اہل تشیع پر زیاتیوں کیخلاف فقید المثال احتجاج :عزاداروں کا سیلاب پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گیا،حکومت حب الوطنی کو کمزوری نہ سمجھے ابھی پہلا قدم ہے حقوق نہ ملے تو بڑی کال دے سکتے ہیں، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

آغا حامد موسوی کی کال پر ملک گیر ماتمی احتجاج: پارلیمنٹ کے سامنے آئین کی پامالی اوراہل تشیع پر زیاتیوں کیخلاف ہزاروں عزاداروں کی ریلی
 حب الوطنی اور امن دوستی کو حکومت کمزوری نہ سمجھے، نظریہ اساسی اور عقائد پر متواتر حملوں کے بعد ماتمی احتجاج کا پہلا قدم اٹھایا، آغا حامد موسوی
 نصاب میں نبی کریم ؐکی والدہ کی توہین کرکے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کیا گیا،تاریخ کو مسخ، اہلبیت کے ذکرمیں خیانت کی گئی اقلیتوں اور خواتین کا مذاق اڑایا گیا
ناچ گانے جائز اور ذکر حسینؑ پر پابندیاں نظریہ اسلام کی توہین ہے، پاکستان کو ناصبیوں خارجیوں اور بیرونی تنخواہ داروں کے ہاتھوں یر غمال نہیں ہو نے دیں گے
 امام موسی کاظم کی شہادت پرسرکاری میڈیا کی خاموشی افسوسناک ہے اگر آئین کی روح اور مکتب تشیع کے عقائد کے مطابق فیصلے نہ ہوئے تو بڑے احتجاج کی کال بھی دے سکتے ہیں
شاہراہ پاکستان کراچی، انڈس ہائی وے خیر پور، تونسہ چوک، لاہور پشاورلاڑکانہ مظفر آبادآباد مردان کوہاٹ پریس کلب،ڈیرہ غازی خان باغ آزاد کشمیر فیصل آبادمیں بڑے اجتماع
انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑیں پاک فوج اور ریاست کو دھوکہ دے رہی ہیں حکومت نوٹس لے، مکتب تشیع کودرپیش دوہرے کرداراور قائد اعظم کو گالیاں دینے کی مذمت
عزاداری پر ناروا پابندیوں، متعصبانہ یکساں نصاب، فیملی لاز بل، شدت پسندوں کی سرگرمیوں، مقدس ہستیوں  اور مقامات کی توہین کے خلاف قراردادوں کی منظوری

ٓاسلام آباد( ولایت نیوز)  اتوار 25رجب کو پورے ملک میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی کال پرنظریہ  وآئین پاکستان سے متصادم اقدامات اور مکتب تشیع کے خلاف ہونے والی زیاتیوں کے خلاف ماتمی احتجاج کیا گیا اس موقع پر پاکستان تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی ریلیاں نکالی گئیں شہادت امام موسی کاظم علیہ السلام کی مجالس و جلوسوں کے دوران بھی آواز احتجاج بلند کی گئی اس موقع پرعزاداری پر ناروا پابندیوں، متعصبانہ یکساں نصاب،آئین کے خلاف منظورکئے جانے والے فیملی لاز بل، شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، مقدس ہستیوں  اور مقامات کی توہین کے متواتر واقعات کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔

اسلام آباد میں مرکزی ماتمی احتجاجی ریلی امام بارگاہ جی سکس ٹو اسلام آبادسے پارلیمنٹ ہاؤس تک نکالی جس میں  بیسیوں ہزاروں عزاداروں ماتمیوں نے شرکت کی، جس کی قیادت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید شجاعت علی بخاری، علامہ بشارت امامی، حاجی غلام مرتضی چوہان، آغا مرتضی موسوی آغا علی روح العباس موسوی   سمیت دیگر علماء اور زعماء کررہے تھے۔

