ڈی چوک میں پہلی بارجنت البقیع کا ماتم۔۔۔عالمی طاقتوں نے مزارات گرانے والے جنونیوں کو سپورٹ کیوں کیا؟؟ مختارآرگنائزیشن کا مختلف شہروں میں ماتمی احتجاجی

ولایت نیوز شیئر کریں

مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کیخلاف مختارآرگنائزیشن کے مختلف شہروں میں ماتمی احتجاجی جلوس،مزاراتِ مقدسہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کا مطالبہ
اسلام آبادنیشنل پریس کلب تاڈی چوک ماتمی احتجاجی ریلی، مختلف مکاتب فکر کی شرکت،سنی شیعہ اتحاد کافقید المثال عملی مظاہرہ
جنت البقیع،جنت المعلیٰ کے مزاراتِ مقدسہ کی ازسرنوتعمیر میں انسانیت کی اصلاح و فلاح کا راز مضمر ہے،حامدموسوی
سرزمین حجاز کے مزارات مقدسہ کی عظمت رفتہ کی بحالی عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کی کنجی، امت مسلمہ کیلئے مسائل سے نجات کی سبیل ہے
عالمی طاقتوں نے مزارات گرانے والے جنونیوں کو سپورٹ کیا،مغربی دنیا امام جعفر صادقؑ کے علمی احسانات پر رشک کررہے ہیں۔قائدملت جعفریہ کاخصوصی پیغام
حضرت امام جعفر صادقؑ کے نام پر یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے ان کا مزار گرا دینا احسان فراموشی ہے۔ علامہ بشارت امامی
مکتب تشیع کو برابری کی سطح پر حقو ق دیئے جائیں، کالعدم جماعتوں کو ڈھیل قابل مذمت، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ۔ ایم او کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ملک ابوزمار کی پیش کردہ،قراردادیں

اسلام آباد( ولایت نیوز)قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کردہ عالمی عشرہ صادق آل محمد ؑ کے موقع پرمختار آرگنائزیشن(ایم او) کے زیراہتمام ماتمی احتجاج ریلی کے شرکاء نے دہشت گردی،قتل و غارت گری،بدامنی، انتہاپسندی کے خاتمے اور اسلامی مقامات مقدسہ کی بیحرمتی وتباہی، جنت البقیع میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام و دیگرآئمہ ہدیٰ، صحابہ کبار ؓ، امہات المومینن ؓ کے مزارات کی مسماری، عراق وشام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ابنیائے کرام و پاکیزہ صحابہ کباراوؓ مشاہیر اسلام کی قبور ہائے مطہرات کی تباہی اورپاکستان میں اولیائے کرام کے مزارات پرحملوں کیخلاف صدائے احتجاج بلندکی گئی۔ ریلی کی قیادت علمائے کرام، مختارآرگنائزیشن کے مرکزی وضلعی عہدیداران اور دیگر مذہبی رہنما،ماتمی سالارکررہے تھے۔اس موقع پر عساکر پاکستان سے بھر پور اظہاریکجہتی بھی کیاگیا۔

اقتدار کے محلات میں بسنے والو نبی کی بیٹی کے مسمار مزار کی فریاد سنو۔۔۔۔۔25 رجب کے ماتمی احتجاج کے بعد ڈی چوک میں پہلی بار جنت البقیع کا ماتم و پرسہ

