ہزاروں خاشقجی امریکی دوستوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہو چکے، تازہ درد کے پیچھے گریٹر اسرائیل ایجنڈا ہے، آغا حامد موسوی ؛ اسلام آباد پرسے میں ہزاروں عزاداروں کی شرکت

ولایت نیوز شیئر کریں

حرمین شریفین کو سب سے بڑا خطرہ مغرب کی ڈکٹیشن پر پروان چڑھنے والی دہشت گرد فکر سے ہے ،حسینیت ہر دور میں حرمین کی پاسبان ہے

امریکہ کو افغانستان اور خلیج سے نکالنے کیلئے مسلم حکمرانوں کو شام یمن بحرین میں مداخلت بند کرنا ہوگی یمن کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے

یمن ثالثی سے قبل اپنے ملک کے مسائل حل کئے جائیں،نئے پاکستان کیلئے اللہ پر توکل کرنا ہوگاقرض اور امداد اصولوں پرسمجھوتوں کے بغیر نہیں ملتے

کربلا و دمشق گواہ ہیں سچ کے علمبردار وں کا ناحق خون کبھی نہیں چھپ سکتاعزاداری پرکبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، میڈیانمائندگان و عزاداروں سے خطاب

قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کی قیاد ت میں ’’ہفتہ عہد و پیمان‘‘ کے مرکزی ماتمی احتجاجی جلوس میں پاکستان بھر سے علمائے کرام و ماتمی عزاداروں کی شرکت

