غم حسینؑ کا پرچم سربلند رکھیں گے ،جو بھی شعائر حسینیہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ بارگاہ سیدہ کونین مادر حسین ؑ میں جوابدہ ٹھہرے گا، آقائے موسوی کا پیغام اربعین

ولایت نیوز شیئر کریں

اربعین حسینی ؑ عزاداری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس سے استعمار خوفزدہ ہے۔ آغاحامدموسوی
ہرآفت ،مصیبت اورمشکل میں غم حسین ؑ کا پرچم سربلند رکھاجائیگا جو ہماری حیات نجات ، سعادت دارین کی ضمانت ہے
حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری نواسہ رسول ؐ کی شہادت کی خبر سنکر کربلا پہنچے ،زیارت اربعین پاکیزہ صحابہ کبار ؓ کی سنت ہے
نفرت انگیزی کی حالیہ لہر مشترکہ دشمن کی سازش ہے ،عزاداری کے جلوسوں کا روایتی انداز تبدیل کرنے کی ناکام کوشش یزیدیت کیلئے باعث تقویت ہے
پاکستان کی بنیاداوربقا میں عزاداری کا بنیادی کردار ہے، شعائر حسینیہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے بارگاہ مادر حسین ؑ میں جوابدہ ہوں گے
دین ووطن کی پاسداری کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرینگے۔قائدملت جعفریہ کا چہلم سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ پرخصوصی پیغام

باسمہ تعالی
پیغام قائدملت جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی
چہلم شہدائے کربلااربعین حسینی 1442ھ

فرزند رسول امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اربعین کی زیارت مومن کی پانچ نشانیوں میں شامل ہے (تہذیب الاحکام۔مصباح المتہجدشیخ طوسی)یہ اس تاریخی دن کی یادگار ہے جب شریکۃ الحسینؑ سیدہ زینب بنت علی ؑ و امام زین العابدینؑ کی قیادت میں خانوادہ رسالت ؐ کی مخدرات نے شام سے رہائی کے بعد پہلی بار شہدائے عاشورہ کے مراقد کی زیارت کیلئے مدینہ واپس جاتے ہوئے کربلا میں قدم رنجہ فرمایا۔نبی کی پیاری نواسی ؐ جب اربعین کو کربلا پہنچیں تو امام حسینؑ کے قیام کی صداقت کو کوفہ و شام سے منوا کر آئی تھیں ظلم سے لتھڑے ہوئے درباروں میں شریعت محمدی ؐ پر حملہ آور زبانوں کو اپنے خطبوں کی تیغ سے کاٹ کر آئی تھیں اوریوں اربعین کا یہ دن اسیران کوفہ و شام یعنی مظلومین کی فتح و سرفرازی کا دن بن گیا۔

یقیں نہ آئے تو کوفہ و شام کی فضاؤں سے پوچھ لینا۔۔۔۔ یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی ہے علیؑ کی بیٹی
ابد تلک اب نہ سر اْٹھا کے چلے گا کوئی یزید زادہ ۔۔۔۔۔۔غرورِ شاہی کو خاک میں یوں ملا گئی ہے علی ؑ کی بیٹی

جب خانوادہ رسالتؐ کا قافلہ کربلا پہنچا تو بزرگ صحابی رسول حضرت جابربن عبد اللہ انصاری ؓ کو پہلے سے وہاں موجود پایاجو مفسر قرآن عطیہ سعد بن جنادہ عوف کوفی (بعض کتب میں عطا نام مرقوم ہے)کے ہمراہ کربلا پہنچے تھے۔ روایات کے مطابق صحابی رسول ؐ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری نبی کریم کے پیارے نواسے کی شہادت کی خبر سن کر عشق و وارفتگی کے جذبے سے دیوانہ وار کربلا وارد ہوئے اور پہلے زائر اور مجاور کربلا کا اعزاز پایاگویا زیارت اربعین پاکیزہ صحابہ کبار ؓ کی بھی سنت ہے۔

جابر بن عبد اللہ انصاری وہ عظیم المرتبت صحابیؓ ہیں جو نبی کریم ؐکے ہاتھوں پر بیعت کیلئے مکہ تشریف لے گئے اور نبی کریمؐ کو مدینہ آنے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا آپ کے والد ان بارہ نقیبوں میں ایک تھے جنہیں ہادی برحقؐ نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا کتنا بڑا اعزاز ہے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ؓکا جنہوں نے رسول کا مدینہ میں استقبال کیا تھااور چھ دہائیوں بعد نبی کی بیٹیوں اور فاتح کوفہ و شام سیدہ زینب بنت علی ؑ کے قافلے کے استقبال کا فریضہ بھی سر انجام دیا اور اس امام محمد باقر علیہ السلام کو نبی کریم کا سلام بھی پہنچایا۔

