آئینہ عمل – قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جراتمند اور آبرو مندانہ قیادت اور کامیابیوں کی ایک جھلک (قسط نمبر 1)

ولایت نیوز شیئر کریں

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے کارناموں کی مختصر روداد
تاریخی دینہ کنونشن کے انعقاد کے 37 سال مکمل ہونے پر آئینہ عمل کی ولایت نیوز پر اشاعت
کتابچہ پہلی بار 2007 میں مخدوم الملک سید نزاکت حسین نقوی البھاکری مرحوم کے تعاون سے شائع کیا گیا تھا

تحریر: پروفیسر سعید عابدی

باسمہ تعالی

وطن عزیز پاکستان مسلمہ مکاتب کی مشترکہ جدوجہد کا ثمرہ تھایہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پہلے متفقہ آئین میں ریاست کا سرکاری مذہب کسی فرقہ یا مسلک کے بجائے اسلام کو قرار دیا گیا۔جس کی تعبیر و تشریح ہر مسلک کے عقیدے اور نظریے کے مطابق ہونا قرار پایا۔

استعماری قوتوں کیلئے صفحہ ارضی پر اسلامی ریاست کا وجود ہی ناقابل قبول تھااور 70کی دہائی میں جب پاکستان کے نظریہ اساسی کا مکمل آئینہ دار دستور تشکیل پاگیا،ایٹمی طاقت کے حصول کیلئے کوششیں شروع ہوگئیں اور پاکستان سفارتی اقتصادی غرضیکہ ہر محاذ پر عالم اسلام کی قیادت کرتا ہوا نظر آنے لگا تو استعماری قوتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔پاکستان کا مشرقی بازو الگ کرکے جغرافیائی طور پر تو پاکستان کو کمزورکیا جا چکا تھا لیکن اسلامی نظریے کا حامل مضبوط سے مضبوط تر ہوتا ہوا پاکستان اسلام دشمنوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا۔

…… اب نئی سازشوں کے تانے بانے بنے جانے لگے اور ایک خوفناک  عالمی سازش کو حتمی شکل دے کر پاکستان کی نظریاتی اساس کو نشانہ بنانے کی ٹھان لی گئی۔اور اندرونی طور پر ان مٹھی بھر عناصر کو بھی سازش میں شریک کرلیا گیاجو پاکستان کے قیام کے ہی مخالف تھے۔

 وسط  عشرہ 70میں ہی استعماری سازش پر عمل درآمد شروع ہو گیا……پاکستان میں ابتری پھیلا دی گئی،وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکو وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا،انتخابات…… پھر دھاندلی کے الزامات…… اورپھرپاکستان کو بدترین آمریت کی گود میں دھکیل دیا گیا…… یوں امت مسلمہ کو انتشار سے دوچار کرنے اور عالم اسلام کے عظیم قلعے پاکستان کو گرانے کیلئے مکروہ کھیل کا علی الاعلان آغا ز ہوگیا۔

٭٭٭٭٭

عالمی سازش کے تحت پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ ۔ آقائے موسوی کی مراجع عظام سے رہنمائی کی درخواست ۔ آیۃ اللہ باقر الصدر کا تاریخی مراسلہ

مومن آئندہ پر نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام کے عظیم فرزند آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس سازش کو قبل از وقت بھانپ لیا۔استعماری قوتیں طاقت سرمائے اور چانکیائی حربوں سے لیس ہو کر اپنے مکروہ منصوبے پر عمل پیرا تھیں تو آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی ذات عزم  شبر ؑو شبیری ؑلئے اس سازش کی آگے بند باندھنے کیلئے فکر مند تھی۔

