تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق سے ملاقات؛ مکتب تشیع کے حقوق کی پامالی پر تشویش سے آگاہ کیا

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے نمائندہ وفد کی حسن کاظمی کی سرکردگی میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق لال ملہی سے ملاقات، مسائل پیش کیے
روایتی ماتمی جلوسوں، چارد یواری میں مجالس کے بانیان پر بے جا مقدمات قابل مذمت اور انسانی حقوق کی خلافورزی ہے۔ سیکرٹری تعلقات عامہ حسن کاظمی
یکساں نظامِ تعلیم پرمخصوص مکتب ِفکر کی چھاپ کے بجائے تمام کے نزدیک قابل قبول بنایا جائے، مکتب تشیع کیلئے انکے عقائد کے مطابق قانون سازی کی جائے
اسلامی نظریاتی کونسل، علماء بورڈ اور امن کمیٹیوں میں کالعدم گروپوں کی موجودگی مسلمہ مکاتب کی توہین اور نیشنل ایکشن پلان کی کھلی خلاف ورزی۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
حکومت وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق تمام مکاتب کے حقوق کی یکساں ادائیگی کیلئے کوشاں ہے۔ لال چند ملہی

اسلام آباد ( ولایت نیوز) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے نمائندہ وفد نے مرکزی سیکرٹری تعلقات عامہ حسن کاظمی کی سرکردگی میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی سے ملاقات کر کے بنیادی حقوق کے حوالے سے مکتب ِتشیع کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

وفد میں حسن کاظمی کے ہمراہ مولانا اجلال حیدر الحیدری اور ذوالقرنین حیدر جمیل بھی شامل تھے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حسن کاظمی نے محرم الحرام کے دوران عزاداری پر بے جا پابندیوں اور مسائل کے حوالے سے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی انتظامیہ نے ملک کے مختلف شہروں میں ہونیوالی مجالس اور روایتی ماتمی جلوسوں، چارد یواری کے اندر ہونیوالی مجالس عزامنعقد کرنیوالوں بانیان کے خلاف نہ صرف مقدمات درج کیے بلکہ بعض مقامات پر عزاداروں کو گرفتار بھی کیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ عزاداری کے نئے پروگراموں کے انعقاد پر بھی پابندی لگائی گئی، علاوہ ازیں جیلوں میں ہونیوالی مجالس سے خطاب کرنیوالے علماء و ذاکرین کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی جو قیدیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

وفد نے بیگناہ اور پرامن شہریوں کو شیڈول فور میں ڈالنے کی مذمت کی اور مذہبی عقائد کے اظہار پر انتظامیہ کی جانب سے توہین کے بے جا مقدمات، علماء و ذاکرین کی زبان بندیوں اور مختلف اضلاع میں انکے داخلے پر پابندیوں کے مسائل کی جانب متوجہ کرتے ہوئے مکتب ِتشیع کے ساتھ ہونیوالیے زیادتیوں کے ازالے کا مطالبہ کیا۔

ٹی این ایف جے کے عمائدین نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ یکساں نظامِ تعلیم میں نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے مخصوص مکتب ِفکر کی چھاپ کے بجائے اسے تمام کے نزدیک قابل قبول بنانے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔وفد نے ملک میں مذہبی قوانین مرتب کرنے کے عمل میں آئین کے آرٹیکل227 کے تحت فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کیلئے انکے مسلمہ عقائد کے مطابق قانون سازی پر زور دیا۔ ٹی این ایف جے کے وفد نے حکومتی اجلاسوں، کانفرنسوں، اور قومی اہمیت کے دیگر فورموں پر کالعدم گروپوں کی شرکت اور ریاستی اداروں بشمول اسلامی نظریاتی کونسل، علماء بورڈ اور امن کمیٹیوں میں انہیں مکاتب کا نمائندہ بنا کر پیش کرنے کو مسلمہ مکاتب کی توہین اور نیشنل ایکشن پلان کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انکے فوری اخراج کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.