مکتب تشیع لاوارث نہیں،بڑے اقدام پر مجبور نہ کیاجائے کوہاٹ میں پر امن شہری قیصر عباس کا قتل کھلی دہشت گردی ہے،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

ولایت نیوز شیئر کریں

پاکستان کو فرقہ وارانہ اسٹیٹ ثابت کرنے کیلئے زورلگانا دو قومی نظریے سے انحراف ہے۔ تحریک نفاذفقہ جعفریہ
قائد اعظم کے مکتب کیساتھ امتیازی معاندانہ رویہ ترک کیاجائے،فساد اورآپریشن رد الفسادبیک وقت جاری ہیں
کوہاٹ میں پر امن شہری قیصر عباس کا قتل کھلی دہشت گردی ہے، مکتب تشیع کو لاوارث نہ سمجھا جائے، کسی بڑے اقدام پر مجبور نہ کیاجائے
تنگ آمد بجنگ آمد کی یہی صورتحال برقرار رہی توحالات کی ذمہ داری ارباب اقتدار پر عائد ہوگی،ملک میں صرف دہشتگرد ممنوعہ گروپ محفوظ ہیں
ملکی سلامتی عزیز تر ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، منظم منصوبے کے تحت واعظین و ذاکرین کو بلا جواز گرفتار کرنا قانون کا قتل ہے
نئے نئے پنڈورہ بکس کھولنے والے دشمن کے ایجنٹ ہیں، ہم کسی کے آلہ کار ہیں نہ کسی کے پٹھو۔ مرکزی ترجمان ٹی این ایف جے کابیان

اسلام آباد( ولایت نیوز) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم کے مکتب کے ساتھ امتیازی سلوک اور معاندانہ رویہ ترک کیاجائے، مکتب تشیع کو لاوارث نہ سمجھا جائے کسی بھی بڑے اقدام کیلئے مجبور نہ کیاجائے، اگر تنگ آمد بجنگ آمد کی صورتحال برقرار رکھی گئی تو تمام تر حالات کی ذمہ داری ارباب اقتدار پر عائد ہوگی،ملکی بقا و سلامتی ہمیں عزیز تر ہے لیکن یاد رکھا جائے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، بڑے اقدام پر مجبور کیاگیا توایسا قدم اٹھائیں گے کہ قوم و ملک کے دشمن کو پتہ چل جائے گا کہ مکتب تشیع کس قوت کا نام ہے،نئے نئے پنڈورے کھولنے والے دشمن کے ایجنٹ ہیں، ہم کسی کے آلہ کار ہیں نہ کسی کے پٹھو اور نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، اس وقت کچھ قوتیں پوری طاقت اس بات پر صرف کر رہی ہیں کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ اسٹیٹ ثابت کیاجائے جبکہ ی دو قومی نظریئے بانی پاکستان کے اصولوں سے کھلا انحراف ہوگا۔ ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع سے جاری بیان میں ترجمان نے باور کرایا کہ پاکستان ہمیں عزیز ترین ہے جسے بڑی قربانیاں دیکر ہم نے حاصل کیا آدھا پاکستان پہلے ہی عصبیت و تنگ نظری وکوتاہ بینی کی نذر ہو چکا ہے اورباقی ماندہ کو بیرونی آقاؤں کی مکروہ پالیسیوں کا اکھاڑا نہ بنایاجائے، یہ امر توجہ طلب ہے کہ قائد اعظم کے مکتب کے ساتھ ملک میں معاندانہ اور امتیازی برتاؤ ہو رہاہے جوبڑا سوالیہ نشان ہے؟

کوہاٹ : 6 ستمبر دن دیہاڑے پرامن شہری قیصر عباس کو شہید کر دیا گیا

ترجمان ٹی این ایف جے نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کو خاک و خون میں غلطاں کئے جانے کے سانحہ اے پی ایس کے بعد متفقہ نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا اور دہشتگردوں کو کچلنے کے لئے مختلف ناموں سے آپریشن بھی کئے گئے لیکن آپریشن رد الفساد اور فساد بیک وقت جاری ہیں، اس کے باوجود عساکر پاکستان کو نشانہ بنانا غور طلب امر ہے فوجی سپوت درجہ شہادت پر فائز ہوئے جنہیں ہم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،دوسری طرف کوہاٹ میں بے گناہ پر امن شہری قیصر عباس کو ٹارگٹ کر کے شہید کر دیا گیا، جو کھلی دہشت گردی ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے،ترجمان نے واضح کیا کہ کالعدم جماعتوں کی حا لیہ بڑھتی ہوئی کاروائیاں حکمرانوں کے کالعدم تنظیموں کے لیڈران کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں مصلح کے طور پر پیش کرنے کا نتیجہ ہے،یہ دہشتگرد گروپ کھلے بندوں دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں اور ایک مکتب کو 4عشروں سے غیر مسلم کہتے چلے آ رہے ہیں جس مکتب سے اس ملک کے بانی کا بھی تعلق ہے۔

ترجمان نے کہاکہ کس قدر شومئی قسمت ہے کہ حکومت دہشتگردوں کے بارے نوٹس اور ایکشن لینا تو درکنار الٹا ان سے امن کی بھیک مانگ رہی ہے۔ ترجمان نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے مابین دست و گریباں کی سی فضا قائم ہے اور عاشورہ کے بعد ایک منظم طریقے سے واعظین و ذاکرین کو بے گناہ بلا جواز گرفتار کرنا قانون کا قتل ہے اور سن رسیدہ واعظین کو بھی نہیں بخشا گیا جنہیں آج تک معلوم نہیں کہ کس جرم کی پاداش میں انہیں نشانہ بنایا گیا یہ ساری کاروائی صرف پنجاب میں ہو رہی ہے۔ ان حالات میں جب کہ اعلیٰ اداروں کے راز افشاء ہو رہے ہیں گویا کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اس ملک میں صرف ممنوعہ گروپ محفوظ ہیں جو دندناتے پھر رہے ہیں،اگر واقعی حکمران ملک کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو بیرونی دشمن سے پہلے اندرونی دشمنوں کو ٹھکانے لگایا جائے اور منوعہ گروپوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے،عساکر پاکستان کے شہدا ء ہوں یا بے گناہ شہید قیصر عباس انہیں سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرارواقعی سزا دیا جائے،حکومت ممنوعہ جماعتوں کے لیڈران کو گرفتار کرے اور ان کے ساتھ راہ رسم نہ رکھی جائے اور اس ساز باز میں ملوث ہوں ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے،ذاکرین و واعظین کو فوری رہا کیاجائے، بے بنیاد ایف آئی آر ز کو خارج کیاجائے اور فورتھ شیڈول کا بلا جواز اطلاق بند کیاجائے، حد یہ ہے کہ نعتیں نوحے پڑھنے والوں کو گرفتار کیاجا رہا ہے اس وقت ملک کو اس اتحاد کی ضرورت ہے جو قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے قائم کر رکھا تھا جس کے لئے سب سے پہلے حکمرانوں کو عمل کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.