تاریخ کے اس فیصلہ کن مرحلے پرآغا سید حامد علی شاہ موسوی نے عالم اسلام کے عظیم فیلسوف مرجع عالی قدر آیۃ اللہ باقر الصدر شہید کو مراسلہ بھیجا اورعلاقائی حالات کا احاطہ کرتے ہوئے نفاذ اسلام اور ملت جعفریہ کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ان سے رہنمائی و مشاورت چاہی۔گوہر کی قدر جوہری سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔شہید آیۃ اللہ باقر الصدر نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے نام اپنے تاریخی خط میں جہاں اسلام کے نفاذ کیلئے ارباب حکومت کیلئے بنیادی حقائق کے ادراک کی ضرورت اور اسلامی نظام کے خدوخال کی وضاحت کی وہاں آقای موسوی کی قائدانہ صلاحیتوں پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے یہ تحریر فرمایاکہ”اس نازک وقت میں اپنے وطن عظیم کی تاریخ اجاگر کرنے اورحقیقی فقہ اسلامیہ کے نفاذ کیلئے آپ نے قیادت کا جو بیڑا اٹھایا ہے اسے ہم بہت ہی قیمتی اورقدر کی نظروں سے دیکھتے ہیں“۔

٭٭٭٭٭

پاکستان کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کا اعلان – آغا حامد موسوی کا فوری ردعمل

استعمار کی تائیدو حمایت سے جمہوریت پر شب خون مارنے والے آمرجنرل ضیا الحق نے اقتدارپراپنی گرفت مضبوط کرلینے کے بعداپنے سرپرستوں کے مکروہ اہداف کی جانب تیزی سے پیش قدمی شروع کردی……اور 79میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کا اعلان کردیا۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی (جو استعماری کھیل پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور اس حوالے سے مراجع عظام سے رہنمائی حاصل کر چکے تھے)نے سنت حسین ابن علیؑ پر عمل کرتے ہوئے اس اعلان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔اورڈکٹیٹر کے آمرانہ فیصلے کے خلاف پہلی آواز علی ؑ مسجدراولپنڈی سے بلند ہوئی جب آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے پر ہجوم پریس کانفرنس میں آمر مطلق کے مکروہ عزائم کو للکارا اور واضح کردیا کہ کسی طالع آزما کو مکتب تشیع یا مکتب تسنن کو دیوار سے لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اور بالخصوص جب ہو حکومت کا سامنا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہان کج کلاہ کی ہیبت کا سامنا

لاکھوں میں ہے وہ ایک،کروڑوں میں فرد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت جو ثبات دکھائے وہ مرد ہے

آقای موسوی کے اس اعلان ِ انکارنے پوری قوم میں روح پھونک دی اور آمریت و استعماریت کے عزائم ناکام بنانے کیلئے صف بندی ہونے لگی اور یوں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قیام عمل میں آگیا۔جس کا پہلا سربراہ علامہ مفتی جعفر حسین کو منتخب کرلیا گیا۔اسی دوران80ء میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو اپنے حقوق کیلئے سیکرٹریٹ پر قبضہ بھی کرنا پڑا اور حکومت کو زکوۃ آرڈیننس میں ترمیم واپس لینا پڑی۔

٭٭٭٭٭

منصب قیادت کیلئے علامہ ساجد نقوی کی پیشکش ۔ قوم سے توثیق کی شرط

حسینیت سے خوفزدہ قوتوں نے سیم و زر کے سیلاب سے ملت جعفریہ میں عقائد کی بنیاد پر تقسیم کی بنیاد 50کی دہائی  میں رکھ دی تھی اور پاکستانی تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر جب ملت جعفریہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے تحفظ نظریہ پاکستان کی جنگ لڑ رہی تھی ملت کو کمزور اور بے اثر کرنے کیلئے جنرل ضیا ء ہی کی شہ پرسوچے سمجھے منصوبے کے تحت بعض بدعقیدہ پاکستانی استعماری عناصرکوزیادہ ابھارا جانے لگا اوران کی پروجیکشن کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ہونے لگا تاکہ استعماری منصوبوں کی راہ میں حائل مکتب تشیع پر تسلط حاصل کر لیا جائے۔

83ء میں مفتی جعفر حسین کےء انتقال کے بعد تحریک کی سربراہی کا بحران پیدا ہوگیا تو پاکستان بھر کے شیعہ علماء و زعماء بشمول قبلہ علامہ ساجد علی نقوی کی نگاہ انتخاب آغا سید حامد علی شاہ موسوی پر ٹہری (جو 1967ء میں مومنین پاکستان کی جانب سے مرجع شیعان جہاں آیۃ اللہ العظمی ٰ محسن الحکیم اعلی اللہ مقامہٗ کی خدمت میں بھیجی جانے والی درخواستوں کے بعد آےۃ اللہ محسن الحکیم کی ہدایت پر نجف اشرف سے تحصیل علم کے بعد پاکستان تشریف لائے تھے  اور وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کی علی ؑمسجد سے قوم کی دینی رہنمائی فرما رہے تھے جو اپنے علم و تقویٰ کی بدولت ملک بھر میں علمی و فکری حلقوں کے علاوہ عوام میں حد درجہ احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے بالخصوص جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ اقدامات کو سب سے پہلے چیلنج کر کے قوم کے دلوں کی دھڑکن بن چکے تھے)۔

