موسوی : محمد حسین شاد کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں جانے دینگے؛عشرہ صادق آل محمد ؑ منانے کا اعلان

ولایت نیوز شیئر کریں

6جولائی80ء کو اسلام آباد ایجی ٹیشن میں جام شہادت نوش کرنے والے نوجوان محمد حسین شاد دو قومی نظریے کے پہلے شہید ہیں جن کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں جانے دینگے 

پاکستان کو گروہی اسٹیٹ بنانے کے ضیائی اعلان کیخلاف صر ف ہم نے آواز اٹھا کر دنیا کو بتایا کہ ایسا کرنا دو قوی نظریے سے انحراف اور اقبال و قائد اعظم کے اصولوں سے رو گردانی ہے 

افغان جہاد کیلئے امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے ایک لاکھ کے قریب مجاہدین تیار کیے گئے ، 

پاکستان کی فکری بنیادوں کو تبدیل کرنے کیلئے سیاسی شریعت کے نام پر آمریت مستحکم کی گئی
ممنوعہ گروپوں کوجکڑے بغیردہشتگردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔یوم شہید پر قائد ملت جعفریہ کا خطاب، 
——————————
اسلام آباد ( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ 6جولائی 1980ء کو اسلام آباد ایجی ٹیشن میں جام شہادت نوش کرنے والے شور کوٹ کے نوجوان محمد حسین شاد دو قومی نظریے کے پہلے شہید ہیں جن کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں جانے دینگے ،دنیا کی کوئی طاقت وطن عزیز کو نظریہ اساسی سے نہیں ہٹا سکتی شہادت ہماری میراث ہے ہم دین و وطن کی حرمت کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جمعرات کو یوم شہید کے موقع پر مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اُنہوں نے 15تا25شوال شہادت امام جعفر صادق کی مناسبت سے عشرہ صادق آل محمد منانے کا اعلان بھی کیا۔

آقای موسوی نے باور کرایا کہ 1979ء میں دو قومی نظریے کو دفن کرنے کیلئے پاکستان کو گروہی اسٹیٹ بنانے کا اعلان کیا گیا ، اُسوقت پاکستان میں صر ف ہم نے آواز اٹھا کر دنیا کو بتایا کہ تمام مکاتب کی قربانیوں اور کوششوں سے قائم ہونے والے ملک کو مخصوص مکتبی اسٹیٹ بنانا دو قوی نظریے سے انحراف اور اقبال و قائد اعظم کے اصولوں سے رو گردانی ہے چنانچہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پر امن ایجی ٹیشن کر کے اسلام آباد سیکریٹریٹ پر پر چم لہرایا اور آمر مطلق جنرل ضیاء کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔

اُنہوں نے کہا کہ جنرل ضیا ء نے افغان جہاد کیلئے امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے ایک لاکھ کے قریب مجاہدین تیار کیے ، نرسریاں قائم کیں مگر وہی آج دہشتگرد کہلاتے اور پاکستان کی بقا و سلامتی کے درپے ہیں۔ آقای موسوی نے کہا کہا ضیاء الحق نے منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کی فکری بنیادوں کو تبدیل کرنے کیلئے سیاسی شریعت کے نام پر آمریت کو مستحکم کیا جسکی وجہ سے دہشتگردی کے گھناؤنے کھیل میں ہم نے 70ہزار جانوں کے نذرانے پیش کیے، اربوں کھربوں کے نقصانات اُٹھائے ، شہروں کے شہر تباہ ہوئے اور اسوقت بھی دہشتگردی کے قلع قمع کیلئے عساکر پاکستان کا ردالفساد آپریشن جاری ہے جبکہ ضیاء باقیات نے اپنی سابقہ روایات کو جاری رکھا ہوا ہے ، چھ درجن سے زائد کالعدم گروپ کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں، انتخابات میں بھی حصہ لیتے رہتے ہیں۔اُنہوں نے یہ بات زور دے کر کہ ممنوعہ گروپوں کوآہنی شکنجے میں جکڑے بغیرپاکستان دہشتگردی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ دنیا کی سب سے عظیم ترین مملکت پاکستان کا قیام صدی کا سب سے بڑا معجزہ ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے ممکن کر دکھایااور دنیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والے علاقے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کر کے ایک قوم میں تبدیل کیااور دنیا پر واضح کر دیاکہ اسلام اور کفر الگ الگ ملت ہیں اسی کا نام دو قومی نظریہ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ تقسیم کے وقت قائد اعظم نے دو مملکتوں کے مابین حد بندی کا نہا یت نازک کام اقوم متحدہ کی نگرانی میں کرنے کی تجویز پیش کی جسے فریق مخالف نے قبول نہ کیا،قائد اعظم نے دوسری تجویز دی کہ برطانیہ کی پریوی کونسل کے ذریعے حد بندی کا کام کروایا جائے مگر لاڈماؤنٹ بیٹن نے کانگریس کا کردار ادا کر کے اس تجویز سے بھی اتفاق نہ کیا چنانچہ ریڈ کلف نے حد بندی کے کام میں انصاف کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ صریحاً جانبدار ی سے کام لیا اور پاکستان کو بعض اہم علاقوں سے محروم کر دیا جسکی وجہ سے اس خطے میں سنگین مسائل پیدا ہوئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو بھارت سے ملانے کیلئے گورداس پور کے ذریعے راستہ پیدا کیا گیا یوں کشمیر پر بھارتی قبضے کی راہ ہموار ہوئی اور کشمیری اپنی آزادی حریت کیلئے 70سال سے لازوال و بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں ۔

آقای موسوی نے کہا کہ پاکستان کو نظریہ اساسی اسلام کی سزا دی جا رہی ہے ، 65ء کی جنگ مسلط کی گئی، پاکستان کو دولخت کیا گیا، 77ء میں ڈکٹیٹر ضیاالحق نے اقتدار پر شب پر خون مار کر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا ، ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی قوت کا بانی ہونے کی سزا دینے کیلئے ذلت و اذیت کا نشانہ بنا کر عالمی قوتوں کی آشیرباد پر پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا ، دو قومی نظریے کے حامیوں کو کوڑے مارے گئے اور اپنے حامیوں کو تحائف سے نوازا گیا، کرپشن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیاجو آج بھی جاری ہے اور قومی مصائب آلام کا اصل سبب اور ملکی ترقی کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.