مختارآرگنا ئزیشن پاکستان (ایم او) کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاء کے نام قائدملت جعفریہ آغا سیدمد علی شاہ موسوی کا خصوصی پیغام ٹی این ایف جے فیڈرل کیپٹیل کے صدرعلامہ بشارت حسین امامی نے پیش کیاجس میں انہوں نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں پر زوردیا کہ وہ جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کے مزاراتِ مقدسہ کی ازسرنوتعمیر اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کی طرف توجہ دیں اسی میں پوری انسانیت کی اصلاح و فلاح،کامیابی و سرفرازی اور خوش بختی و سعادت کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا نے دیکھ لیاہے کہ عالمی ضمیر اسلام کے خلاف جنت البقیع و جنت المعلیٰ سمیت دنیا بھر میں مزارات کی بے حرمتی وتباہی کی گھناؤنی سازش کے سلسلے کو نہ صرف روکنے میں ناکام رہا بلکہ اپنے مفادات کے تحت عالمی طاقتوں نے علی الاعلان مذہبی جنونیوں کو سپورٹ کیا اور پھر دنیا کے مختلف مذاہب کے آثار کو نقصان پہنچانے کا ایسا خوفناک سلسلہ شروع ہوا جس کی لپیٹ میں دیگر مذاہب اور تہذیبوں کے آثار بھی آئے تاہم سب سے زیادہ نقصان اسلامی تہذیب کے مراکز کو ہوا یہی وجہ ہے کہ آج سعودی عرب میں صرف 5فیصد اسلامی آثار باقی رہ گئے ہیں، باقی سب کو مذہبی اختلاف کی بنیادپر شرک قرار دیکر مٹادیا گیاہے،مسلمانوں کے مقدس مزارات و آثار کو صرف عرب ہی نہیں پاکستان یمن افغانستان مالی نائیجیریا یمن لیبیا مصر سار ی دنیا میں بدترین نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہاکہ وارث مدینہ العلم، پاسدارِ دین و شریعت حضرت امام جعفر صادق ؑ وہ ہستی ہیں کہ جن کی علمی درسگاہ سے ایک ہی دور میں بے بہا علوم صادر ہوئے،اور نہ صرف دین و شریعت، فقہ و منطق و فلسفہ بلکہ ریاضی، کیمیا، طب، فلکیات سمیت جملہ علوم کائنات کے ایسے دروس جاری ہوئے جو انسانیت کے شرف و امتیاز کا ثبوت بن گئے، جدید سائنسی ترقی کی جڑیں تلاش کی جائیں تو یہ امام جعفر صادق ؑ کی اس عظیم اسلامی یونیورسٹی سے جاملتی ہیں جس سے چار ہزار سے زائد شاگردوں نے کسبِ فیض کیا،ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تاریخ اسلام کے اس درخشاں باب اور معلمِ علوم کائنات حضرت امام جعفر صادق ؑ کی پاکیزہ سیرت و کردار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کر کے امت مسلمہ کو مشاہیر اسلام کے عظیم علمی ورثہ سے روشناس کروایا جاتا،عالم انسانیت پر امام جعفر صادق ؑ کے علمی احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے انکے نام پر یونیورسٹیاں قائم کی جاتیں اور امام جعفر صادق ؑسے منسوب آثار اور یادگاروں کو آئندہ آنیوالی نسلوں کیلئے محفوظ بنا یا جاتا، لیکن صد افسوس کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سرزمین حجاز میں برطانوی سامراج کی مسلط کردہ حکومت کے ہاتھوں مسلمانوں کے مقدس مقامات جنت البقیع اور جنت المعلی کی مسماری سے اسلامی تاریخی آثار کو مٹانے کا آغاز کیا گیا جن میں رسولؐ پاک کے اہلبیتؑ اطہار بشمول حضرت امام جعفر صادق ؑ کے مزارات اقدس بھی مسمار کر دیئے گئے جبکہ اہلبیت اطہارؑ کے مزارات کے ساتھ ساتھ، امہات المومنینؓ، اور پاکیزہ صحابہ کبارؓ کے مزارات کو بھی بلڈوز کر دیا گیا۔ اس موقع پر مختارآرگنائزیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ملک ابوزمار کی جانب سے پیش کردہ ایک قراردادمتفقہ طورمنظورکی گئی جس میں مسلمانوں کے ورثے اور عزت و آبرو کی نشانیوں کی پامالی و بے حرمتی کے خلاف گذشتہ چالیس سالوں سے اپنی پیہم جدوجہد کرنے والے آبروئے قوم قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی یہ واضح کر چکے ہیں کہ جنت البقیع و جنت المعلی سمیت سرزمین حجاز کے مزارات مقدسہ کی عظمت رفتہ کی بحالی عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کی کنجی اور امت مسلمہ کیلئے مسائل سے نجات کی سبیل ہے۔قراردادمیں مزارات مقدسہ کی توہین کیخلاف شیعہ سنی ہمیشہ ہم قدم رہے اور رہیں گے، بزرگان دین کی یادگاریں قائم کرنا اور ان کی تکریم کرناازروئے قرآن حکم خداوندی ہے صیہونی واستعماریت اور برطانوی شیطانی سازش کے تحت جنت البقیع و جنت المعلی میں اسلام کے محسنوں کی نشانیاں مٹانا مسلمانوں سے تابوت سکینہ چھیننے کے مترادف تھا جس کے نتیجے میں مسلمانوں سے خلافت یکجہتی خود مختاری عزت سرداری ہر شے چھن گئی،سرزمین انبیاء فلسطین پر صیہونیت کا خنجر پیوست ہواپوری دنیا میں صحابہؓ و اہلبیتؑ امہات المومنینؓ و اولیاء ؒکے مزارات کی بے حرمتی کا دروازہ کھل گیا اور امت مسلمہ قبلہ اول سے بھی محروم کردی گئی، امام جعفر صادق کے مزار اقدس سمیت مشاہیر اسلام کے مسمارو بے سائباں مزارات مقدسہ عالم اسلام کو جھنجھوڑ رہیں کہ اسلام کی توقیر و عظمت کی نشانیوں کو پامال ہونے سے بچائیں اور جو مقدس مقامات مسمار کر دئیے گئے ہیں ان کی عظمت رفتہ بحال کرائیں، مسجد اقصی کو روندنے والے صیہونی درندوں اور دنیا بھر میں انبیاء کرام مشاہیر اسلام کی نشانیوں کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کے حرمین شریفین کی جانب بڑھنے والے ناپاک قدموں کو روکیں۔قرارداد عالمی امن کے ضامن اداروں، مغربی حکومتوں اور تحفظ آثار کے اداروں پر زور دیتے ہوئے کہاگیاکہ مسلمانوں کے مذہبی آثار جو پوری انسانیت کے تہذیبی ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور اپنی قراردادوں کے مطابق سعودی حکومت کو پابند کریں کہ جنت المعلی و جنت البقیع کے مزارات کی تعمیر نو کرے یا دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں اور عاشقان رسالت و اہلبیت کو یہ فریضہ ادا کرنے کی اجازت دے۔

