انہدام جنت البقیع سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے تک لارنس آف عریبیہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے،رشتہ مواخات نے اسلام کو عالمگیریت بخشی ،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

القدس پر صیہونی پنجہ ثبت ہو چکا حرمین شریفین کو بچانے کیلئے عالم اسلام کو رشتہ اخوت دوبارہ جوڑنا ہوگا،آغا حامد موسوی کا یوم مواخات کے موقع پر دینی نشست سے خطاب

اسلام آباد (ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ قبلہ اول القدس پر صیہونی پنجہ ثبت ہو چکا حرمین شریفین کو بچانے کیلئے عالم اسلام کو رشتہ اخوت دوبارہ جوڑنا ہوگا، مسلم تارکین وطن مہاجرین کی سمندروں میں تیرتی لاشیں مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیت کا ماتم کررہی ہیں جن کے درہم و دینار نے مغرب کے بینکوں اور معیشت کوتو سہارا دے رکھا ہے لیکن مسلم برادری کیلئے ان کے سینے میں کوئی درد نہیں ، عرب ممالک میں محنت مزدوری کرنیوالے پاکستانیوں کا مسلسل انخلا لمحہ فکریہ ہے ،پاکستان کی ایٹمی قوت عالم اسلام کا اثاثہ اور کشمیریوں فلسطینیوں کیلئے ڈھارس ہے ، قدرتی وسائل سے مالامال مسلم ممالک معاشی بحران سے نجات کیلئے پاکستان اور دیگر پسماندہ مسلم ممالک کی مدد کریں جنت البقیع و جنت المعلی کے انہدام سے لیکر مشرقی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے تک لارنس آف عریبیہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے دنیائے شیطنت اسلامی مراکز کے گردمزید گھیرا تنگ کررہی ہے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگااستعماری عفریت کو صرف اتحاد سے کچلا جا سکتا ہے ، رشتہ مواخات نے اسلام کو عالمگیریت بخشی ،نبی کریم نے ہر مہاجر کو انصاری اور حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو دنیا و آخرت میں اپنا بھائی قرار دے کر جو مواخات کادرس دیا وہ ہر زمانے میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے نسخہ اکسیر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں یوم اخوت اسلام کے موقع پر خصوصی دینی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ خانہ جنگی کا شکار مسلمان ممالک کے بے گھرمسلم مہاجرین کو مغربی ممالک نے تو گلے لگا لیا لیکن مسلم حکمرانوں کو ان مفلوک الحال مسلمانوں کو پناہ دینے کی توفیق نہ ہوئی الٹا بعض مسلم ممالک نے اپنی سرحدیں مسلم تارکین وطن پر بند کرڈالیں ۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے مسلمانوں کو پناہ دینے کا اقدام انسانیت دوستی نہیں اسلامی اخوت کے خاتمے کو آشکار کرنا تھا لیکن اسلام دشمن قوتیں کتنی ہی سازشیں کر ڈالیں جب تک قرآن کا پیغام باقی ہے اسوہ رسول ؐ کا تذکرہ قائم ہے ہر مہاجر و مظلوم اسلام کے سایہ میں ہی پناہ پاتا رہے گا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ہجرت کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کا چیلنج درپیش تھا جو دین کی خاطر اپنا گھر بار اور ساز و سامان سب کچھ چھوڑ آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سلسلے میں ایک نہایت اہم قدم اٹھاتے ہوئے انصار و مہاجرین کو اسلام کے رشتہ اخوت میں منسلک کر دیا۔ پیغمبر اکرم ؐ نے حضرت ابو بکرؓ اور خارجۃ بن زید انصاریؓ، حضرت عمر بن خطابؓ اور عتبان بن مالکؓ، حضرت عثمان بن عفانؓ اور اوس بن ثابتؓ، ابو عبیدہ بن جراحؓ اور سعد بن معاذؓ، حضرت سلمان فارسیؓ اور ابو درداءؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ اور حذیفہؓ کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم فرمایا اس موقع پر حضرت علی ابن ابی طالب ؑ غمگین حالت میں نبی کریم ؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا: یا رسول اللہؐ آپ نے تمام اصحاب کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا لیکن مجھے کسی کا بھائی قرار نہیں دیا؟ اس موقع پر پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا اے علی آپ دنیا اور آخرت دنوں میں میرے بھائی ہیں جو ایسا اعزازتھا جس پر تمام صحابہ ہمیشہ رشک فرماتے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مشرکین مکہ کے ستائے مہاجرین جو مدینہ آنے کے بعد خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے رشتہ اخوت کے قیام اپنے انصار بھائیوں کے ایثار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنا وطن اور عزیز و اقارب چھوڑنے کا غم بھول گئے انصار مدینہ نے اپنے مہاجر بھائیوں سے فیاضی اور ایثار کا ثبوت دیا وہ انسانی تاریخ کا ایسازریں باب ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مواخات مدینہ کا مقصد مہاجرین کی غربت اور تنہائی کو دور کرے کے ساتھ ساتھ کدورتوں کا خاتمہ، طبقاتی تفریق کا تدارک ، اور قومی اور نسلی تعصبات کی جگہ ایمانی قربت کو فروغ دینا تھا آ ج امت مسلمہ جن مشکلات سے دوچار ہے اس سے نجات کا واحد ذریعہ نیل سے کاشغر اور کشمیر سے کوسوو تک مسلمانوں کو وحدت و اخوت کی لڑی میں پرونے میں مضمر ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.