مسلم ممالک سنت ابراہیمی کا فلسفہ فراموش کر چکے!منی و کربلا کی قربانیوں نے پیغام توحید کو ابدیت بخشی، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا پیغام عید الاضحی

ولایت نیوز شیئر کریں

مسلم ممالک ’شیاطین ثلاثہ‘سے چھٹکارا پائیں ورنہ جاسوسیوں کا شکار ہوتے رہیں گے، آغا حامد موسوی
مسلم ممالک سنت ابراہیمی کا فلسفہ فراموش کر چکے!شیاطین عصربھارت و اسرائیل پر فریفتگی قربان گاہ کشمیر و فلسطین کی توہین ہے
مسلم ممالک کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پسماندگی نے انہیں استعمار کا محکوم بنا دیا ہے علمی میدانوں میں کمال حاصل کرنا ہوگا
حج اور عید الاضحی قربانی و ایثار اور شعائر اللہ کی تعظیم کا درس جاودانی ہیں عالم اسلام جنت البقیع اور جنت المعلی کی عظمت رفتہ بحال کرائے
مسلم ممالک قربانی کے جذبے کا مظاہرہ کریں،اپنا سرمایہ مغربی بنکوں کی نذر کرنے کے بجائے غریب مسلم ممالک کی معیشتوں کو مضبوط کریں
منی و کربلا سے پھوٹے قربانی کے سرچشموں نے آب حیات بن کر پیغام توحید کو ابدیت بخشی،مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل اتحاد میں مضمر ہے، قائد ملت جعفریہ کا پیغام عید الاضحی

اسلام آباد(ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ عید الاضحی تقاضا کررہی ہے کہ مسلم ممالک ’شیاطین ثلاثہ‘ امریکہ بھارت و اسرائیل سے چھٹکارا حاصل کریں بصورت دیگر جاسوسیوں اور سازشوں کا شکار ہوتے رہیں گے، مسلم ممالک کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پسماندگی نے انہیں استعمار کا محکوم بنا دیا ہے علمی میدانوں میں کمال حاصل کرنا ہوگا، مسلم ممالک سنت ابراہیمی کا فلسفہ فراموش کر چکے ہیں اور شیاطین عصر کی قربت کیلئے دیوانے ہوتے چلے جار ہے ہیں، مسلم ممالک کی بھارت و اسرائیل پر فریفتگی قربان گاہ کشمیر و فلسطین کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ حج اور عید الاضحی قربانی و ایثار اور شعائر اللہ کی تعظیم کا درس جاودانی ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کے مقدس مقامات حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں عالم اسلام شعائر اللہ کی تعظیم کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے جنت البقیع اور جنت المعلی کی عظمت رفتہ بحال کرائے، منی و کربلا سے پھوٹنے والے قربانی کے سرچشموں نے آب حیات بن کر پیغام توحید کو ابدیت عطا کردی، قربانیاں دین اسلام کا حصار و قلعہ ہیں جنہیں کوئی نمرود و یزید مسخر نہیں کر سکتا، مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل اتحاد میں مضمر ہے افغانستان سمیت مسلم ممالک کے مسائل کو اوآئی سی کے فورم پر حل کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید الاضحی کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ آج عالم اسلام کو استعماریت و صیہونیت گردی کا سامنا ہے امریکہ اور اس کے پٹھو اپنی طاقت میں مخمورہو کر مسلمانوں کو روندتے چلے جا رہے ہیں مسلمانوں کا قبلہ اول یروشلم جہاں حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی تھی آج اسے صیہونی ریاست کا دارلحکومت قرار دے دیا گیا ہے کشمیر کی جنت نظیر وادی کو دوسرا فلسطین بنانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں بھارت نے آرٹیکل 370کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کوان کی اپنی زمین پر اقلیت بنانے کے منصوبے کی جانب اہم پیش رفت کرڈالی ہے ایک طرف شیطانوں کے ہتھکنڈے ہیں تو دوسری جانب بدقسمتی سے مسلم ممالک میں جذبہ خلیل نا پید نظر آتا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ قربانی ہو یا تکبیرات یا کنکریاں مارنے کے ذریعے شیطانوں سے بیزاری کا اظہارہو اس داستان خلیل و ذبیح میں انسانیت کیلئے لاتعداد دروس پنہاں ہیں اللہ نے حضرت ابراہیم ؑکی قربانی و ایثار اورحضرت اسمعیل کی تسلیم ورضا کی داستان کے کے ہر باب اور ہر اقدام کو شعائر اللہ قرار دیتے ہوئے حج کی عبادات و واجبات میں شامل کردیاجس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی برگزیدہ ہستیوں کا عمل اور سنت باقی رکھنا واجب ہے اسی طرح دین اسلام کی راہ میں دی گئی نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر قربانی کو یاد رکھنا مسلمانان عالم کیلئے واجب ہے ان قربانیوں سے وابستہ یادگاروں کو باقی رکھنا اور ان کی تعظیم کرناتقوی کی علامت ہے اور اللہ کے نزدیک قربانی کا گوشت نہیں دلوں کا تقوی قبولیت کا درجہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک بھی اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کریں امیر ممالک اپنا سرمایہ مغرب کے بنکوں کی نذ رکرنے کے بجائے غریب مسلم ممالک کی معیشتوں کو مضبوط کریں روزگار کی فراہمی میں غریب مسلم ممالک کی افرادی قوت کو ترجیح دیں جب مسلمان ایثار و قربانی کی ’فضائے ابراہیمی‘پیدا کر یں گے تو اللہ کی مدد بھی ان کے شامل حال ہو جائے گی اورتائید خداوندی سے کلمہ توحید کے پرستاروں کو عالمی شیطانوں سے چھٹکارا بھی حاصل ہو جائے گااور کشمیر و فلسطین بھی منزل آزادی سے ہمکنار ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.