اربعین کی زیارت مرد الرَّاس کے نام سے بھی مشہورہے یعنی سر کا لوٹا دیا جانا، کیونکہ اس روز اسیران اہل بیتؑ کربلا پلٹ کر آئے تو وہ امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کے سر بھی واپس لائے جنہیں شہداء کے مراقد میں اجساد مبارک کے ساتھ متصل کیا گیا یہ مبارک سر یزیدی فوج فتح کی نشانی کے طور پر دربار یزید و ابن زیاد میں لے گئی تھی لیکن نبی ؐ کے نواسے کے کٹے ہوئے سر نے قرآن کی تلاوت کرکے ہر بازار میں یزید کے مکرو فریب اورجھوٹ کو بے نقاب کردیا۔ ابن عساکر تاریخ مدینہ و دمشق میں روایت بیان کرتے ہیں

عن المنہال بن عمرو قال أنا واللہ رأیت رأس الحسین بن علی حین حمل وأنا بدمشق وبین یدی الرأس رجل یقرأ سورۃ الکہف حتی بلغ قولہ تعالی ” أم حسبت أن أصحاب الکہف والرقیم کانوا من آیاتنا عجبا ” قال فأنطق اللہ الرأس بلسان ذرب فقال أعجب من أصحاب الکہف قتلی وحمل.

منھال بن عمرو کہتا ہے کہ: خدا کی قسم میں نے حسین ابن علی کے سر کو نیزے پر دیکھا ہے اور میں اس وقت دمشق میں تھا۔ وہ سر آیت قرآن کو پڑھ رہا تھا….. آیت کے فوری بعد سر نے واضح اور بلیغ زبان میں کہا کہ اصحاب کہف سے زیادہ عجیب میرا قتل ہونا اور میرے سر کو نیزے پر اٹھانا ہے۔“

مختصر تاریخ دمشق، بن منظور المصری،الوافی بالوفیات، صلاح الدین الصفدی، شواہد النبوۃ،الخصائص الکبری، جلال الدین السیوطی،فیض القدیر شرح الجامع الصغیر المناوی سمیت لاتعداد دیگر اہلسنت کتب نے اس روایت کو بیان کیا ہے۔شیخ مفید نے اس واقعہ کو حضرت زید بن ارقم کی سند سے بیان کیا ہے۔

گویا اربعین حسینی کٹے ہوئے مظلوم سروں کی فتح کا دن ہے نبی کے گھرانے کی بے ردا و اسیر بیبیوں کی فتح کا دن ہے جنہوں نے تاقیامت حسینیت کے پیغام اور حقانیت کو جاوداں کردیا، اربعین عشق حسینی ؑ کی معراج کا دن ہے جس کا ثبوت نبی کریم کے نابینا صحابی جابر بن عبد اللہ انصاری ؓنے پیرانہ سالی کے باوجود قبر حسین ؑ کی زیارت کرکے دیا،مختصریکہ اربعین مظلومین کے حق میں گریہ و ماتم کرکے ظالمین کی قصر ہائے ظلم کی بنیادیں لرزا دینے کا دن ہے۔

اربعین حسینی سیدزہ زینب و زین العابدین ؑ کی بنیاد کردہ عزاداری میں اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس عزاداری اور گریہ و ماتم سے ہر دور کے استکبار و استعمار خوفزدہ رہے ان کی سرتوڑ کوشش رہی کہ امام حسین ؑ کا انقلاب آفریں پیغام آیندہ آنے والی قوموں کیلئے ایک سبق کی صورت میں باقی نہ رہ سکے لیکن اس کے باوجود ہر مظلوم کے قدم ہر دور میں کربلا کی جانب اٹھتے ہی چلے گئے تواس کا بنیادی سبب وہ درس عزا تھا جو مظلومین کے قلوب و اذہان کو گرما رہا تھاظالم اور غاصب حکمران حریت کے جذبوں کو دبانے کیلئے اجسام اور افکار کو کربلا مجتمع اور مرتکز ہونے سے روکنے کیلئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرتے رہے زائرین کی ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے زبانوں پر پہرے بٹھائے گئے لیکن لبیک یا حسین کی صداؤں کی گونج بڑھتی ہی چلی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ آج اربعین حسینی کے موقع پر کربلائے معلی میں ہونے والا اجتماع دنیاکا سب سے بڑا اجتماع بن چکا ہے کئی کئی سو میل سے پیدل چل کر آنے والے زائرین حسینی کی عقیدت کے مناظرکی نظیر پیش کرنا ناممکن ہے اورعالمی میڈیا ان زائروں کی گنتی کرنے سے قاصر ہے۔ کورونا کی خوف اور عراق کی سرحدوں کی بندش کے باوجود کئی ملین پاپیادہ زائرین کے قافلوں کا کربلا کی جانب سفر عشق حسینی کا روح پرور منظر ہے جو دلوں میں عشق رسول و اہلبیت کی جوت جگا رہا ہے اوراسیران کربلا و پاکیزہ صحابہ کرامؓ کی سیرت پر گامزن رہنے کے عزم کا اظہار ہے۔

