یوم سفیر حسینیت ؑ: دربار بی بی پاکدامن کی بندش کے باوجود لا تعداد عزادار اور ماتمی دستے مولا علیؑ کی دختر کو پرسہ دینے لاہور پہنچ گئے

ولایت نیوز شیئر کریں

لاہور (ولایت نیوز) ذوالحجہ کا آغاز ہوتے ہی حضرت بی بی پاکدامن بی بی رقیہ بنت علی ؑ کے لاہور میں واقع مزار پر پرسہ داروں کی آمد کا سلسلسہ شروع ہو جاتا ہے جو 9 ذوالحجہ کو عروج پر پہنچ جاتا ہے ۔

اگرچہ اس سال تعمیراتی کام کی وجہ سے دربار بند کردیا گیا تھا اس کے باوجود پاکستان بھر سے لاتعداد ماتمی تنظیموں اور عزاداروں نے بی پاکدامن پہنچ کر پاک بی بی کو ان کے شوہر نامدار حضرت مسلم بن عقیل ؑ اور فرزندان محمد و ابراہیم ؑ کی شہادت کا پرسہ پیش کیا۔

اس موقع پر مسافر خابہ بی بی پاکدامن سے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے شاہزادوں کے تابوت برآمد ہوئے برآمد گی پاکستان کی مشہور ماتمی تنظیم حیدری دائرہ نے کروائی ۔ اس موقع پر ٹی این ایف جے کے مقامی عزاداری سیل کے رہنما بھی موجود تھے۔

امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مسلم بن عقیل جسے امام حسینؑ نے اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تھا لیکن کوفہ والوں کی بے وفائی کی وجہ سے آپ کوفہ میں ابن زیاد کے ہاتھوں نہایت بے دردی کے ساتھ شہید ہوئے، کے دو فرزند محمد و ابراہیم بھی اسیر ہوئے اور عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر انہیں کوفہ میں کسی جیل میں بند کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دو نوجوان دو سال تک کوفہ میں اسیر رہے اس کے بعد مشکور نامی زندان بان جو اہل بیتؑ کا دوستدار تھا نے زندان سے آزاد کردیا۔

یہ دو بچے دو دن تک ایک بوڑھی عورت کے ہاں مہمان رہے جو اہل بیتؑ کے محبین میں سے تھی جسکا شوہر ابن زیاد کی فوج میں کام کرتا تھا۔ رات کو جب اس کا شوہر گھر آیا تو ان دو بچوں کی موجودگی کا علم ہوا یوں اس بدبخت نے انہیں صبح سویرے نہر فرات کے کنارے لے جا کر شہید کر دیا.

ان کے لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا جبکہ ان کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے ہاں لے گیا چونکہ اس نے ان دو بچوں کو گرفتار کرنے والے کیلئے انعام کا وعدہ دیا ہوا تھا۔

یہ لاشوں کی کرامت تھی کہ دریا کے بہاؤ کے باوجود دونوں بھائیوں کی لاشیں باہم مل گئیں جنہیں مسیب کے مقام پر ایک محب اہل بیت نے دیکھ کر دریا سے نکالا اور دفن کیا۔ آج بھی مسیب کے مقام پر طفلان مسلم ؑ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔ جبکہ سفیر حسینیت مسلم بن عقیل ؑ کا مزار کوفہ میں واقع ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.