شہدائے سانحہ ترلائی کی اجتماعی نمازِ جنازہ مجلس عزا و ماتم کی گونج میں علامہ حسین مقدسی کی اقتداء میں ادا کر دی گئی
نمازِ جنازہ میں بلاتفریق مسلک و مکتب زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والی اعلی حکومتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دہشت گردی،ظلم و بربریت شیعیان حیدر کرار کو راہِ حسینیت سے نہیں ہٹا سکتی۔ سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے
ماضی میں بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، خون میں نہلایا گیا مگر نہ ہمارے قدم ڈگمگائے نہ ہی امن کے جھنڈے کو جھکنے دیا۔علامہ بشارت امامی
حکومت دہشت گردوں کو کالعدم اور ممنوعہ قرار دیتی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان کی بیرونی امداد اور من و سلویٰ کو روکنے کی بات تسلیم کرتی ہے مگر عمل اقدام اس کے برعکس نظر آتے ہیں
کالعدم عناصر حکومتی بورڈوں اور امن کمیٹیوں میں براجمان نظر آتے ہیں،جب تک اربابِ اقتدار قول و فعل کے تضادات ختم نہیں کرتے انسدادِ دہشت گردی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ علامہ بشارت امامی
وزیر داخلہ محسن نقوی کے بہتر گھنٹوں کے الٹی میٹم کے دوران ہی مجرموں کو گرفتار اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے،سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے
حکومت نہتے نمازیوں کو نشانہ بنانے کے سانحہ کے نقصانات کا ازالہ کرے،لواحقین کی داد رسی و اعانت میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے
اسلام آباد (ولایت نیوز) شہدائے سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی کی اجتماعی نمازِ جنازہ ترلائی کلاں اسلام آباد میں ہزاروں سوگواروں ، اشکبار انکھوں، آہوں اور سسکیوں میں ادا کر دی گئی، سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے اجتماعی نمازِ جنازہ کی امامت کی جس میں بلاتفریق مسلک و مکتب زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ حسین مقدسی اور علامہ بشارت حسین امامی شہدائے ترلائی کلاں کے اجتماعی جنازوں میں گریہ کناں ہیں۔
نمازِ جنازہ سے قبل سیکریٹری جنرل ٹی این ایف جے علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی و ظلم و بربریت شیعیان حیدر کرار کو راہِ حسینیت سے نہیں ہٹا سکتی۔ علامہ بشارت امامی نے کہا کہ ماضی میں بھی ہمیں خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، ہمیں خون میں نہلایا گیا مگر نہ ہمارے قدم ڈگمگائے نہ ہی امن کے جھنڈے کو جھکنے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ رہبرِ تشیع قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی ہمیشہ جلتی ہوئی آگ پر پانی ڈالا اور دہشتگردی کو پر پُرامن پالیسی سے کنڈم کیا لیکن نہ حکومت اور اداروں کو آگ پر تیل ڈال کر بھڑکانے والے کیوں عزیز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کو کالعدم کر کے ممنوعہ قرار دیتی اور نیشنل ایکشن کے تحت ان کی بیرونی امداد اور من و سلویٰ کو روکنے کی بات تسلیم کرتی ہے مگر عمل اقدام اس کے برعکس نظر آتے ہیں، وہی کالعدم عناصر حکومتی بورڈوں میں اور امن کمیٹیوں میں براجمان نظر آتے ہیں،۔ علامہ بشارت حسین امامی نے کہا کہ جب تک اربابِ اقتدار قول و فعل کے تضادات ختم نہیں کرتے انسدادِ دہشت گردی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ علامہ بشارت امامی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ آپ کے بہتر گھنٹوں کے الٹی میٹم کے دوران ہی مجرموں کو گرفتار اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے، ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم نے اس المناک سانحے پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ، حکومت اور سلامتی کے اداروں کے مثبت جواب نہ ملا تو کوئی بھی کال دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہتے نمازیوں کو نشانہ بنانے کے سانحہ کے نقصانات کا ازالہ ضروری ہے اور لواحقین کی داد رسی و اعانت میں کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ امامی نے کہا کہ ہم درجہ اول کے شہری اور پاکستان بنانے والے ہیں بانی پاکستان قائداعظم کے ہم مسلک و مکتب ہیں لہذا کسی عصبیت کے برعکس مساوی حقوق ادا کیے جائیں۔ علامہ بشارت حسین امامی نے شہدائے ملت جعفریہ ترلائی کے سویم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل بروز اتوار مسجد و امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں دن دو بجے مجلس وختمِ قرآن و اجتماعی دعا کی جاے گی۔ نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے شرکت کی اور سربراہ تحریک اور سوگواران سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جنازہ سے قبل ملک کے نامور علماء و ذاکرین نے شرکت کی اور ذکرِ مصائب حسین علیہ السلام میں حسینی دھڑے بند اور نوحہ پڑھے۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے نمازِ جنازہ کے اختتام پر ذکر مصائب شہزادہ علی اصغر بیان کیے اور ملک وقوم عالم اسلام اور شہدائے سانحہ ترلائی کے درجات کی بلندی کی دعائیں کیں۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے نائب صدر باوا سید فرزند علی کاظمی، باوا قاسم علی شاہ، کی سرکردگی میں ماتمی سالاروں نوحہ خوانوں اور عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

درایں اثناء سیکریٹری اطلاعات ٹی این ایف جے علامہ سید قمر حیدر زیدی، صوبائی صدر پنجاب علامہ باقر علی نقوی،صدر ٹی این ایف جے کے پی کے سید غضنفر علی شاہ، صدر ٹی این ایف جے پاراچنار ماسٹر یوسف حسین،کمانڈر مختار فورس آزاد کشمیر خواجہ صغیر انصاری،صدر راولپنڈی ریجن ٹی این ایف جے علامہ شبیہ کاظمی، اسپیکر بو علی مہدی،شوکت عباس جعفری،محمد عباس کاظمی،عمار حیدر نقوی،جروان محمد کاظمی، کاشف کاظمی،اور دیگر عہدیداروں و سینیر کارکنان نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔اجتماعی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ،چیٸرمین وزارت داخلہ قاٸمہ کمیٹی راجہ خرم نواز ،وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سابق وفاقی وزیر جے سالک،سابق چیٸرمین سینٹ سکریٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیٸر حسین بخاری، آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی، ایس ایس آپریشنزعلی رضا، ایس ایس پی ہمایوں اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ شہدائے سانحہ ترلائی کی میتیں آبائی علاقوں کے لیے روانہ کی گئیں جبکہ مقامی شہداء کو ترلائی میں گنجِ شہداء میں سپردِ خاک کیا گیا۔
علماء نے تدفین کے وقت شہداء کی تلقین پڑھی اور سپرد خاک کر دیا گیا۔ ابراہیم اسکاوٹس، مختار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مختار فورس کے رضا کار نمازِ جنازہ میں مختلف ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی سیکرٹری تنظیم سید ارشاد نقوی نے تجہیز وتکفین کے مراحل کی نگرانی کے فرایض سرانجام دیے۔ جنازہ وتدفین کے بعد سوگوار آنسو بہاتے ہوئے رخصت ہو گیے اور امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں فاتحہ خوانی اور تعزیت گزاری کا آغاز ہوگیا۔
