مساجد میں اعمال شب قدر جشن نزول قرآن کے روح پرور اجتماعات

ولایت نیوز شیئر کریں

جشن نزول قرآن منایاگیا،محافل میں ہزاروں فرزندان توحید کی شرکت،مساجد میں شب بیداری
قرآن مجید مکمل دستورِ حیات،درس انقلاب ہے جس میں تمام مشکلات کا حل موجود ہے۔مفتی باسم زاھری
انسانیت کے مسائل کاسبب قرآنی تعلیمات سے رو گردانی ہے۔ علمائے کرام کامحافل شب قدرسے خطاب

راولپنڈی( ولایت نیوز) قائد ملت جعفریہ آغا سیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق جشنِ نزولِ قرآن مذہبی جذبے اور ایمانی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔اس موقع پر تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں بشمول راولپنڈی اور اسلام آبادکی سینکڑوں مساجد میں گزشتہ شب محافلِ قرآن کا انعقاد اور شب قدر کے اجتماعی اعمال ادا کیے گئے۔

انجمن سجادیہ کے زیراہتمام علی مسجدمیں ٹی این ایف جے کی مرکز ی جشنِ نزول قرآن کمیٹی کے کنوینر مفتی باسم عباس زاھری نے فضلیت ماہ صیام از روئے قرآن کے موضوع پر جشنِ نزول قرآن کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان قدر و منزلت کا مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید کو نازل کیا گیا چنانچہ سورہ قدر میں ارشادِ قدرت ہوتا ہے کہ ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا اورتمہیں کیا معلوم شبِ قدر کیا ہے؟۔ شب قدر (مرتبہ اور عمل میں) ہزارمہینوں سے بہترہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید مکمل دستورِ حیات ہے جس میں تمام مشکلات کا حل موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن وہ عظیم کتاب ہے جو درسِ انقلاب ہے اور صاحب کتاب حضور اکرم ؐ کا پاکیز ہ اسوہ انسانیت کیلئے بہترین نمونہ عمل ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قرآن مجید ہر قسم کے مسائل و مصائب کا حل پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانیت کو درپیش گوں نا گوں مسائل و مصائب کا اصل سبب قرآن کے آفاقی پیغام اور تعلیمات سے رو گردانی ہے۔

انہوں نے عالم اسلام کے مصائب و آلام کے خاتمہ،مسائل کے حل اور وطن عزیز پاکستان کے استحکام و ترقی اورعساکرپاکستان کی کامیابی اورمقامات مقدسہ کی سلامتی وسرفرازی کیلئے خصوصی دعا کی۔الحاج ابوشریف زمانی اورعلامہ سیدوقارحسین قمی، مولانامثیم عباس مثیمی نے بھی اس موقع پر مختلف سورہ ہائے قرآنی اور دعاؤں کی تلاوت کی۔اس موقع پرسیدافتخارحسین مشہدی، سیدجون علی مشہدی کی طرف سے سحری کاخصوصی انتظام کیاگیاتھا۔

شعب ابی طالب میں انجمن کنیزان امام العصر والزمان کے زیر اہتما م شب قدر کے اجتماعی اعمال ادا کئے گئے جبکہ خطیبہ سیدہ بنت علی موسوی،آپا سیدہ حسین اور سیدہ بنت موسی موسوی نے نزول قرآ ن اور شب قدر کی فضیلت کے موضوع پر تقاریر کیں۔قصر ابو طالب مغل آباد،مرکزی شیعہ جامعہ مسجد شاہ چن چراغ،جامعہ مسجد قصر امام موسی کاظم،جامعہ مسجد سخی شاہ پیارا،جامعہ مسجد جعفریہ،جامعہ مسجد قصر خدیجۃ الکبریٰ،جامعہ مسجد اہلبیت اور مسجد شاہ نجف سمیت سینکڑوں مساجد میں اعمال شب قدر ادا کئے گئے،جشن نزول قرآن کی محافل منعقد ہوئیں جن میں ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی اور جشن نزول قرآن کی تقریبات سے علمائے کرام نے خطاب کیا۔

ام البنین ڈبلیو ایف‘سکینہ جنریشن‘گرلز گائیڈ اورانجمن دختران اسلام کے زیر اہتما م مرکزی امام بارگاہ جامعہ المرتضیٰ جی نائن فوراسلام آبادمیں جشن نزول قرآن اور شب قدر کی مناسبت سے اجتماعی اعمال ادا کئے گئے۔ اس موقع پر نزول قرآ ن اور شب قدر کی فضیلت کے موضوع پرخطاب کرتے ہوئے خطیبہ سیدہ زینب علویہ نے کہاکہ قرآن مجید آخری الہامی کتاب مقدس اور پوری انسانیت کیلئے مصباح نور ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کی رشدو ہدایت کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین کو مبعوث کیا گیا اور ایک سو چار صحف آسمانی کو نازل کیا گیا،ان کتب سماوی میں سوچھوٹی اور چار بڑی کتب توریت،زبور،انجیل اور قرآن ہیں۔انبیائے کرام میں سے افضل ترین خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور کتب الہامی میں اشرف و افضل اور اکمل ترین قرآن مجید ہے جو اپنے سے پہلے تمام کتب کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ وہ جامع کتاب ہے جسکا دعویٰ ہے کہ اس میں ہرخشک و تر کاذکر موجود ہے جو مکمل دستور حیات اور آج بھی لاجواب ہے۔انہوں نے کہا کہ گھروالے گھرکے حالات سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حضور ؐاکرم کا فرمان ہے کہ قرآن و اہلبیت ؑ کے دامن کو تھامے رکھو تو تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے یہ دونوں تمھاری ہدایت کے ضامن ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے حتی کہ میرے پاس حوض کوثر تک پہنچ جائیں۔انہوں نے کہا کہ خانوادہ محمد و آل محمد علیہم السلام علوم معارف اور اپنی اسلامی دریافتوں کو بطور الہام قرآن مجید سے حاصل فرماتے تھے اور اپنے خطابات اور ارشادات سے نورانی قرآنی آیات بطور استدلال پیش کرتے تھے،اس لیے اسلام کے برحق پیشواؤں اور خانوادہ رسالت کے علم و دانش کے ان رہبروں کی مختلف طبقات کے دلوں کی گھیرائیوں میں محبوبیت اور ہر دلعزیزی تھی۔اسی بناء پر ہردو رکے آمروں و ڈکٹیٹروں کی ان سے عداوت تھی کیونکہ وہ انہیں اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اسلام،قران اور اہلبیت علیہم السلام امن و سلامتی کے پیمبر ہیں اور شیطانی قوتیں امن و سلامتی کی دشمن ہیں اور قیام امن کیلئے قوت نافذہ زہدوتقویٰ ہے۔انہوں نے کہاکہ ماہ رمضان کا پہلادوسرا عشرہ رحمت و مغفرت اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی و حریت کا ہے لہذا اس وقت پوری دنیا چونکہ دوزخ کا منظر پیش کررہی ہے جسے امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کیلئے قرآن کے آفاقی پیغام کی عملی پیروی کرنا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.