ملک بھر کے زعماء کے وفد نے جب آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی خدمت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی قیادت کی درخواست کی تو آقائے موسوی نے حسب سابق بغیر منصب کے قومی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا  اس موقع پر علامہ ساجد علی نقوی نے جناب سیدہ ؑ کی چادر کا واسطہ دیتے ہوئے آقائے موسوی سے اپیل کی کہ وہ قوم کے سر پر ہاتھ رکھیں بصورت دیگر روز محشر جناب سیدہ ؑ سے شکایت کریں گے اس پر آقائے موسوی نے اس شرط پریہ عہدہ قبول کرنے پر رضامندی کا اظہار کیاکہ جب پوری قوم اس فیصلے کی عملاً تو ثیق کرے گی تبھی وہ اس منصب کو قبول کریں گے۔

دینہ میں آل پاکستان شیعہ کنونشن کا انعقاد ۔ پاکستان کی تاریخ میں شیعیان حیدر کرار کا سب سے بڑا اجتماع

اور یوں 9-10فروری 1984کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا شیعہ کنونشن بزرگ عزادار آغا سید سردار علی جان بادشاہ کی خواہش پر دینہ کی سرزمین پر منعقد ہواجس کی صدارت استاد العلماء حضرت آیۃ اللہ سید ضمیر الحسن نجفی اعلیٰ اللہ مقامہٗ اور مفکر عالم اسلام محسن قوم و ملت خطیب آل محمدعلامہ سید اظہر حسن زیدی قدس سرہٗ نے کی۔اس غدیری اجتماع میں پاکستان کے گوشے گوشے سے ملت جعفریہ کے نمائندگان و عمائدین ماتمی عزاداروں علماء خطباء واعظین ذاکرین دانشوروں نے لاکھوں کی تعدا د میں شرکت کرکے قوم وملت کیلئے آقائے موسوی کی قیادت کی توثیق کردی اور ان کی قیادت میں قومی و ملی حقوق کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

جس ہستی نے مکتب تشیع کو دیوار سے لگانے کی سازش کے خلاف سب سے پہلے علم انکار بلند کیا تھا اسے ملت جعفریہ کی مسند قیادت پر آتا دیکھ کرآمریت کاسنگھاسن ڈولنے لگادوسری جانب ملت دشمنوں اور بد عقیدہ صیہونی عناصر(جو مال و زر سے لیس ہو چکے تھے) کوبھی آقائے موسوی جیسے باکردار اور عزادار رہبر کی زیر سرپرستی قوم کے اتحاد کا یہ مظاہرہ ایک آنکھ نہ بھایا اور یوں جنرل ضیاء الحق کی شہ پر چند افرا د کی میٹنگ میں متوازی قیادت کا اعلان کر دیا گیا۔لیکن آقائے موسوی ان تمام سازشوں سے بے نیاز ہو کر پاکستان کے نظریہ اساسی اور ملت کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے۔اور ملت سے جدا ہو جانے والوں کو بارہا دعوت اتحاد دی جسے ان لو گوں نے یکسر نظر انداز کردیا۔