پارلمنٹ کے سامنے مجلس حسین ؑ کا منظر

ریلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ کر احتجاجی ماتمی جلسے کی شکل اختیار کرلی جس میں  علامہ بشارت امامی نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت مکتب تشیع کی حب الوطنی اور امن دوستی کو کمزوری نہ سمجھے، پاکستان کے نظریہ اور عقائد پر متواتر حملوں کے بعد ماتمی احتجاج کا پہلا قدم اٹھایا ہے اگر حکومت نے آئین پاکستان کی روح اور مکتب تشیع کے عقائد و نظریات کے مطابق فیصلے نہ کئے تو اس سے بڑے احتجاج کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔

آقای موسوی نے کہا کہ عزاداری  کائنات کا سب سے موثر اور پرامن ترین احتجاج ہے جس سے ہر دور کے آمر و یزید خوفزدہ رہے ہیں ناچ گانے جائز اور ذکر حسینؑ پر پابندیاں نظریہ اسلام کی توہین ہے، عزاداری نے ہی کربلا سے لیکر زندان بغدا د تک کی دہشت گردیوں کے خلاف مظلومانہ احتجاج کو عالمگیریت بخشی، اسلام کے محسنوں کے ذکر پر پاکستان کے میڈیا پر آج بھی غیر اعلانیہ پابندی ہے جس امام موسی کاظم کے روضہ پر امام شافعی جیسے علمائے اہل سنت اپنی حاجات کی قبولیت کیلئے جاتے تھے آج اس امام کی شہادت پر پاکستان کو میڈیا مکمل خاموش ہے یکساں نصاب میں نبی کریم ؐکی والدہ کی توہین کرکے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ناصبیوں خارجیوں اور بیرونی ممالک سے تنخواہیں لینے والوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں ہو نے دیں گے۔احتجاجی ماتمی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ بشارت امامی نے کہا کہاگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات اور آئینی حقوق کو تسلیم نہ کیا گیا تو اس ملک کی نظریاتی اساس کو بچانے اور اپنے حقوق کیلئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی کال پر کسی بڑے سے بڑے اقدام سے گریز نہیں کریں گے ماتمی حتجاج کی کال پر موالیان حیدر کرار نے لبیک کہتے ہوئے شہرشہرنگرنگرمیں ماتمی احتجاج کرکے واضح کردیا ہے کہ ہمیں موت قبول  ہے لیکن عقائد و نظریات پر سودا بازی قبول نہیں،

پرامن عزاداروں کا ٹھاٹھیں مارتا سمند ر شاہراہ اقتدار پر

اس مو قع پر سید ابو نسم بخاری کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ  غیر ملکی سازش کے تحت شدت پسندی کے بڑھاوادیا جارہا ہے، متعصبانہ قانون سازی کے ذریعے آئین کو  روندا جارہا ہے،  لا الہ کے نام پر حاصل کیا گیا اس ملک میں آج گھروں کے اندر بھی ذکر حسین ؑ پر پابندی لگادی گئی ہے گھروں میں  چوراہوں میں سٹیڈیمز میں ناچ گانے کے پروگرام ہو سکتے ہیں لیکن اسلام بچانے والوں کا نام لینے پر ایف آئی آرز درج کردی جاتی ہیں،قرارداد میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ گھروں اور تقریبات میں بھارتی اور انگریزی گانے چلائے جا سکتے ہیں لیکن بنت رسول خاتون جنت کی شہادت کا نوحہ نہیں پڑھا جا سکتا،  منبر حسین ؑ کو جکڑنے کیلئے ذاکرین کو نظریاتی کونسل کی سندیں لینے کی شرط قابل مذمت ہے، ذکر حسین ؑ کو پابند کرنا  ناصبی خارجی قوتوں کی بھول ہے۔

