پنجاب حکومت کی خواہش پرتحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی زعماء وزیر قانون سمیت حکام سے ملاقات،عزاداروں کے مسائل نفرت انگیزی کی لہر پر تبادلہ خیال

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی صوبائی وزیر قانون سے ملاقات،عزاداروں کے مسائل نفرت انگیزی کی لہر پر تبادلہ خیال
اتحاد و اخوت اور امن کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں کسی شخص کے ذاتی فعل کو اسکے مکتب کیساتھ نتھی نہ کیا جائے،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
وطن سے وفاداری جزو ایمان ہے ملک میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بیرونی تنخواہ دارنفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں،خارجیوں کا مکو باندھا جائے
عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،حکومتی اقدامات سے مکتب تشیع میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، علماء و ذاکرین کی گرفتاری سوالیہ نشان ہے
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سی ٹی ڈی کے اعداد و شمار کو مسترد کردیا یکطرفہ کاروائی نہ کی جائے،متعصب افراد کو سرکاری اداروں کا سربراہ بنادینا سوالیہ نشان ہے
ملک کو انتشار سے پاک رکھنا مشترکہ فریضہ ہے تمام مکاتب شرپسندوں کو بے نقاب کریں، راجہ بشارت؛خامیاں دور کرنے کی یقین دہانی

لاہور(ولایت نیوز ) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبہ بھر سے آئے زعماء نے پنجاب حکومت کی خواہش پر صوبائی صدر علامہ حسین مقدسی کی قیادت میں لاہور سیکرٹریٹ میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا سمیت اعلی افسران سے ملاقات کی جس کے دوران محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو درپیش مسائل، پاکستان میں نفرت انگیزی کی لہر اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کی غرض و غایت بتاتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ ملک کو انتشار سے پاک رکھنا مشترکہ فریضہ ہے سوشل میڈیا پر ایک ایسے دشمن کا سامنا کررہی ہے جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں بھائی چارے کی فضاکے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا نمایاں کردار ادا کیا ہے امید رکھتے ہیں آئندہ بھی تعاون جاری رکھا جائے گا۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنماؤں علامہ حسین مقدسی، حسن کاظمی اور علامہ زاہد کاظمی نے حکومتی زعماء پر واضح کیا کہ مجلس و جلوس صرف شیعہ نہیں سنی بھی شریک ہوتے ہیں سبیلیں لگاتے ہیں عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے وطن سے وفاداری اور انسانیت سے محبت جزو ایمان ہے کسی شخص کے ذاتی فعل کو اس کے مکتب کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے مکتب تشیع نے اتحاد و اخوت اور امن کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور دیتے رہیں گے ملک میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بیرونی ممالک کے تنخواہ دارنفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں دوسری جانب حکومتی اقدامات سے مکتب تشیع میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے کالعدم دہشتگرد تنظیمیں سرکاری اداروں کمیٹیوں یہاں تک کہ اسمبلیوں تک میں براجمان ہیں کالعدم جماعتوں کو ملنے والی ڈھیل کے نتیجے میں اوکاڑہ اور اسلام آباد کے جلوسوں پر حملہ ہوا رویت ہلال کمیٹی، علما بورڈ کے سربراہان متعصب لوگ ہیں جو اسوقت بھی اشتعال انگیز اور تکفیری زبانیں بول رہے ہیں نظریاتی کونسل میں کالعدم جماعتوں کے افراد موجود ہیں نیشنل ایکشن پلان بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے جب قوانین اور اچھے برے کا خیال حکومت خود نہیں رکھے گی تو امن کیسے قائم ہوگا،

ٹی این ایف جے رہنماؤں نے کہا کہ علماء و ذاکرین کی گرفتاریاں اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا اندراج قانون نافذ کرنیوالے ادارے پر سوالیہ نشان ہے چار دیواری کے اندر مجالس پر پابندیاں غیر آئینی ہیں اور حقوق کی سلبی ہے،روایتی اور لائسنسی جلوسوں کو تحفظ دیا جائے۔ سرکاری شیڈول کی غلطیاں درست کی جائیں،عزاداروں و بانیان کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آرز واپس لی جائیں شیڈول فور کے ذریعے دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے،مکتب تشیع میں پائے جانیوالے احساس کمتری اور روا رکھے جانیوالے امتیازی سلوک کا ازالہ کیا جائے،سوشل میڈیا پر توہین کے واقعات اور کافر کافر کہنے کا سلسلہ کا نوٹس لیا جائے اپنے سوا سب کو کافر سمجھنے والے ناصبیوں خارجیوں کا مکو باندھا جائے تو امن ہوگا ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیاپر تکفیری ٹرینڈ چلانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے،تحفظ بنیاد اسلام بل کوقرآن و سنت اور آئین سے متصادم ہونے کی بناء پر مسترد کیا پاکستان کی بنیادوں میں ہمارا خون شامل ہے کوئی غیر ائینی چیز برداشت نہیں کریں گے۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے زعماء نے اجلاس میں ایک حکومتی ادارے سی ٹی ڈی کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر حقیقت پسندانہ کہہ کر مسترد کردیا اور مطالبہ کیا کہ یکطرفہ کاروائی نہ کی جائے۔وزیر قانون نے حکومتی اقدامات میں کوتاہیوں کا اعتراف کیا اور خامیوں کو دور کرنے، اور بہتر اقدامات کا یقین دلایا، مزید مطالبہ کیا کہ تمام مکاتب اپنے اندرچھپے شرپسندوں کو بے نقاب کریں اور ان سے لا تعلقی کریں اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ منافرت انگیزی کے جال میں نہ پھنسیں۔ملاقات میں پولیس، سیکیورٹی اداروں کے صوبائی نمائندگان، ڈی سی اور سی سی پی او لاہور نے بھی شرکت کی۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد میں سید ذوالفقار نقوی، انجینئر قمر حسنین، چاہدی ایوب اوپل، چوہدری اکرم طاہر، آغا حجت علی ، سید ندیم کاظمی ، مقداد نقوی سمیت پنجاب کے تمام ریجنز کے نمائندگان شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.