اسلام آباد (ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ صرف ایک نہیں ہزاروں خاشقجی حق کی آواز بلندکرنے پر امریکہ اور مغرب کے دوست حکمرانوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہو چکے ہیں، امریکہ کو اٹھنے والے انسانیت کے تازہ درد کے پیچھے گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا ہے امریکہ اور اس کے پٹھوانسانی حقوق نہیں اپنے مفادات کے دوست ہیں، حرمین شریفین کو سب سے بڑا خطرہ اس دہشت گرد فکر سے ہے جسے مغرب کی ڈکٹیشن پر پروان چڑھایا گیا،حسینیتؑ ہر دور میں حرمین کی پاسبان ہے ، امریکہ کو افغانستان اور خلیج سے نکالنے کیلئے مسلم حکمرانوں کو شام یمن بحرین میں مداخلت بند کرنا ہوگی یمن کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے اکثریتی جماعت کے آئینی مطالبے کو طاقت سے کبھی نہیں کچلا جا سکتا، یمن ثالثی سے قبل پہلے اپنے ملک کے مسائل حل کئے جائیں ، نئے پاکستان کیلئے اللہ پر توکل کرنا ہوگاقرض اور امداد اصولوں پرسمجھوتوں کے بغیر نہیں ملتے کربلا و دمشق گواہ ہیں کسی بھی سچ کے علمبردار کا ناحق خون کبھی نہیں چھپ سکتاہر ظالم یاد رکھے کہ جبر دہشت گردی کا مقدر فنا ہے، عزاداری امام حسینؑ غیرت و حمیت کا درس جاودانی ہے جس پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات 6ربیع الاول کو عالمگیر’’ہفتہ عہد و پیمان‘‘ کی مناسبت سے شہادت حضرت امام حسن عسکری ؑ او رایام عزا کی الوداعی پرسہ داری کے موقع پر باب فضہ مرکزی امام بارگاہ جامعۃ المرتضیٰ ؑ جی نائن فور اسلام آباد سے بر آمد ہونے والے مرکزی ماتمی احتجاجی جلوس کے دوران میڈیانمائندگان اور ملک بھر سے آئے عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع علمائے کرام کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مسلمانوں کے مصائب و مسائل کی بنیادی وجہ اسلام شریعت اور قرآن و اہلبیت سے دوری ہے وحدت کے مراکز سے دوری نے مسلمانوں کو پارہ پارہ کردیادکھ یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے مسلم حکمران شیطنت کو تقویت بخش رہے ہیں اگر مسلم ممالک اپنے گولہ و بارود کا رخ اپنوں کے بجائے امریکہ بھارت و اسرائیل کے خلاف کرتے تو کوئی طاقت اسرائیلی دارالحکومت یروشلم منتقل نہیں کر سکتی تھیاور نہ ہی فلسطینیوں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کے ایماء پر دہشت گردی کی فکر کو پروان چڑھایا گیا جس کے نتیجے میں جنت ابقیع جنت المعلی تاراج کردیئے گئے اورانبیاء کرام صحابہ کرام کی قبروں کے ساتھ ساتھ اما م اہلبیت امام حسن عسکریؑ اور امام اہلسنت حضرت ابو حنیفہؒ کے مزارات کو بھی نہیں بخشا گیا، دہشت گردی کے لئے مسلم ممالک کو متحد ہونا ہوگا، شیاطین ثلاثہ امریکہ اور اس کے پٹھو بھارت و اسرائیل ویت نام ، کوریا ، افغانستان ، شام ، لیبیا ، کشمیر فلسطین غرضیکہ پوری دنیامیں قتل و غارت گری کے ذمہ دار ہیں ،پاکستان کو نظریہ اساسی کی سزا دی جا رہی ہے سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے سازشیں عروج پر ہیں ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ جس قدر محبت رسول کریم ؐ نے اپنے نواسوں حسنؑ و حسین ؑ سے کی اس کی نظیر نہیں ملتی بانی اسلام نے ان شہزادوں کو ان کے عظیم کردار اور مقام کے طفیل جنت کے جوانوں کا سردار قرار دیا امام حسین ؑ نے شریعت کی پاسبانی اور حرمت انسانیت کی نگہبانی کرتے ہوئے کربلا میں اپنے پیاروں اور جانثاروں کی لا زوا ل قربانی دی جس سے اسلام ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہو گیا اور افتخار انسانیت دوبالا ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ یزیدیت قربانی امام حسین ؑ کے اثرات ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا اگر سیدہ زینب بنت علی ؑ اور امام زین العابدین ؑ بازاروں درباروں اور زندانوں میں اپنے خطبات کے ذریعے یزیدی ظلم کا پردہ چاک نہ کرتے ، حسینیت اسلام کی بقا کی ضمانت بنی توسیدہ زینب و زین العابدین کی قائم کردہ عزاداری حسینیت کے دوام کا عنوان بن گئی ،پوری دنیا میں لبیک یا حسین ؑ کی صدائیں اور آزادی و حریت کے ترانے زینبی کردار کے سبب ہیں جس کا ثبوت کئی کروڑ عزاداروں نے اربعین حسینی کے موقع پر کربلا میں جمع ہو کر دیا۔اربعین کے اجتماع نے ثابت کیا کہ حسین سب کے ہیں امام حسین ؑ کا پیغام ہر زمانے ہر عہد ہر انسان ہر ملک ہر مذہب کیلئے ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ عزاداری ہماری محتاج نہیں اور نہ ہم عزاداری کے پاسبان ہیں دراصل عزاداری حسین ؑ دین و شریعت کی پاسبان ہے دنیا کا ہر مظلوم عزاداری کی پناہ لیتا ہے یہ کسی شخصیت ملک مذہب نہیں بلکہ یہ ہر عہد کے ہر یزید ڈکٹیٹڑ ظالم و جابر کے خلاف موثر ترین احتجاج ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔

قبل ازیں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے جامعہ المرتضیٰ پہنچنے پر حضرت عباس علمدار ؑ کے علم مبارک کی پرچم کشائی اور دعا کی ،درجنوں ماتمی دستوں نے پرسہ داری اور نوحہ خوانی کی ماتمی جلوس اپنے روایتی راستے سے گزرکرباب رسول خدا جامعہ المرتضی میں اختتام پذیرہوا۔اس موقع پر پولیس اور مختارفورس کے رضا کاروں نے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کررکھے تھے۔

مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایم ا و اور مختار جنریشن کی جانب سے عزاداری کیمپ لگائے گئے تھے، جبکہ ابراہیم سکاؤٹس اوپن گروپ کا چاق و چوبند دستہ جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔ پاکستان بھر سے نمائندہ علمائے کرام ‘مذہبی عمائدین ‘ماتمی سالاروں اور مختلف مکاتب فکر کے افراد نے بڑی تعداد میں پرسہ داری میں شرکت کی۔آغا سید محمد مرتضیٰ موسوی ایڈووکیٹ‘آغاسیدعلی روح العباس موسوی ایڈووکیٹ نے تمام شرکاء سے اظہارِ تشکر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.