شیعہ دینیات دوبارہ جاری کی جائے، قرآن و سنت سے متصادم تعلیم اورعقائد کے منافی قانون سازی قبول نہیں ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کا وزیر مذہبی امور سے ملاقات میں مطالبہ

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے نمائندہ وفد کی وفاقی وزیر مذہبی امور سے ملاقات
پیر نور الحق قادری کو شیعہ مطالبات، مکتب تشیع میں پائی جانیوالی بے چینی و اضطراب کی طرف متوجہ کیاگیا
حکومت قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شا ہ موسوی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے بارے میں فوری اقدامات کرے۔ حسن کاظمی
شیعہ طلباء کیلئے جداگانہ شیعہ دینیا ت کا دوبارہ اجراء کیا جائے،حکومت کاجاری کردہ یکساں نصاب تعلیم متعصبانہ ہے،سب کیلئے قابل قبول بنایاجائے
شیعہ جامع مسجد پشاور کے المناک سانحے کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاجائے، متاثرین کے نقصانات کی تلافی، امدادی پیکج کااعلان کیاجائے
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی جانب سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مطالبات کے بارے میں مثبت پیشرفت کی کی یقینی دہانی
اتحاد بین المسلمین،بین المذاہب ہم آہنگی ہمارے منشور ہے ہم تمام مکاتب فکر کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ نورالحق قادری کی وفد سے گفتگو

اسلام آباد ( ولایت نیوز)تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے نمائندہ وفد نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری سے وزارت مذہبی امورمنسٹر آفس میں ملاقات کی۔ وفد میں، سید حسن کاظمی، ڈاکٹر علامہ غضنفر عباس ملک، علامہ سید قمر حیدرزیدی،علامہ شبیہ الحسن کاظمی، ذوالفقار علی راجہ اور ذوالقرنین حیدر شامل تھے۔

اس موقع پر ٹی این ایف جے کے مرکزی سیکرٹری تعلقات عامہ سید حسن کاظمی نے وفاقی وزیر کو شیعہ مطالبات اور مکتب تشیع میں پائی جانیوالی بے چینی و اضطراب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شا ہ موسوی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پر فوری عملدامد کرے۔ انہوں نے باور کرایا کہ یکساں نصاب تعلیم ہر شہری کا خواب ہے لیکن مسلمہ مکاتب کے لیے قابل قبول نصاب کے بجائے جو کورس یکساں نصاب کے نام پر جاری کیا گیا ہے اس میں قرآن و سنت سے متصادم نظریات شامل ہیں لہٰذا اہل تشیع طلباء کے لیے جداگانہ شیعہ دینیا ت کا دوبارہ اجراء کیا جائے بصورت دیگر نصاب میں موجود اسلامی مضامین میں صرف مشترکات کو شامل کیا جائے۔

ٹی این ایف جے کے وفد نے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں منظور کیے گئے متنازعہ فیملی لا ء بل کو مکتب تشیع کے عقائد اور آئین کے آرٹیکل 227 کے منافی اور پرسنل لاز میں مداخلت کا راستہ کھولنے کے مترادف قرار دیا اور اس ترمیم کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حسن کاظی نے عزاداری پر ناروا پابندیوں، عقائد میں مسلسل مداخلت، نوحوں پر پابندی، تکفیری شدت پسندکالعدم گروپوں کی نئے ناموں سے سرگرمیوں اور ملک میں دہشتگردی کی تازہ لہر بالخصوص سانحہ شیعہ جامع مسجد کوچہ رسالدار پشاور کے متاثرین کے نقصانات کی تلافی، امدادی پیکج اور سانحہ کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

ٹی این ایف جے کے وفد نے ملک میں بیگناہوں کی شیڈول فور میں شمولیت کو ظلم و زیادتی قرار دیتے ہوئے اسے انتہاء پسندوں کو ریلیف دینے کا باعث قرار دیا۔ آخر میں وفدنے ملک میں قیام امن کو یقینی بنانے، پاکستان کی خوشحالی و استحکام کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں عملی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی معروضات کو بغور سن کر ان پر مثبت عملدامد کا وعدہ کیا اور کہا کہ حکومت تمام مکاتب فکر کے حقوق کی یکساں ادائیگی پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب ہم آہنگی ہمارے منشور کا حصہ ہے جسکے لیے ہم تمام مکاتب فکر کو ساتھ لیکر چلیں گے اور پاکستان کو امن کا گہوار ہ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.