جنرل ضیاء الحق کا عزاداری سید الشہداء ؑ پر حملہ ۔ پولیس ایکٹ میں ترمیم

آقائے موسوی کو قیادت سنبھالے چند ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ جنرل ضیاء الحق نے ملت اسلامیہ کو بے روح کرنے اور مکتب تشیع کو دبانے کیلئے عزاداری سید الشہدا ء ؑ کو محدودومسدود کرنے کا اعلان کر دیااور پولیس ایکٹ کی دفعہ30(3)میں ترمیم کرتے ہوئے اپنی مذموم خواہش کا اظہار یوں کیا کہ عبادت عبادت گاہوں کے اندر ہونی چاہئے جس کے جواب میں آقائے موسوی نے اعلان کیا کہ عزاداری ہماری شہ رگ اور عبادتوں کی روح ہے یہ مملکت خداداد (پاکستان)مسجد کی مانندہے جس کے ہر گوشے میں عبادتِ عزا جاری رکھی جائے گی۔اور دنیا کی کوئی طاقت نا نااورنواسے (میلاد النبیؐ اور عزاداری)کے جلوسوں کو بند نہیں کرسکتی۔

٭٭٭٭٭

ضیائی حملے کے خلاف میدان سج گیا ۔ حسینی محاذ ایجی ٹیششن کا آغاز

پھر شور سلاسل میں سرور ازلی ہے   پھر پیش نظر سنت سجاد ؑولی ہے

عزاداری پر ناروا پابندیوں کے خاتمہ اوردین وملت کی آبرو بچانے کیلئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کربلا والوں کی ہر سنت پر عمل پیرا ہونے کو تیار تھے۔(اکتوبر84ء) روز عاشورہ کے مرکزی جلوس میں آقائے موسوی نے فوارہ چوک راولپنڈی میں دھرنا دے دیا۔شب غریباں ماتمی عزادار وں کے ہمراہ آنسو گیس لاٹھی چارج براداشت کرتے رہے اور صبح غریباں جب حجۃ الاسلام و المسلمین آےۃ اللہ ’نجم الحسن‘اختر حسین حیدری مدظلہ العالی (تلمیذقائد ملت جعفریہ آقائے موسوی جو  بعد ازاں نجف اشرف میں بعثی حکومت کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہوئے) اذان سحر دے رہے تھے آقائے موسوی سنت سید سجاد ؑ ادا کرتے ہوئے زندانوں کو عزاخانوں میں تبدیل کرنے کیلئے چل نکلے ……سب سے پہلے اپنی اور بعدازاں اپنے کم سن بچوں کی گرفتاری دے کر ملک بھر میں گرفتاریاں دینے کی کال دے دی……اورحسینی محاذ ایجی ٹیشن کی بنیادرکھ دی گئی۔

(ایک جانب قوم اپنی شہ رگ عزاداری کے تحفظ کیلئے زندان آباد کررہی تھی تو دوسری جانب بدعقیدہ عناصر نے عزاداری پر حملہ کرنے کے ضیاالحق کے اس اقدام کو معمولی کہہ کر اپنے لب سی لئے جیسے پاکستان کی دفاعی شہ رگ سیاچن پر بھارتی قبضے کو ضیاء الحق نے یہ کہہ کر نظر انداز کردیا تھا کہ وہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی۔بیرونی سرمائے اور آمریت کی کوکھ میں پلنے والوں نے تحفظ عزاداری کی اس جدوجہد کاساتھ دینا تو درکنار اس حسینی ؑمحاذ کو کامیاب ہونے سے روکنے کیلئے درپردہ کسی سازش سے گریز نہ کیا)

حسینی محا ذ ایجی ٹیشن کامیابی سے آٹھ ماہ جاری رہاقوم کے فرزندوں نے اپنے قائد کی تاسی میں پاکستان کی تمام جیلیں بھر دیں۔ حسینی محاذ کے اسیروں نے جیلوں میں بھی عزائے حسینی کا سلسلہ شروع کردیا(جو آج تک جاری ہے)جس مجلس و ماتم سے ڈکٹیٹر خوفزدہ تھا اس مجلس و ماتم کی گونج زندانوں کو بھی لرزانے لگی۔اس تحریک میں صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ ہزاروں اہلسنت حتی ٰ کہ عیسائیوں نے بھی گرفتاریاں دیں کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ یہ حسینی تحریک دراصل اسلام پاکستان اور انسانیت کے تحفظ کی تحریک ہے عزاداری اور میلاد النبی کی بقا کی تحریک ہے۔اس آٹھ ماہ  کے حسینی ؑ محاذ ایجی ٹیشن میں کسی کی دکان لوٹی گئی نہ کسی کی املاک کو نقصان پہنچایا گیااور نہ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔اپنی نوعیت کی اس بے مثل تحریک میں ماتمی عزادار بدترین تشدد برداشت کرتے رہے لیکن اپنے دلیر قائد کی قیادت میں پاکستان اور عزاداری کے تحفظ کے مصمم ارادے پر قائم رہے۔پلاٹ پرمٹ مال و زر اورحکومتی عہدوں کی ترغیبات بھی آقائے موسوی کے پائے استقلال میں لغزش نہ ڈال سکیں۔بالآخرحسینیؑ عزادار کامران رہے اور ڈکٹیٹر کو پولیس ایکٹ میں ترمیم واپس لینا پڑی۔ شہید اشرف رضوی اور شہید صفدر علی نقوی کی قربانی اور ہزاروں اسیروں کے سنت سجاد ع ادا کرنے کے نتیجے میں 21مئی 85ء کے موسوی جونیجو معاہدے کے تحت عزاداری کے جلوسوں کو مضبوط آئینی تحفظ مل گیا۔جس پر ہر عزادار تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا سداممنون رہے گا۔

