مر جع شیعیان جہاں آیۃ اللہ العظمی سعید الحکیم انتقال کرگئے ، شعائر حسینیہ کے محافظ علم وعمل کے کوہ گراں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

نجف اشرف (ولایت نیوز ) مرجع شیعیان جہاں آیۃ اللہ العظمی سید محمد سعید الحکیم الطبا طبائی 25 محرم 1443 ھ یوم شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے موقع پر انتقال کرگئے ۔

پوری دنیائے شیعیت میں آیۃ اللہ سعید الحکیم کی رحلت کی خبر رنج و غم کے ساتھ بنی گئی اور علماء و مراجع ان کی رہائش گاہ پر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ۔

آیہ اللہ سعید الحکیم مرجع شیعیان جہاں آیۃ سید محسن الحکیم اعلی اللہ مقامہ کے نواسے اور آیۃ اللہ محمد علی الحکیم کے فرزند تھے ۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے آیۃ اللہ العظمی سعید الحکیم کے انتقال کو امت مسلمہ کیلئے عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیۃ اللہ سعید الحکیم نے حکیم خانوادہ کے ہمراہ جس انداز میں صدام و بعثی مظالم کا سا منا کیا وہ تاریخ شیعیت کا سنہرا باب ہے شعائر حسینیہ کے محافظ علم و عمل کے کوہ گراں آیۃ اللہ سعید الحکیم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ آیت اللہ سعید الحکیم نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صدام حکومت کے قیدخانوں میں گزارا لیکن حق و صداقت کا علم سر نگوں نہ ہونے دیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ شعائر حسینیہ کے تحفظ بالخصوص خون کے ماتم کیلئے آیۃ اللہ سعید الحکیم نے ہمیشہ دو ٹوک موقف اختیار کیا اور واضح کیا کہ قمہ و تطبیر(خون کا ماتم ) باعث و فضیلت ثواب ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم اس عظیم عمل کا موازنہ کسی دوسرے نیک کام کے ثواب سے نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ بدترین جبر وتشدد سہنے کے بوجود آیۃ اللہ سعید الحکیم نے ایران پر حملے کیلئے صدام حکومت حکومت کی تائید کرنے سے انکار کردیا، اربعین کی سنت زینب سلام اللہ علیھا کو زندہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا جو آج دنیا کی سب سے بڑٰ واک کی شکل اختیار کر چکی ہے آیۃ اللہ سعید الحکیم نے عراق اور شام میں مزارات مقدسہ کی بحالی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اعلان کیا کہ کائنات میں شہادت حسین ؑ سے بڑا کوئی غم نہیں اور کربلا سے بڑا کوئی سانحہ نہیں لہذا مرحوم آیت اللہ سعید الحکیم کی رسومات تعزیت ایام عزائے حسینی کے اختتام 8 ربیع الاول کے بعد ادا کی جائیں گی ۔

آیۃ اللہ سعید الحکیم اربعین کی زیارت میں شریک ؛ دوسری جانب ایک معذور زائر کا سر چوم رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.