قومی سلامتی پالیسی خوش آئند؛ مسلمان متحد ہو جائیں ورنہ ہر ملک کی سلامتی داؤ پر لگی رہے گی حضرت ام لبنین ؑ کا درس وفا دین ووطن کی سلامتی کا ضامن ہے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

قومی سلامتی پالیسی کا اجراء خوش آئند ہے پارلیمان میں پیش کرکے اسے ’متفقہ‘بھی بنایا جائے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیکر قومی مفاہمت کا تقاضہ پورا کیا جائے،قومی سلامتی پرحکومت اپوزیشن کا اختلاف دشمن کو تقویت پہنچائے گا
یکساں نصاب کو مسترد کرچکے ہیں طبقاتی نصاب کے بعد ’تفرقہ ساز‘ نصاب مسلط کردیا گیا،قوم کو نئی آزمائش میں مبتلا کیا جارہا ہے
نئے نصاب نے ایسی بحثوں کو چھیڑ دیا ہے جو داخلی سلامتی کیلئے شدید نقصان دہ ہیں وزیر اعظم فرقہ وارانہ نصاب بنانے والوں کیخلاف کاروائی کریں
مسلم ممالک کا صیہونی طاقتوں کی جانب دیکھناعالم اسلام کی توہین ہے، امت مسلمہ متحد ہو جائے ورنہ ہر ملک کی سلامتی داؤ پر لگی رہے گی
حضرت ام لبنین ؑ کا درس وفا دین ووطن کی سلامتی کا ضامن ہے،راہ وفا پر چلتے ہوئے دین و وطن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، علماء و عزاداروں سے خطاب

اسلام آباد (ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کا اجراء خوش آئند ہے پارلیمان میں پیش کرکے اسے ’متفقہ‘بھی بنایا جائے، پاکستان کے مستقبل کی ضامن پا لیسی پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیکر قومی مفاہمت کا تقاضہ پورا کیا جائے۔ حکومت اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کے دوپہیے ہیں قومی سلامتی پر کوئی بھی اختلاف دشمن کو تقویت پہنچائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب کو مسترد کرچکے ہیں طبقاتی نصاب کے بعد ’تفرقہ ساز‘ نصاب مسلط کردیا گیاقوم کو نئی آزمائش میں مبتلا کیا جارہا ہے، مسلم ممالک کا باہمی مسائل میں صیہونی طاقتوں کی جانب دیکھناعالم اسلام کی توہین ہے، امت مسلمہ متحد ہو جائے ورنہ ہر ملک کی سلامتی داؤ پر لگی رہے گی۔

آقای موسوی کا کہنا تھا کہ حضرت ام لبنین ؑ کا درس وفا دین ووطن کی سلامتی کا ضامن ہے حضرت ام البنین ؑ کی ذات عشق رسالت ؐ و اہلبیتؑ کا سرچشمہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایام مادر عباس علمدار ؑ کے اختتامی روزیوم شہادت حضرت ام البنینؑ کے موقع پرعلماء اور عزادارو ں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نئے نصاب نے ایسی بحثوں کو چھیڑ دیا ہے جو داخلی سلامتی کیلئے شدید نقصان دہ ہیں نیا نصاب تفرقہ بازی کو جنم دے گا اور تفرقہ بازی داخلی سلامتی کو کمزور کرتی ہے وزیر اعظم یکساں نصاب کے بجائے فرقہ وارانہ نصاب بنانے والوں کیخلاف کاروائی کریں۔انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم قوم کی نسلوں کومستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا سانچہ ہے لیکن اگر اس سانچہ کو متنازعہ بنا دی اجائے تو متواتر تنازعات کو جنم لینے سے کوئی نہیں روک سکتا،وطن عزیز پاکستان دشمنوں میں گھرا ہوا ہے داخلی تنازعات اور تفرقات کا ہر گز متحمل نہیں ہو سکتا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ تاریخ اسلام میں حضرت ام البنین ان نمایاں ترین ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے مودت اہلبیت ؑ کے اجر رسالت ؐ کی ادائیگی میں معراج و کمال پایا اور اولاد نبی ؐ کے ساتھ اس انداز میں عقیدت و محبت نہ صرف خود نبھائی بلکہ اپنی اولاد کا بھی سکھلائی کہ عشق رسالت و اہلبیت کے ساتھ ساتھ ایثار و وفا کا استعارہ بن گئیں، کربلا کے میدان میں حضرت ام البنین ؑ کے چار فرزند امام حسین ؑ کی نصرت میں شہید ہوگئے لیکن حضرت ام البنین نے اپنے فرزندوں کے بجائے نواسہ رسول امام حسین ؑ کے غم کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت ام البنین جب تک زندہ رہیں کربلا کے مصائب یاد کرتیں امام حسین ؐ کی مظلومیت جنت البقیع میں جا کر بیان کرتیں تاکہ کربلا کے شہیدوں کا ذکر ہمیشہ زندہ رہے اور ان مجلسوں میں خاندان عصمت و طہارت کی عورتیں شریک ہوکر کربلا کے شہیدوں پر آنسو بہاتی تھیں آپ نے اپنی تقریروں، مرثیوں اور اشعار کے ذریعے شہیدان کربلا کی مظلومیت کودنیا پر اجاگر کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حضرت ام البنین ؑ اور ان کے فرزندان کی روشن کردہ راہ وفا پر چلتے ہوئے عالم اسلام کی یکجہتی اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.