میلاد النبیؐ سرکاری سطح پر منانے کا اعلان لائق تحسین ہے ، امام حسن ؑ کا یوم شہادت نظر انداز کرنے کا نوٹس لیا جائے ، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

مسلم فرمانرواؤں کو وحدت اسلامی نہیں محض اپنی حکمرانی عزیز ہے مسلم ممالک کو ایک ایک کرکے مارنا امریکی ایجنڈا ہے ،آغا حامد موسوی

وقت گزار و پالیسی ختم کرکے مسائل کا دیرپا حل تلاش کیا جائے جو توہین رسالتؐ پر سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ قبول نہیں کررہے وہ نظر ثانی فیصلہ کیسے قبول کریں گے ؟

ریاست مدینہ کے قیام کیلئے مواخات اورمیثاق مدینہ والی پالیسی اختیار کرنا ہوگی،عزاداری مظلوموں کی طرفداری اور ظالمین سے بیزاری کا عملی اعلان ہے

کشمیرو فلسطین کے مسلمانوں پر مظالم سے عالم اسلام کی بیگانگی اور خاموشی سے استعماری قوتوں کو شہ مل رہی ہے، محرم کمیٹی عزاداری سیل کے ذمہ داران سے خطاب

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مسلم فرمانرواؤں کو وحدت اسلامی نہیں محض اپنی حکمرانی عزیز ہے ،کسی ایک کی پابندیوں پر خوشیاں منانے یاچپ سادھ لینے والے یاد رکھیں مسلم ممالک کو ایک ایک کرکے مارنا امریکی ایجنڈا ہے مسلم ممالک تحفظ چاہتے ہیں تو ایک ہو جائیں،مٹی پاؤ وقت گزارو پالیسی ختم کرکے مسائل کا دیرپا حل تلاش کیا جائے جو سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ قبول نہیں کررہے وہ سپریم کورٹ کی نظر ثانی کا فیصلہ کیسے قبول کریں گے؟ ، ریاست مدینہ کے قیام کیلئے انتقام کے بجائے مواخات اورمیثاق مدینہ والی پالیسی اختیار کرنا ہوگی ،عید میلاد النبیؐ کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان خوش آئند اور زندہ قوموں کی نشانی ہے ، حکومت اور وزارت اطلاعات خلیفہ راشد نواسہ رسول امام حسن ؑ کے یوم شہادت کو نظر انداز کرنے کا نوٹس لے ،امام حسین ؑ کی عزاداری مظلوموں کی طرفداری اور ظالمین سے بیزاری کا عملی اعلان ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ عہدو پیمان کی مناسبت سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ محرم کمیٹی عزاداری سیل کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے مشاہیراور ہیروز کے ایام کو یاد رکھتی ہیں تمام شیعہ سنی مورخین متفق ہیں کہ سردار جنت نواسہ رسول ؐامام حسن علیہ السلام کی خلافت کا دور’ عہدخلافت راشدہ ‘میں شامل ہے لیکن افسوس کہ امام حسن ؑ کے یوم شہادت کو میڈیا کے اکثر حلقوں نے نظر انداز کیا حتی کہ سرکاری میڈیا نے بھی کوئی خبر تک نشر نہ کی ۔

انہوں نے کہا کہ کتب احادیث میں رسول کریم ؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓ سے واضح روایت ہے کہ انہوں نے رسول خداؐ کو فرماتے سنا کہ خلافت کا زمانہ 30سال ہو گاجس کے بعد خلافت ملوکیت یعنی بادشاہت میں تبدیل ہو جائے گی ، اس تیس سالہ دور میں حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے دو سال 6ماہ ، حضرت عمرؓ کی خلافت کے دس سال ، حضرت عثمانؓ کی خلافت کی خلافت کے بارہ سال 6ماہ ، حضرت علی ؑ کی خلافت کے چار سال 6ماہ اور 6ماہ نواسہ رسول زمن شہزادہ صلح و امن حضرت امام حسن ؑ کی خلافت کے ہیں، لیکن الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا اور وہ جرائد جو اپنے آپ کو نظریہ اساسی کا محافظ گردانتے ہیں نے امام حسن ؑ کی شہادت پر نہ ایک لفظ لکھا نہ بولاجتنے بھی اولیاء و فقراء کے ایڈیشن شائع کئے گئے وہ اپنے آپ کو نبی ؐ کے نواسوں کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں گردانتے چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اسلام میں جغرافیائی حدود حائل نہیں فرامین میں ہے ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جو اس حالت میں صبح و شام کرے کہ دوسرے مسلمان بھائیوں کے امور کا اہتمام نہ کرے وہ مسلمان نہیں لیکن افسوس کہ آج یمن شام لیبیا قطیف بحرین سمیت مسلمان ملکوں میں ہی مسلمانوں پر بے انتہا مظالم ہو رہے ہیں جب مسلمانوں کی اپنی حالت ایسی ہوگی تو کشمیر فلسطین یا روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آواز کیسے اٹھائیں گے ؟

انہوں نے کہا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہوتے تو اسرائیلی دار الحکومت یروشلم منتقل نہ ہوتا نہ امریکہ کو مسلم ممالک کو پابندیوں میں جکڑتا نہ کشمیریوں فلسطینیوں کی زندگیاں اجیران ہوتیں،مسلمانوں پر مظالم سے عالم اسلام کی بیگانگی اور خاموشی سے استعماری قوتوں کو شہ مل رہی ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ مسلم حکمران غیرت و حمیت کا مطاہر ہ کرتے ہوئے عرب و عجم کے خول سے باہر نکلیں کشمیر فلسطین رو ہنگیا مسلمانوں کیلئے متحد ہو کر آواز بلند کریں ، مسلم ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کرائیں شام یمن بحرین سمیت دوسرے ممالک میں مداخلت کا سلسلہ بند کردیں بصورت دیگر ایک ایک کرکے سبھی استعماری اژدھے کا نشانہ بن جائیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.