بلا اجازت میلاد نوٹیفیکیشن احسن اقدام،عزائے نواسہ رسولؐ پر بندشیں دوہرا کردار ہے،نصاب سے قلندر ؒو بھٹائیؒ کا تذکرہ نکالنا قابل مذمت ہے،آغا حامد موسوی ؛ جامعۃ المرتضی میں تاریخی پرسہ داری

ولایت نیوز شیئر کریں

عالم اسلام کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ احسان فراموشی ہے،نیا نصاب یکساں نہیں یک فقہی ہے،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
امام حسین ؑکے زائرین اور عزاداروں پر سختیاں اللہ اور رسولؐ کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے، فوج کو متنازعہ بنانا دشمن کو تقویت دینا ہے
نصاب سے شہباز قلندر ؒاور بھٹائیؒ کا تذکرہ نکالنا قابل مذمت ہے تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے، رحمت اللعالمین کمیٹی میں مکتب تشیع کو نظر انداز کیا گیا
ڈاکٹر عبد القدیر کے ساتھ حکمرانوں نے احسان فراموشی کی وہ اعزاز نہیں دیا گیاجس کے مستحق تھے، کوئی طاقت عزاداری کو محدود و مسدود نہیں کر سکتی
افغانستان میں استحکام نہ ہو حکومت تسلیم کرنے میں جلدی نہ کی جائے،9ربیع الاول کو جشن مختار اور میلاد النبی ؐ کے موقع پر ہفتہ وحدت و اخوت منا ئیں گے
پاکستان کو پلیدستان اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والی قوتیں ملک کے سیاہ و سفید پر قابض ہونا چاہتی ہیں، عزاداروں پر قائم ایف آئی آرز کا خاتمہ کیا جائے
میلاد رسولؐ کیلئے اجازت نہ لینے کا نوٹیفیکیشن احسن اقدام ہے نواسہ رسول ؐکے مجالس وجلوسوں پر بندشیں دوہرا کردار ہے، میڈیا و عزاداروں سے خطاب
جامعۃ المرتضی کے ماتمی جلوس میں ہزاروں عزاداروں، علماء و ماتمیوں کی شرکت،علم عباس ؑ کی پرچم کشائی،مذہبی مقامات اور شعائر کے تحفظ کے عزم کی تجدید