اربعین کو عالمگیر کرنے میں بنیادی کردار عزاداری سید الشہدا نے ادا کیا اس عزاداری نے کربلا کے صحرا میں جبر کے سموں تلے پامال ہونے والے شہیدوں کے خون اور پیغام کو آفاقی بنا دیا۔گریہ و ماتم کے بے ضرر اور پرامن احتجاج نے ظالموں کی نیندیں حرام کر ڈالیں عزاداری یعنی ذکر حسینؑ دین و شریعت کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کے خواہشمند طاقتوروں کی راہ میں سد راہ بن گیا یہی وجہ ہے کہ یزیدیت ہی نہیں بعد میں ہر دور کے ظالمین نے سر توڑ کوششیں کرڈالیں کہ عزاداری کا سلسلہ روک دیا جائے

ہر چند اہل جور نے چاہا یہ بارہا ۔۔۔ہو جائے محو یاد شہیدان کربلا
باقی رہے نہ نام زمیں پر حسین ؑ کا۔۔۔۔۔ لیکن عزیزو زور کسی کا نہ چل سکا
عباس نامور کے لہو سے دھلا ہوا۔۔۔۔ اب بھی حسینیت کا علم ہے کھلا ہوا

لیکن یہ ذکر اور فکردلوں کی جاگیروں کو فتح کرتے ہوئے ہر ملک اور شہر میں پھیلتے چلے گئے، یہ ذکر دین و شریعت کی پامالی کی ہر مذموم کوشش کے خلاف کھلا اعلان جنگ تھا یہ ذکر طاقتوروں کی من مانیوں سے انکار کا درس تھا یہ ذکر مظلوموں کی فتح کی نوید تھاجہاں جہاں حسینت کا ذکر گیا وہاں وہاں صدیوں سے کچلے ہوئے مظلوموں کے دلوں میں حریت کی تڑپ پیدا ہوتی گئی۔ جب طاقت کے ذریعے اس ذکر حسینؑ عزاداری مظلوم کو روکنے کے حیلے اور حربے ناکام رہے تو اسے سبوتاژ کرنے کیلئے نت نئے حربے ایجاد کئے جانے لگے کبھی رسومات عزاداری شعائر حسینیہ پر اعتراضات کبھی حیلے بہانوں سے عزاداری سید الشہداؑ کا مقامی و حالات کے تحت مقصد ہدف اور روح کو تبدیل کرنے کی کوششیں کبھی ماتمی دستوں ذاکرین خطباء اور ذاکرین کی بنیاد پر عزاداری کی حقانیت پر سوال اٹھانا اور کبھی ایام عزا کے دوران کسی دوسرے سوگ کو کربلا والوں کے سوگ پر ترجیح دے کر عزاداری امام کی اہمیت کم کرنے کی کوششیں شامل رہی ہیں لیکن ہم نے آئمہ طاہرین کے درس زندگانی، بزرگان دین کی روایات اور بزرگ مراجع کی تعلیمات کے مطابق ہمیشہ غم حسین ؑ کو ہر غم پر ترجیح دی کیونکہ یہی غم حسین ؑاور عزاداری ہر غم کا مرہم ہے۔

ہر غم میں کربلا نے سہارا دیا ہمیں۔۔۔۔ ہر غم، غم حسین ؑ میں تحلیل ہو گیا

وطن عزیز پاکستان جس کی بنیاد اور بقا میں عزاداری کا بنیادی کردار ہے حالیہ دنوں میں جب نفرت انگیزی کی لہر شروع ہوئی جواسلام و پاکستان کے دشمنوں کی سازش ہے اور اب حقائق سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے لیکن اس نفرت انگیزی اور اسکے رد کی آڑ میں ایک بار پھر عزاداری کے جلوسوں کے روایتی انداز اور پرا ثر انداز کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو حسینیت ؑ کیلئے نہیں بلکہ یزیدیت کیلئے تقویت کا باعث بنے گی عزاداروں اور ماتمیوں کو مجلس ماتم نوحہ زنجیر قمہ زنی کے بجائے سیاسی انداز میں ریلیوں کی شکل دینے کی کوشش کرنے والی قوتوں کو روایتی عزاداری کی اہمیت پر آیۃ اللہ روح اللہ موسوی الخمینی کے ا س خطبہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے جس میں انہوں نے واضح فرمایا تھا کہ

