذاب الٰہی سے نجات پا جائے گا۔ پھر امام نے فرمایا:لکن بشرطھا و شروطھا و انا من شروطھا البتہ اس بات اور عذاب الہی سے بچاؤکی شرطیں ہیں "اور میں اس کی شرطوں میں سے ہوں”۔

۲۔عزاداری امام حسین ؑ کا آغاز فرزند رسول ؐ کی دنیا میں آمد کے وقت رسول خدا نے خود گریہ کیا اوریہ بشارت دی تھی کہ اللہ ایک قوم پیدا کرے گاجو حسین پر گریہ کرے گی اس روز خاتون جنت نے وعدہ کیا تھا کہ اس وقت تک جنت میں نہ جاؤں گی جب تک حسین ؑ کے عزاداروں کو جنت میں داخل نہ کردوں۔اسی لئے حضرت امام جعفر صادق ،نے فرمایا ’’امام حسین پر اشک برسانا در حقیقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور پیغمبر اسلام سے ہمدردی اور ادائے حق اہل بیت کی علامت ہے۔عزاداری ہی وسیلہ نجات اور دین و شریعت کی محافظ ہے جس پر ثابت قدم رہنا اور اپنی نسلوں کو ثابت قدم رکھنا ہمارا مقصد اولی ہے۔

۳۔حرمت سادات سلسلہ ہدایت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے تمام مسالک کی فقہی کتب میں نکاح کی بنیادی شرط کفو یعنی ہمسرکی ہے یہی پیغام جبریل نے حبیب خداؐ کو پیغام سنایا۔قال رسول اللہ ؐ: ھبط علیّ جبرئیل فقال: یا محمد! ان اللہ جل جلالہ یقول: لو لم اخلق علیا لما کان لفاطمہ ابنتک کفو علی وجہ الارض آدم فمن دونہ۔جب نبی کریم ؐ نے سنا کہ بعض وہ لوگ جن کے رشتہ کو جناب فاطمہؑ کے سلسلے میں قبول نہیں کیا گیابہت ناراض ہیں تو آپ نے فرمایا: جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا : اے محمدؐ! خدا فرماتا ہے: اگرعلیؑ کو پیدا نہ کرتا تو آپ کی بیٹی کے لیے روئے زمین پر آدم اور غیر آدم کے درمیان کوئی ہمسر نہ ہوتا۔سادات کی حرمت اور کفو کی شرائط کے فتاوی دیوبند سے گولڑہ شریف تک دیئے جا چکے ہیں ۔جب ہارون رشید نے امام کاظم ؑ سے پوچھا کہ آپ بھی ہماری طرح رسول کے چچاکی اولاد ہیں تو آپ ؑ نے پوچھا اگر رسول ؐ تم سے رشتہ مانگیں تو دو گے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ ہماری خوش بختی ہوگی تو امام ؑ نے جواب دیا کہ اگر ہم سے مانگیں تو نہیں دے سکتے یہی میرے اور تمہارے میں فرق ہے ۔لہذاکوئی غیر سیدکسی سید کا کفو نہیں ہو سکتابنات فاطمہ ؑ غیر سادات پر حرام ہیں اس کو جائز قرار دینا سادات کشی اور سلسلہ ہدایت کو قطع کرنے کے مترادف ہے ۔

۴۔من کنت مولاہ کے اعلان اور انی تارک فیکم الثقلین کے فرمان مصطفوی کی رو سے ختم نبوت کے بعد جانشینی علی ابن ابی طالب ؑ کے اور ان کے گیارہ بیٹوں کے سپر د ہوئی یہ دور بارہویں امام کا ہے جو پردہ غیب میں رہ کر رہنمائی کا سرچشمہ ہیں ۔ غیبت صغری میں چار جانشین عثمان بن سعید العمری ؒ ، محمد بن عثمان العمریحسین ؒ ، بن روح نوبختی ؒ ، علی بن محمد سمری ؒ یعنی نواب اربعہ عوام اور امام میں رابطہ تھے ۔محمد بن علی سمری سے امام نے فرمایاکہ تم 6روز میں مر جاؤ گے اپنا مال اسباب درست کر لواس کے بعد جو ہماری ملاقات کرے وہ کذاب ہے ہمارا ظہور اس وقت ہو گا جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور ہم اسے عدل و انساف سے بھر دیں گے ۔جب یہ سوال ہوا کہ غیبت کے زمانہ میں کس سے رجوع کیا جائے تو اس کا جواب امام زمانہ ؑ کے والد گرامی امام حسن عسکری کے فرمان سے ملا کہ فاما من کان من الفقھاء صائناً لنفسہ حافظاً لدینہ مخالفاًلھواہ مطیعاً لا مر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ اور فقہاء میں سے جو فقیہ اپنے نفس کا محافظ محرمات سے بچنے والا، اپنے دین کا نگہبان ،اپنی خواہشات نفسانی کا مخالف اوراپنے مولا کے حکم کا پا بند ہو تو عوام پر لازم و ضروری ہے کہ اس کی تقلید کریں(الاحتجاج، وسائل الشیعہ )
چناچہ نواب اربعہ سے آج تک جن میں یہ اوصاف پائے جائیں ان کی جانب رجوع کیا جاتا ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے اسے مرجع کہتے ہیں مراجع مرجع کی جمع ہے ۔جیسے انا للہ و انا الیہ راجعون ۔یعنی اللہ مرجع، انبیاء مراجع، آئمہ مراجع اور ان کے بعد یہ علمائے حقہ مراجع ہیں لہذامرجعیت اور علمائے حقہ کا احترام اقوال معصومین کی پیروی ہے۔