اسلام آباد ( )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ عالم اسلام کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ احسان فراموشی ہے،اسلام بچانے والے امام حسین ؑکے زائرین اور عزاداروں پر سختیاں اللہ اور رسول خداؐ کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے،نیا نصاب یکساں نہیں یک فقہی یک مسلکی اور فرقہ وارانہ ہے، تعلیمی نصاب سے شہباز قلندر اور شاہ عبد الطیف بھٹائی کا تذکرہ نکالنا افسوسناک ہے تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ حکمرانوں نے احسان فراموشی کی،محسن پاکستان کو وہ اعزاز نہیں دیا گیا جس کے مستحق تھے،رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کے قیام میں مکتب تشیع کو نظر انداز کیا گیا مسلمان اگر قرآن و اہلبیت ع کو نہ چھوڑتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے،جب تک افغانستان میں استحکام نہ ہو حکومت تسلیم کرنے میں جلدی نہ کی جائے،فوج ماتھے کا جھومر ہے متنازعہ بنانا دشمن کو تقویت دینا ہے میلاد کیلئے اجازت نہ لینے کا نوٹیفیکیشن احسن اقدام ہے نواسہ رسول کے جلوسوں پر بندشیں دوہرا کردار ہے جب تک دم میں دم ہے کوئی طاقت عزاداری کو محدود و مسدود نہیں کر سکتی،محرم اور اربعین کے دوران عزاداروں پر قائم ہونے والی ایف آئی آرز کا خاتمہ کیا جائے،9ربیع الاول کو جشن مختار اور 12تا 17ربیع الاول میلاد النبی ؐ کے موقع ہفتہ وحدت و اخوت منا ئیں گے شیعہ سنی برادران بے نظیر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرکے دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام کردیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایام عزائے حسینی ؑ کے اختتام اور شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مناسبت سے مرکزی امام بارگا جامعۃ المرتضی جی نائن فور اسلام آباد سے برآمدہو نے والے ماتمی اجلوس کے دوران میڈیا اور ملک بھر سے آئے عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا س موقع پر علماء کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہاگر عبدالکلام کو بھارت کا صدر بنایا جاسکتا ہے تو ڈاکٹر قدیر کو اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کیوں نہیں ہوسکتی، محسن پاکستان کا جنازہ قومی ہیروز کی طرح جلوس کی شکل میں توپ گاڑی پر رکھ کرلایا جانا چاہئے تھا تاکہ عوام کو انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ملتااور دنیا پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے ہیرو کی تکریم کامنظر دیکھتی۔انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ جس نے حسین ؑ سے محبت کی اس نے رسول ؐ اور اللہ سے محبت کی لیکن یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے کہ امام حسین ؑ کی عزاداری پر حتی الامکان سختیاں اور بندشیں کی گئیں حسین ؑ صرف اسلام نہیں انسانیت کے محسن ہیں جن کی یاد صرف مسلمان نہیں ہر مسلک مکتب مذہب اور ملک کے لوگ مناتے ہیں اور ان کی زیارت کو بھی فریضہ سمجھتے ہیں لیکن حسینیت کی راہ پر چل کر حاصل ہونے والی ریاست میں ذکر حسین ؑ پر پابندیاں یک بام دو تاہوا کے مترادف ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اسلام نے اقلیتوں کو جوحقوق دیئے ہیں انہیں فراہم کئے جائیں بانیان پاکستان نے بھی تمام مسالک مذاہب صوبوں قومیتوں کو حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا۔کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کو گالی دی جاتی ہے حکومت کیوں ایکشن نہیں لیتی؟کالعدم جماعتوں کے نام نہیں کام پر بھی پابندی ہونی چاہئے، جو طاقتیں تحریک پاکستان کے دوران پاکستان کو پلیدستان اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہتی رہیں جن قوتوں نے سقوط مشرقی پاکستان پر یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے وہ آج وہ ملک کے سیاہ و سفید پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیطان غائب رہ کر گمراہ کرسکتا ہے تو امام مہدی ع بھی غیبت میں ہدایت کرسکتے ہیں دنیا کا ہر مظلوم اس حقیقی سویرے کا منتظر ہے جب امام مہدی کے ظہور کے ساتھ ظلم جبر انسانی حقوق کی پامالی کی سیاہ رات کا خاتمہ ہوگا اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔۔ قبل ازیں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے جامعہ المرتضیٰ پہنچنے پر حضرت عباس علمدار ؑ کے علم مبارک کی پرچم کشائی اور دعا کی،بیسیوں ماتمی دستوں نے پرسہ داری اور نوحہ خوانی کی ماتمی جلوس اپنے روایتی راستے سے گزرکرباب رسول خدا جامعہ المرتضی میں اختتام پذیرہوا۔اس موقع پر پولیس اور مختارفورس کے رضا کاروں نے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کررکھے تھے۔

مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایم ا و اور مختار جنریشن کی جانب سے عزاداری کیمپ لگائے گئے تھے، جبکہ ابراہیم سکاؤٹس اوپن گروپ کا چاق و چوبند دستہ جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔ پاکستان بھر سے نمائندہ علمائے کرام‘مذہبی عمائدین‘ماتمی سالاروں اور مختلف مکاتب فکر کے افراد نے بڑی تعداد میں پرسہ داری میں شرکت کی۔اس موقع پر منظور کردہ قرارداد میں مذہبی مقامات کے تحفظ اور شعائر اسلام و حسینیہؑ کے تحفظ کیلئے ہر قربانی دینے کے عزم کی تجدید کی گئی۔

اختتام پرآغا سید محمد مرتضیٰ موسوی ایڈووکیٹ‘آغاسیدعلی روح العباس موسوی ایڈووکیٹ نے تمام شرکاء سے اظہارِ تشکر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.