بغداد دھماکوں سے نئے امریکی صدر کی آمد کا بگل بجایا گیا،امت مسلمہ بائیڈن کے اعلانات سے خوش فہمی کا شکار نہ ہو، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

امت مسلمہ بائیڈن کے اعلانات سے خوش فہمی کا شکار نہ ہو، بغداد دھماکوں سے نئے امریکی صدر کی آمد کا بگل بجایا گیا،آغا حامد موسوی
المجرب لا یجرب‘ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ سبھی صیہونی مفادات کے پاسبان ہیں،اقوام متحدہ کا قیام کمزور وں کا دل بہلانے کیلئے عمل میں لایا گیا
بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا ’یروشلم ایمبیسی ایکٹ‘ ڈیموکریٹ صدر کلنٹن کے دور میں منظور ہوا تکمیل ری پبلکن صدر ٹرمپ نے چڑھایا
امریکہ اور اس کے بنائے دہشت گردوں نے عالم اسلام کو لہو لہان کیا اور کررہے ہیں ، مسلمانوں کے خون کی ارزانی مسلم حکمرانوں کی غیرت کیلئے سوالیہ نشان ہے
ہر امریکی صدر نے مسلم دشمنی کی نئی داستان رقم کی، کسی مسلم ملک پر حملہ ہو تو دوسرے شادیانے بجانے لگتے ہیں، کسی بھی مسلم ملک پر حملہ کو عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے
کب تک مسلمانوںکے وسائل امریکی اسلحہ فیکٹریوں کا ایندھن بنیںگے؟ مسلم ا قتصادیات دفاع اور خارجہ پالیسی کو امریکی تسلط سے آزاد کروایا جائے، عہدیداروں سے خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماءبورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ جو بائیڈن کے اعلانات سے خوش فہمی کا شکار نہ ہو، بغداد دھماکوں سے نئے امریکی صدر کی آمد کا بگل بجایا گیا، المجرب لا یجرب ، آزمائے کو آزمانا جہالت ہے ہر امریکی صدر اپنے پیشرو کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے ، ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ سبھی صیہونی مفادات کے پاسبان ہیں مشرقی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا ’یروشلم ایمبیسی ایکٹ‘ ڈیموکریٹ صدر کلنٹن کے دور میں منظور ہوا تکمیل ری پبلکن صدر ٹرمپ نے چڑھایا، اقوام متحدہ کا قیام کمزور وں کا دل بہلانے کیلئے عمل میں لایا گیا، امریکہ اور اس کے بنائے دہشت گردوں نے عالم اسلام کو لہو لہان کیا اور کررہے ہیں ،یمن سے بغداداور شام و فلسطین سے کشمیر تک مسلمانوں کے خون کی ارزانی مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیت کیلئے سوالیہ نشان ہے ، مسلم فرمانروا’ اسلام کا بڑھاو¿‘اور اپنے ملکوں کا بچاو¿ چاہتے ہیں تو شیطان بزرگ امریکہ سے جان چھڑائیں ، ایک فورم پر متحدہ ہو جائیں بصورت دیگر خود بھی رسوا ہوں گے اور مسلمان بھی گرداب میں پھنسے رہیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ہر امریکی صدر نے مسلم دشمنی کی ایک نئی داستان رقم کی اوبامہ نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے جو معاہدہ کیا وہ بھی اسرائیل کے تحفظ کیلئے تھا اور ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی مسلم ممالک پر سفری پابندیاں لگائیں ایران کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا قطر کی ناکہ بندی کروائی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنوا کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ،مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروانے کیلئے مہم شروع کی ،گولان کی پہاڑیوں سمیت مقبوضہ عرب علاقوں پر اسرائیل تسلط تسلیم کرایا اور سب سے بڑھ کر سعودی عرب میں 39ملکی اتحاد بنوا کر مسلمانوں میں خلیج اور تفریق کو مزید گہرا کر دیا ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پر سوویت حملے پر جو پالیسی ڈیموکریٹ صدر کارٹر نے شروع کی وہی ری پبلکن صدر ریگن نے آگے بڑھائی دنیا بھر سے جنگجوو¿ں کو جمع کرکے پاکستان اور افغانستان میں جہاد کے نام پر بسایا انتہا پسندی اور تشدد کی نرسریوں کو آبادکیا اور کام پورا ہوتے ہی ان جنگجوو¿ں کو دہشت گرد قرار دے کر امریکہ بہادر مسلم ممالک پر چڑھ دوڑا ،دہشت گرد امریکہ کی راہ ہموار کرتے رہے اور امریکہ مسلمانوں کو استعمال کرکے مسلمانوں کو ہی کچلتا چلا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ یہ عالم اسلام کا المیہ ہے کہ کسی مسلم ملک پر حملہ ہو تو دوسرے مسلمان ملک شادایانے بجانے لگتے ہیں یا چپ سادھ لیتے ہیں کوئی مسلمان ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو دوسرے مسلمان ملک ہی اس سے جیلسی کا شکار ہو جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان کے سی پیک کے ساتھ ہو رہا ہے دشمن تو دشمن دوست ممالک بھی گوادر اور سی پیک سے خوفزدہ ہیں، مسلمان اسی صورت محفوظ ہو سکتے ہیں جب کسی بھی مسلم ملک پر حملہ کو عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ شیطانی طاقتیں ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد سے خائف رہی ہیں جب مسلمان ممالک نے مسجد اقصی کی آتشزدگی کے ردعمل میں اوآئی سی قائم کی اور مسلم سربراہ کانفرنسیں پہلے رباط اور پھر لاہور میں منعقد ہوئیں تو تو شیطانی طاقتوں میں لرزہ پیدا ہو گیا اور مسلمانوں کے اتحاد میں پیش پیش تمام مسلم لیڈروں کو ایک ایک کرکے تہ تیغ کردیا گیا اور مسلم ممالک کے امور اپنے پٹھوو¿ں کے سپرد کردیئے آج بھی انہی سے کام لیا جارہا ہے ۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ کب تک ان کے وسائل اور سرمایہ امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا ایندھن بنتا رہے گا ؟اور کب تک وہ استعماری اور صیہونی مفادات کیلئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے رہیں گے ؟ مسلم حکمران اپنی اقتصادیات و دفاع اور خارجہ پالیسی کومضبوط اور امریکی تسلط سے آزاد کرواکے ہی عالم اسلام اور مظلوم انسانیت کو سربلندی سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.