حکومت تل ابیب کے ساتھ روابط پر وضاحت کرے اسرائیل سے تعلقات قبلہ اول سے غداری اور حرمین کی جانب صیہونی پیش قدمی کو راستہ دینے کے مترادف ہے ،آغا حامد موسوی 

ولایت نیوز شیئر کریں

گریٹر اسرائیل کے ناپاک نقشے میں مکہ و مدینہ بھی شامل ہیں جسکے قیام کیلئے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کو کھنڈر بنادیا گیاہے

ابھی اسرائیلی جہاز کی آمد کی گرد نہیں بیٹھی کہ اسرائیلی شہریوں کیلئے نرمیوں کا شوشہ چھوڑدیا گیا جو دال میں کچھ کالا ہونے کی دلیل ہے

اسرائیل ہرروز صیہونیت کے صدیوں پرانے خواب کی تکمیل کیلئے قدم بڑھا رہا ہے جبکہ مسلم ممالک ایک دوسرے کو زیر کرنے میں لگے ہیں

مسلم حکمرانوں نے اگر قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی پر سمجھوتہ کیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔قائد ملت جعفریہ کا نگران کونسل ایم ایف پی کے عہدیداران سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ حکومت تل ابیب کیساتھ روابط پر وضاحت کرے مسلمان ممالک نہ بھولیں کہ گریٹر اسرائیل کے ناپاک نقشے میں مکہ و مدینہ بھی شامل ہیں ،اسرائیل سے تعلقات قبلہ اول سے غداری اور حرمین شریفین کی جانب صیہونی پیش قدمی کو راستہ دینے کے مترادف ہے جو کسی مسلمان کے شایاں نہیں،ابھی اسرائیلی جہاز کی آمد کی گرد نہیں بیٹھی کہ اسرائیلی شہریوں کیلئے نرمیوں کا شوشہ چھوڑدیا گیا جو دال میں کچھ کالا ہونے کی دلیل ہے ، نائن الیون ڈرامہ اور اسکے بعد دنیا بھر میں قتل وغارت گری اور کشمیریوں پر مظالم میں صیہونی ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، اسرائیل ہرروز صیہونیت کے صدیوں پرانے خواب کی تکمیل کیلئے قدم بڑھا رہا ہے جبکہ مسلم ممالک ایک دوسرے کو زیر کرنے میں لگے ہیں گریٹر اسرائیل کے قیام کیلئے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کو کھنڈر بنادیا گیا ۔شیطانی قوتوں کے ایماء پر یمن شام بحرین قطر عراق میں مداخلت کی جارہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ایف پی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دنیا میں مذہبی نظریے کی بنیاد پر صرف دو ریاستیں اسرائیل اور پاکستان قائم ہیں اسرائیل اپنی نظریاتی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے نظریے کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کیلئے اندر باہر سے سازشیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دونوں عظیم جنگیں دنیاپر صیہونی تسلط جمانے کیلئے برپا کی گئیں پہلی جنگ عظیم کے بعد اعلان بالفور حاصل کیا گیااور فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کی راہ ہموار کی گئی دوسری جنگ عظیم میں ہو لوکاسٹ کا ڈرامہ دکھا کر یہودیوں کو مظلوم ثابت کیا گیااور سرزمین فلسطین پر یہودی آباد کاری کو تیز تر کر دیا گیاصیہونی فنڈ کے ذریعے فلسطین میں بڑے پیمانے پرزمینوں کے حصول کو یقینی بنایا گیااور متواتر سازشوں کے بعد بالآخر 14مئی 1948کو مشرق وسطی میں دنیائے عرب کے وجود میں صیہونی ریاست کا خنجر اسرائیل کی شکل میں گھونپ دیا گیا جسے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے مغرب کا ناجائز بچہ قرار دیا، فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیااپنی زمین ان پر تنگ کردی گئی اور ایک ایسی المناک داستان کا آغاز ہوا جس کے الم میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مسلمانوں سے متعلقہ کشمیر و فلسطین کے لاینحل مسائل اقوام متحدہ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہیں جبکہ غیر مسلموں کے مسائل استصواب کروا کے حل کر دیئے گئے ہیں جس سے اقوام متحدہ کا دوہرا معیار عیاں ہے ، اقوام متحدہ دراصل اپنے قیام سے آج تک امریکی بی ٹیم کا کردار ادا کرہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب سے ٹرمپ بر سرقتدار آیا ہے اس نے اقوام متحدہ کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملادی ہے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیت المقدس کو ناجائز اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے، پہلے صرف ہو لوکاسٹ کیخلاف بات کرنا ممنوع تھی اب فلسطینیوں کے حق میں بات کرنے کو بھی جرم بنایا جا رہا ہے نوبل انعام یافتہ کیمسٹ ڈاکٹر سمتھ کو فلسطین کی حمایت پرمتنازعہ بنادیا گیااب صیہونیت کی حامی حکومتیں اسرائیل کے مظالم کی مخالفت کو جرم قرار دینے جا رہی ہیں جو انسانی حقو ق کی پامالی اور جنگل کا قانون نافذ کرنے کے مترادف ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ عرب ممالک اسرائیل کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں جبکہ بعض نے فلسطین کاز کو پامال کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات بھی قائم کر لیے ہیں اور بعض نے خفیہ مراسم قائم کر رکھے ہیں، مسلم حکمرانوں نے اگر قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی پر سمجھوتہ کیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.