سانحہ نیوزی لینڈ کے ذمہ دار امریکی صدور ہیں،یوم پاکستان پر قائد ملت جعفریہ کا خطاب 

ولایت نیوز شیئر کریں

سانحہ نیوزی لینڈ کے ذمہ دار بش سے لیکر ٹرمپ تک امریکی صدور ہیں، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

نائن الیون امریکہ، سیون سیون لندن اوربھارت کے ممبئی و پلوامہ ڈراموں کے پس پردہ ایک ہی سازش کارفرما تھی

کفر اسلام دشمنی میں متحد جبکہ عالم اسلام پارہ پارہ ہے اوآئی سی اپنی سمت گم کرچکی‘بھارت کیخلاف قرارداد پاس ہونی چاہئے تھی

نیوزی لینڈ عوام اور وزیر اعظم کا جذ بہ اسلام دوستی کی احسن ترین مثال اور ایک دوسرے کو گرانے میں مصروف مسلم حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے

یو این آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے یا امن کے قیام کو چارٹر سے نکال دے،حکومت سمجھوتہ ایکسپر یس کے مجرم بھارت سے طلب کرے

پاکستان کا پاسبان حسینی و زینبی جذبہ ہے دنیا کی کوئی طاقت وطن عزیز اور اسکے نظریے کو نہیں مٹا سکتی، یوم پاکستان کے مو قع پر خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلٰی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ سانحہ نیوزی لینڈ کے ذمہ دار صیہونی امریکی تھنک ٹینک اور بش سے ٹرمپ تک امریکی صدور ہیں جنہوں نے سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسلام فوبیا کی آبیاری کی اور بھارت کی چانکیائی سوچ نے بھی اس میں بھرپور حصہ ڈالا، امریکہ کے نائن الیون لندن کے سیون سیون سے بھارت کے ممبئی و پلوامہ حملوں تک تمام ڈراموں کے پس پردہ ایک ہی سازش کارفرما تھی ،دنیائے کفر اسلام دشمنی میں متحد جبکہ تو حید کے پرستار پارہ پارہ ہو چکے ہیں اوآئی سی اپنی سمت گم کرچکی ہے اقوام متحد ہ آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے جو پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ڈیڈ لائن بھی دے چکی ہے بصورت دیگر امن کے قیام کو اپنے چارٹر سے نکال دے، استنبول اجلاس میں پاکستان کو سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرموں کی رہائی کے خلاف قرارداد پاس کروانی چاہئے تھی حکومت سمجھوتہ ایکسپر یس کے مجرموں کو بھارت سے طلب کرے ، نیوزی لینڈ کے عوام اور وزیر اعظم کا جذبہ اس صدی میں انسانیت دوستی کی احسن ترین مثال ہے اور ایک دوسرے کو گرانے میں مصروف مسلم حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے ، پاکستان تا ابد الآباد قائم رہنے کیلئے بنا ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور اسکے نظریے کو نہیں مٹا سکتی جس کا پاسبان حسینی و زینبی جذبہ ہے ، ثانی زہرا ؑ حضرت زینب بنت علی ؑ کردار دنیائے مظلومیت کیلئے مشعل راہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد صہیونی دانشوروں نے امریکی عوام کا لہو گرم رکھنے کیلئے عالم اسلام کو متصادم قوت کے طور پر پیش کیا عالمی استعماری سرغنہ امریکہ اور اس کے پٹھوؤں نے عالم سلام کے خلاف معاندانہ رویہ کیلئے فکری راہ ہموار کی ،امریکی دانشور شیرین ہنٹر نے مغرب اور اسلام میں لکھا کہ اسلام نیا مثالی دشمن امیدوار ہے جو کمیونزم کے منہدم ہونے کے بعد دشمن کے خلا کو پر کرسکتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مغربی تہذیب عالم اسلام پر حملہ آور ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے ڈرامے کا مقصد وحید عالم اسلام کے خلاف نفرتوں کو بڑھاوا دینا تھاایک طرف نفرت کی آگ بھڑکائی گئی دوسری جانب سوویت یونین کے خلاف تخلیق کردہ امریکی جنگجوؤں کو مختلف اسلامی نام دے کر دہشت گرد تنظیموں کالیبل لگا دیا گیااور دنیا بھر میں مغربی اسلحے اور وسائل کے زور پر دہشت گردی کا بازار گرم کردیا گیا اور اسی دوران مشاہیر اسلام کے مزارات اور تاریخی نشانیوں کو بھی زمیں بوس کروا دیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اوآئی سی کے اجلاس میں اسلام فوبیا پھیلانے والوں کے ساتھ ساتھ بھارت و اسرائیل پر حکمران دہشت گرد سوچ کی بھی کھل کر مذمت کرنی چاہئے تھی مسجد اقصی کی آتشزدگی کے بعد او آئی سی کو وجود دینے کا بنیادی مقصد عالم اسلام کی وحدت اور امت مسلمہ کو درپیش خطرات کیلئے لائحہ عمل کو سامنے لانا تھا لیکن یہ مقام افسوس ہے کہ دنیائے اسلام کے سب سے بڑے ملک اور واحد ایٹمی قوت پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو یو اے ای کے وزرائے خارجہ اجلاس میں مہمان خصوصی بنا دیاگیاجو عالم اسلام کی المناک صورتحال کا غماز ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ شیاطین ثلاثہ امریکہ بھارت و اسرائیل کے مفادات کیلئے کام کررہی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت مشرقی تیمور اور سوڈان میں اسلامی ممالک توڑنے کیلئے استصواب رائے کروانا اور کشمیر و فلسطین میں استصواب رائے نہ کروانا ہے جس پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں ، مسلمانوں اور غیر مسلموں کیلئے یو این کا معیار الگ اور منافقانہ ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے حکومت پر زور دیا کہ سمجھوتہ ایکسپر یس کیس کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھائے سفراٗ کے ذریعے اجا گر کرے ، اگر نواز شریف دور میں بھارت میں ہونے والے واقعات کی ایف آئی آر گو جرانوالہ میں درج ہو سکتی ہے تو پاکستانی شہریوں کو جلائے جانے پر خاتون وکیل راحیلہ بانو کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہو سکتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.