”ہمیں ان اسلامی سنتوں کی، ان اسلامی ماتمی دستوں کی کہ جو روز عاشورا یا محرم اور صفر کے دوسرے دنوں میں سڑکوں پر نکل کر عزاداری کرتے ہیں حفاظت کرنا چاہیے۔ سید الشھداءؑ کی فداکاری اور جانثاری ہے جس نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔ عاشورا کو زندہ رکھنا اسی پرانی اور سنتی روایتوں کے ساتھ، علماء اور خطباء ذاکرین کی تقاریر کے ساتھ، انہیں منظم دستوں کی عزاداری کے ساتھ بہت ضروری ہے۔ یہ جان لو کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہاری تحریک باقی رہے تو روایتی عزاداری کو محفوظ رکھو۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ مجالس پڑھیں۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ منظم دستوں میں گھروں سے باہر نکلیں۔ اور ماتم سید الشھداؑ کریں۔ البتہ جو چیزیں دین کے خلاف ہیں ان سے پرہیز کریں۔ لیکن ماتم کریں اپنے اجتماعات کی حفاظت کریں۔ یہ عزاداری کے اجتماعات ہیں کہ جو ہماری حفاظت کر رہے ہیں یہ آپسی اتحاد ہے جس نے ہمیں زندہ رکھا ہے۔

وہ لوگ ہمارے پاک دل جوانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کے کانوں میں آکر کہتے ہیں کہ اب رونے کا کیا فائدہ؟ اب گریہ کر کے کیا کریں گے؟ یہ جلوس جو ایام محرم میں سڑکوں پر نکلتے ہیں انہیں سیاسی مظاہروں و مارچ میں تبدیل نہ کرنا۔ مظاہرے اپنی جگہ ہیں۔ لیکن دینی جلوس سیاسی جلوس نہیں ہیں بلکہ ان سے بالاتر ہیں، وہی ماتم، وہی نوحہ خوانی، وہی عزاداری کی چیزیں ہماری کامیابی کی علامت ہیں۔ پورے ملک میں مجالس عزا برپا ہونا چاہیے، سب مجلسوں میں شریک ہوں سب گریہ کریں۔ انشاء اللہ روز عاشورا کو لوگ گھروں سے نکلیں گے امام حسین علیہ السلام کے تعزیہ اٹھائیں گے اور جلوس میں صرف عزاداری کریں گے۔(: قیام عاشورا در کلام و پیام امام خمینی، (تبیان، آثار موضوعی امام، دفتر سوم) تہران: موٗسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ دوم، 1373)

ہم ایک بار پھر بتا دینا چاہتے ہیں عزاداری کو سیاسی رنگ دینے یا روایتی مجلس ماتم و جلوسہائے عزا کی ہیئت تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے فلسفہ عزاداری سے ناواقف ہیں یہ عناصر دیگر مسالک و مذاہب کے افراد کو حسینیت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی کوششیں کرنے والے یادرکھیں جو بھی شعائر حسینیہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ بارگاہ سیدہ کونین مادر حسین ؑ میں جوابدہ ٹھہرے گا۔

اربعین حسینی کے موقع پر ہم ایک بار پھر خداوند عالم بارگاہ رسالت و چہاردہ معصومین بالخصوص مادر حسین کے حضور اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں عزاداری حسین ؑ کی روح، سنت زینب و سجاد ؑمجلس ماتم زنجیر زنی و قمہ زنی علم ذوالجناح و تعزیہ سمیت تمام شعائر حسینیہ کی پاسداری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اورہرآفت مصیبت مشکل میں غم حسین ؑ کا پرچم سربلند رکھیں گے کیونکہ یہی ہماری حیات نجات اور سعادت دارین کی ضمانت ہے۔

رعب دستار فضیلت میں نہ آجانا کہیں۔۔۔۔ شک و شبہات میں پڑکر نہ گنوادینا یقیں
پرچمِ حضرت عباسؑ اٹھائے رکھنا۔۔۔۔ شورِ ماتم سے زمانے کو جگائے رکھنا
غمِ شبیرؑ عبادت ہے کوئی رسم نہیں۔۔۔۔ اپنی نسلوں کو عزادار بنائے رکھنا

خاکپائے عزادارن مظلوم کربلا و زائرین اربعین حسینی ؑ
آغا سید حامد علی شاہ موسوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.