ایک اورقراردادمیں مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کی متواتر بے حرمتی کرنے والے صیہونی شدت پسندوں کی کاروائیوں اورمقبوضہ کشمیراور بھارت کی دیگر ریاستوں میں اسلامی شعائر کولا حق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیاگیاکہ ہالینڈ میں نبی کریم کی شان میں گستاخی، سوئیڈن میں قرآن کی توہین سمیت مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کی لہر کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے۔قراردادمیں کشمیر و فلسطین مشرقی سعودی عرب، بحرین نائجیریا کے مظلومین سے اظہار یکجہتی کی گئی۔

قراردادمیں بلوچستان وزیر ستان سے کراچی تک ملک بھر میں جاری دہشت گردی کے واقعات میں سیکیورٹی فورسز اور عوام پر دہشت گردوں کے حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے افواج پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیاگیااور سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں کالعدم جماعتوں کو ملنے والی چھوٹ کی پرزور مذمت کی گئی اور نیشنل ایکشن پلان پر غیر مشروط عملدرآمد کا مطالبہ کیاگیا۔ قراردادمیں پاکستان میں اہل تشیع کے خلاف ہونے والی زیادتیوں متعصبانہ یکساں نصاب کے خاتمے، پرسنل لاء سے متصادم قانون سازی اور عزاداری سید الشہداء امام حسین ؑپر پابندیوں اور عزاداروں کے خلاف ناجائز مقدمات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت مطالبہ کیاگیا کہ پاکستان کے اہل تشیع کو برابری کی سطح پر مذہبی حقو ق دیئے جائیں۔قراردادمیں مسلم حکمرانوں سمیت ہر غیرت مند کلمہ گو سے مطالبہ کیاگیا کہ جو بھی عشق رسالت ؐ کا دعویدار ہے جو بھی مودت اہلبیت ؑ کا پر چارک ہے جو بھی امہات المومنین و پاکیزہ صحابہ کبار کا جانثار ہے وہ جنت البقیع و جنت المعلی سمیت دنیا بھر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے مزارات کی بحالی کیلئے آواز بلند کرے ۔

شرکائے مظاہرین نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ، فرزندان رسول حضرت امام حسنؑ، امام علی زین العابدین، امام محمد باقر ؑ اور امام جعفرصادقؑ ؑ، امہات المومنین اور پاکیزہ صحابہؓ کے مزارات مقدسہ سمیت مشاہیر اسلام سے منسوب مقدس مقامات کی عظمت رفتہ بحال نہیں ہوجاتی ہم قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں اپنا یہ پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

علامہ بشارت حسین امامی نے بھی ریلی سے خطاب کیا۔بعد ازاں مظاہرین نوحہ خوانی و ماتمداری اورپرسہ پیش کیا اورڈی چوک میں پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری،انتظامیہ کے افسران،مختارفور س کے رضا کار، مختار ایس او اور ابراہیم اسکاؤٹس (اوپن گروپ)انتظام و انصرام کیلئے ریلی کے آغاز سے اختتام تک موجود تھے۔

درایں اثناء پشاور، فیصل آباد،لاڑکانہ،کراچی،لاہور،جھنگ،خیرپور،حیدرآباد،سیالکوٹ،مظفر آباد،گلگت،کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھی مختارآرگنائز یشن کی جانب سے ماتمی ریلیاں نکالی گئیں اور پرامن مظاہرے ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.