۵۔رسول کریم ؐ نے مسجد نبوی کو مرکز بنا یا تو امیر المومنین ؑ نے کوفہ کو مرکز قرار دیا قوموں کی وحدت کیلئے مرکز ضروری ہوتا ہے اسی حکیم الامت نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’قوموں کیلئے موت ہے مرکز سے جدائی ‘ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مرکز مکتب تشیع سے منسلک و مربوط رہنے میں ہی قوم کی بھلائی اور فلاح ہے ۔مرکز مکتب تشیع کا اعلان ہے کہ تمام کام راہ اعتدال پر رہتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں افراط و تفریط کمی زیادتی صائب درست نہیں ۔آپ کا مرکز ساڑھے تین عشروں سے اپنی مد آپ کے تحت اپنی بساط سے بڑھ کر علی ؑ و اولاد علی ؑ کے چاہنے والوں کا دفاع کررہا ہے ، ہم سقیفہ نہیں غدیر خم کی طرح قوم کی خدمت کے میدان میں آئے تھے اور10فروری 1984کی طرح آج بھی یہ اعلان ہے کہ قوم اصحاب حسین ؑ کی طرح ساتھ دے یا اصحاب مسلمؑ کی طرح ساتھ چھوڑد ے قومی حقوق پر کوئی سودا بازی نہیں کرنے دیں گے ۔

نہ ہم غالی ہیں نہ مقصر نہ نصیری ہم فقط ذوات قدسیہ کے موالی ہیں اور انہی کے فرمودات و ارشادات پر عمل پیر اہیں جو کشتی نوح کی مانند وسیلہ نجات ہیں .

آج ایک منظم مہم عزاداری عزاداروں ذاکرین و خطباء کے خلاف چلائی جارہی ہے ہم ماتمی عزاداروں کے پاؤں کی خاک کو سرمہ اکسیر سمجھتے ہیں ہم پہلے کی طرح یہ بات دہرا رہے ہیں کہ ذاکرین خطباء اپنے آپ کو لاوارث نہ سمجھیں جو کام ذاکرین نے بجالا ئے وہ بڑے سے بڑا مبلغ بھی نہیں کر سکتا، جو ذاکر اپنے کلام کا آغاز خطبہ تو حید ، آیہ قرآنی اور فرمان رسالت ؐو آئمہ سے شروع کرتا ہے اور دشمنان اہلبیت سے برات کرتا ہے وہ کیسے غالی یا مشرک ہو سکتا ہے ۔ ساتھ ہی ذاکرین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرموادات معصومین کی پیروی کریں اپنے قول و عمل کو سیرت آئمہ میں ڈھالنے کی سعی کریں اور فقہ جعفریہ کا نفاذ پہلے اپنے اوپر اور بالخصوص اپنے چہروں پر بھی کریں ۔

وطن عزیز پاکستان ہم نے بنایاتھا اسکی دفاع بھی ہر محاذ پر ہراول دستے کو طور پرہم نے کیا دہشت گردیاں ہمیں وطن کی محبت اور امن کی راہ سے کبھی نہیں ہٹا سکیں ۔ ہم اپنے نظریے پر ثابت قدم رہتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی و استحکام کیلئے ہر قربانی دیں گے اور ساتھ ہی بانیان پاکستان کے فرامین کی روشنی میں اپنے حقوق، عبادات کی آزادی ، ترقی کے یکساں مواقع ، تمام ریاستی شعبوں میں برابری کی سطح پر نمائندگی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ہم حسینی ہیں موسوی ہیں اپنے حقوق کیلئے ہم بڑے سے بڑے ڈکٹیٹر و ں فرعونوں سے ٹکرانے سے نہ پہلے گھبرائے نہ آئندہ گھبرائیں گے۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم ۔۔سوبار کرچکا ہے تو امتحان ہمارا

خاکپائے عزاداران حسین ؑ و محبان ارض وطن
آغا سید حامد علی شاہ موسوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.