٭٭٭٭٭

شریعت بل کا شوشہ

کچھ ہی عرصہ بعدپاکستان کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے ڈکٹیٹر نے شریعت بل کا شوشہ چھوڑ دیا جسے تحریک نے یہ کہہ کر مسترد کر دیاکہ 73کے آئین کی موجودگی میں کسی شریعت بل کی ضرورت نہیں۔حکومت نے اس بل کو پاس کرانے کیلئے سر توڑ کوشش کی لیکن تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے آقائے موسوی کی قیادت میں شریعت بل کے خلاف منظم اور زبردست مہم چلائی۔ارباب حکومت،اراکین اسمبلی و سینٹ کو احتجاجی ٹیلی گرام ارسال کئے گئے۔نام نہاد شریعت بل کی آڑ میں ملک کو خلفشار سے دوچار کرنے کے آمرانہ عزائم کو بے نقاب کیا،رائے عامہ کو اس بل کے مضمرات سے آگا ہ کیا گیا،انسانی حقوق کی تنظیموں،قانونی ماہرین،مذہبی و سیاسی جماعتوں کومتوجہ کیا گیااور یوں ملک  کے گوشے گوشے سے اس بل کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں اور یہ بل اپنی موت آپ مر گیا۔نواز شریف کے دور حکومت میں ایک دفعہ پھر اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی گئی۔اسلام آباد میں ہزاروں عزاداروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے واضح کیا کہ”شریعت بلوں سے نہیں نیک دلوں سے نافذ ہوتی ہے،ملک و قوم کو انتشار کا شکار کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا“……آمریت کے پروردہ عناصر یہاں بھی اپنی سازش میں ناکام رہے۔

٭٭٭٭٭

لاہور میں مساجد و امام بارگاہوں کی اتشزدگی ۔ مختار فورس والنٹیئرز کا قیام

1986ہی میں نواز شریف کی وزارت اعلی ٰ میں لاہور میں درجنوں امام بارگاہ نذرآتش کر دیئے گئے تو اس موقع پر قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے لاہور کا دورہ کیا اور شعائر اللہ کی حفاظت کیلئے مختار فورس کے قیام کا اعلان کیاکچھ عرصہ بعد سرور شہید(نشان حیدر)کالج گوجرخان کے 72طلبہ نے مختارسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کردی اور قائد ملت جعفریہ سے ملاقات کی جسے سند توثیق بخشتے ہوئے قائد محترم نے تحریک کے ذیلی شعبے کا درجہ دے دیا۔