انہوں نے کہاکہ عزاداری سید الشہدا ؑ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،قرارداد میں واضح کیا گیا کہ کالعدم جماعتوں کے تشکیل کردہ یکساں نصاب کو مسترد کرتے ہیں شیعہ  قوم نصاب پر دستخط کرنے والے سودابازوں سے برات کا اظہار کرتی ہے،یکساں نصاب میں تاریخ کو مسخ کیا گیا، اہلبیت کے ذکر کو نکال دیا گیا  اقلیتوں اور خواتین کا مذاق اڑایا گیا،قراردا میں کہا گیا کہ فیملی لاز بل شیعہ پرسنل لاز اور مذہبی آزادی پر حملہ  ہے جس کی ضمانت آئین پاکستان اور بانیان پاکستان نے فراہم کی تھی۔

قرارداد میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جن جماعتوں پرہزاروں افرادشہید کرنے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی انہی تکفیری عناصر کو خوش کرنے کیلئے قانون ساز ی کی جارہی ہے اسلام آباد کی سڑکوں پر وزراء کی موجودگی میں قائد اعظم کو گالیاں شرمناک اقدام ہے، کالعدم جماعتوں کو مکتب تشیع کے نام پر کمیٹیوں اور اداروں میں شامل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

قرارداد میں باور کرایا گیا کہ  انتظامیہ کے اند ر ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو کالعدم جماعتوں کو بچانے کیلئے امن پسندوں  کو شیڈول فور میں شامل کررہی ہیں  اور  پاک فوج اور ریاست کو دھوکہ دیاجارہا ہے۔

قرارداد میں  حضرت ابو طالب ؑ حضرت فاطمہ زہراؑ حضرت علی ؑ آئمہ اہلبیت ؑ امام موسوی کاظم ؑ امام مہدیؑ  حضرت مختار ثقفی ؒ کی توہین کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ  اسد آباد منگلامیں علم مبارک کی توہین کی گئی قرآن کو پارہ پارہ کیا گیالیکن انتظامیہ ایف آئی آر درج کرنے کو تیار نہیں اہل تشیع کو ملک میں دوہرے کردار کا سامنا ہے  سکھ  یاتری بھارت سے کرتار پورہ کی زیارت کرسکتے ہیں  اورکزئی میں  زائرین کے  بادشاہ انور شاہ غگ کی زیارت کرنے پر پابندی ہے پاکستان کے دارالحکومت میں مزار حضرت بری امام پرلگی علی ولی اللہ کی تاریخی تختی ہٹا کراوقاف کے ضوابط کو پامال کیا گیاایک متعصب  مفتی نے  امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کی توہین کی تو کہا گیا اس نے وضاحت کردی  دوسری جانب شیعہ ذاکرین کو محض قیاس کی بنیاد پر جیلوں اور سزاؤں کا سامنا ہے جبکہ شیعہ مکتب کسی بھی دوسرے مکتب کی توہین کو تعلیمات محمد و آل محمدؐ کے منافی سمجھتاہے۔

احتجاجی جلسہ ماتمی احتجاج کمیٹی کے کنوینر الحاج غلام مرتضی چوہان، علامہ ثقلین بخاری،سید نصیر حسین سبزواری،جمیل قریشی، عباس رضا اور تقی اعوان نے بھی خطاب کیا۔الحاج غلام مرتضی چوہان نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

درایں اثنا مرکز مکتب تشیع میں آمدہ اطلاعات کے مطابق انچولی امام بارگاہ سے شاہراہ پاکستان کراچی، پریس کلب لاہور، پریس کلب پشاور  پریس کلب لاڑکانہ، ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ، دربار عنایت ولی مظفر آباد، انڈس ہائی وے خیرپور،مین بازار باغ، تونسہ چوک، میاں چنوں، 45بلاک ڈیرہ غازی خان،مردان پریس کلب، کچا پکا  شیر کوٹ، پریس کلب کوہاٹ، پریس کلب مریدکے، سکھر پریس کلب، سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی احتجاج کے پروگرام منعقد ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.