مسجد قصر خدیجۃ الکبریؑ نمازیوں کے خون سے نہا گئی ؛ بیسیوں نمازی شہید سینکڑوں زخمی

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کی پرزور مذمت، دس روزہ سوگ کا اعلان، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف پرامن صدائے احتجاج بلند کرے۔ علامہ حسین مقدسی
سیکورٹی کی ناکامی حکومت کی ناکامی ہے، شہداء کے خون پر سیاست کی ہے نہ کسی کو کرنے دینگے ، ترلائی کلاں اسلام آباد میں جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے علامہ مقدسی کا خطاب
 ہمارے صبر و برداشت کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے، جو چاہیں کرسکتے ہیں لیکن آقائے موسوی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اپنے ٹکڑے کر سکتے ہیں لیکن وطنِ عزیز کے ٹکڑے نہیں ہونے دینگے۔ علامہ آغا مقدسی
وزیر داخلہ محسن نقوی کو جائے وقوعہ پر باور کرایا ہے کہ حکومت سیکورٹی ادارے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہی، اس امر کا محاسبہ کیا جائے کہ کون سے عوامل ایکشن پلان پر عملدرآمد  میں روکاوٹ ہیں۔ آغا مقدسی
مسلمہ مکاتب کے خلاف تکفیری عناصر دندناتے پھر رہے ہیں،کالعدم عناصر حکومتی فورمز اور امن کمیٹیوں میں کیوں موجودہیں؟
شہدائے ملت جعفریہ کی اجتماعی نمازِ جنازہ  7 فروری بروز ہفتہ دن گیارہ بجے ترلائی اسلام آباد میں ادا کی جا ے گی۔

اسلام آباد (ولایت نیوز ) اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ خودکش دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا جہاں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ بشارت حسین امامی کی اقتدا میں نماز ادا کی جارہی تھی۔

وہ مقام جہاں دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑایا

عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل فائرنگ بھی کی جہاں ڈیوٹی پر موجود مختار فورس کے رضا کار چوہدری گلفام حسین شدید زخمی ہو گئے۔

جب دہشت گرد نے فائرنگ کرتے ہوئے مین ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ابراہیم سکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے بہادر جوان عون عباس ملک نے دہشت گرد کو دبوچ لیا جس نے اپنے آپ کو مرکزی دروازے پر دھماکے سے اڑا لیا۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا دس روزہ سوگ کا اعلان

پمز ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 105 زخمی اور 28 میتیں لائی گئیں، 27 افراد کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔

حادثے میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری جنرل علامہ بشارت امامی معجزانہ طور پر محفوظ رہے انہوں نے سانحہ کے فورا بعد خطاب کرتے ہوئے ملت جعفریہ سے پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ہمیں حسینیت کے راستے سے نہیں اٹھا سکتے ہم لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر اسلام و پاکستان کو بچانے کا درس حسینیت نبھائیں گے اور آقای موسوی ؒ کی تعلیمات سے انحراف نہیں کریں گے۔

دھماکے کی اطلاع موصول ہوتے ہی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ حسین مقدسی جائے حادثہ پر پہنچ گئے اس موقع پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دھماکے کے مقام کا دورہ کیا۔

علامہ حسین مقدسی نے وزیر داخلہ سے سانحہ میں سیکیورٹی نقائص پر شدید احتجاج کیا ۔ اس مو قع پر وزیر داخلہ نے وعدہ کیا کہ 72 گھنٹوں کے اندر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مطالبات پر عمل کرکے دکھائیں گے ۔

ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علی مسجد سے جاری ہونے والے ہینڈ آؤٹ کے مطابق سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے مسجد و امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی میں دہشتگردی کے المناک سانحے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجرموں اور پسِ پردہ عناصر کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، سانحہ ترلائی پر دس روزہ سوگ منانے کا اعلان، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف پرامن صداے احتجاج بلند کریں، سیکورٹی کی ناکامی حکومت کی ناکامی ہے، شہداء کے خون پر سیاست کی ہے نہ کریں گے، ترلائی کلاں اسلام آباد میں جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقدسی نے کہا ہمارے صبر و برداشت کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے، جو چاہیں کرسکتے ہیں لیکن آقائے موسوی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اپنے ٹکڑے کر سکتے ہیں لیکن وطنِ عزیز کے ٹکڑے نہیں ہونے دینگے۔

علامہ آغا مقدسی نے کہا کہ ملت غیور قیام پاکستان سے خون کا نذرانہ دے رہی ہے جو اب تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے جائے وقوعہ پر باور کرایا ہے کہ حکومت سیکورٹی ادارے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہی لہذا اس امر کا محاسبہ کیا جائے کہ کون سے عوامل ایکشن پلان پر عملدرآمد  میں روکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمہ مکاتب کے خلاف تکفیری عناصر دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کالعدم عناصر حکومتی فورمز اور امن کمیٹیوں میں کیوں موجودہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سودے بازی نہیں کرسکتے، ہماری ترجیح وطن ہے۔ آغا مقدسی نے کہا کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان واحد جماعت ہے جس نے گذشتہ اتوار بلوچستان کی دہشتگردی کے بعد ملک بھر میں یومِ محاطین وطن منایا اور یکجہتی کا عملی اظہار کیا، لیکن حکومت امن پسندوں اور کالعدم تنظیموں میں فرق ہی نہیں سمجھ رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے طا غوت ثلاثہ کی سازشیں کار فرما ہیں، انہوں نے کہا کہ سنی و شیعہ مل کر دہشتگردی کو کنڈم کریں اور ثابت کریں کہ دہشتگرد فقط دہشت گرد ہیں انہیں کسی مکتب کیساتھ نہ جوڑا جائے۔ علامہ مقدسی نے کہا کہ وزیر داخلہ نے بہتر گھنٹے کا وقت دیا ہے جس میں سیکورٹی ادارے دہشتگردوں کو سامنے لاییں گے۔

 علامہ مقدسی نے حکومت سے مطالبہ کیا وہ سانحہ کے متاثرین کے لیے وزارت داخلہ میں انفارمیشن سیل قائم کرے، پمز ہسپتال میں خصوصی کاونٹر تشکیل دے اور زخمیوں کی علاج معالجہ کے لئے فوری اقدامات کرے، لواحقین و متاثرین کی ضروریات پوری کی جاییں۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا کہ 7 فروری دن گیارہ بجے ترلائی اسلام آباد میں شہدائے ملت جعفریہ کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی جا ے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.