٭٭٭٭٭

مسلکی بنیادوں پر الیکشن میں حصہ لینے سے انکار

جنرل ضیا الحق کے ایما ء پرپیپلز پارٹی کو ہرانے کیلئے 88ء میں بدعقیدہ عناصر نے  لاہور کی قرآن و سنت کانفرنس میں ملت جعفریہ کانام استعمال کرتے ہوئے انتخابات میں عملاً حصہ لینے  اور امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کر دیا (اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے سینکڑوں حکومتی مجسٹریٹس کی ڈیوٹی لگائی گئی)قائد ملت جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے آمر کے فریب میں آنے کے بجائے واضح اعلان کیا کہ سیاست دین سے جدا نہیں لیکن فرقہ و مسلک کی بنیاد پر عملی (انتخابی) سیاست میں حصہ لینا قوم و ملک کیلئے زہر قاتل ہے لہذا تحریک نفاذ فقہ جعفریہ انتخابات میں ہر گزامیدوار کھڑے نہیں کرے گی۔اور یوں قائد ملت جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی کی دور اندیشی نے آمر مطلق کی زندگی کی آخری خواہش پر بھی پانی پھیر دیا اور ملک کو مسالک و مکاتب میں تقسیم کرکے نظریہ اساسی پر کیا جانے والا اس کا آخری وار بھی ضائع چلا گیا۔انتخابات میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست کرنے والوں کو بدترین شکست ہوئی۔ ملت جعفریہ کی طاقت کو کمزور ی میں بدلنے کی سازش کرنے والے بدعقیدہ عناصر پاکستان بھر میں اپنے  امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرابیٹھے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی الیکشن پالیسی کامیاب و ظفریاب رہی۔

٭٭٭٭٭

دہشت گردی کی عالمی سازش ۔

80کی دہائی ہی میں افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کا بیج بو دیا گیا،حساس علاقوں میں فسادات کرائے گئے اور پھر چن چن کر لوگوں کو مارا جانے لگا۔آمر نے بھر پور کوشش کی کہ اس دہشت گردی کو مسلکی و مکتبی رنگ دے دیا جائے لیکن قائد ملت جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے واضح اعلان کیا کہ یہ سب قتل و غارت پیٹ اور ایڈ کا مسئلہ ہے شیعہ سنی بھائی ہیں جن میں دنیا کی کوئی طاقت رخنہ اندازی پیدا نہیں کرسکتی اور مطالبہ کیا کہ مذہب کی آڑ لے کر بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی قوتوں کی بیرونی امدادپر پر پابندی لگا دی جائے تو دہشت گردی اپنی موت آپ مر جائے گی۔

90کی دہائی  اور اس کے بعدتاحال آمریت کی باقیات نفرت و دہشت کے سوداگر استعماری قوتوں کے ایما ء پر آگ و خون کا کھیل کھیلتے رہے،آقائے موسوی کے ہزاروں روحانی فرزند،تحریک کے مرکزی عہدیداران،کارکنان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے رہے حتیٰ کہ بری امام(حضرت عبد اللطیف موسوی النجفی جو سرچشمہ علم و معرفت نجف اشرف سے فارغ التحصیل اور منزل عرفان پر فائز تھے) کے مزار پر ہونے والی سالانہ عزاداری کے موقع پر قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی پربھی خودکش حملہ کیا گیا جس میں بیسیوں لوگ درجہ شہادت پر فائز ہوئے اور بیسیوں زخمی ہوئے،21رمضان کوشہادت امیرالمومنین ؑ کے مرکزی جلوس میں بھی  قائد ملت جعفریہ کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن کوئی  ہتھکنڈا اس حسینی ؑکارواں کو نہ روک سکا اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے بھائی چارے اور اخوت کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے سب سے پہلے  بیس سال قبل یہ موقف پیش کیا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب مسلک و ملک نہیں وہ فقط دہشت گرد ہے لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھا اور نمٹا جائے۔

مکتب تشیع کے اندر گھسی ہوئی کالی بھیڑوں نے نوجوانوں کو اشتعال دلا کر گولی اور گالی کی راہ پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ( ایک کے بدلے سو مارنے کے نعرے لگا کر جوانوں کو بہکانے کی کوشش کی گئی ) لیکنآغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس سازش کو بھی ناکام کیا اور اپنی پرامن پالیسی سے ان کالی بھیڑوں کے چہرے سے منافقانہ نقاب اتار پھینکا کہ جن قوتوں کا نام استعمال کرکے قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے کلاشنکوف دے کر انہیں تشدد کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی یہ کالی بھیڑیں انہی قوتوں کی’مجلس‘ میں نظر آنے لگیں۔بہت سے بے گناہ نوجوان ان سوداگروں کے جھانسے میں آکر اپنا اور اپنے خاندانوں کا مستقبل تباہ کر بیٹھے جبکہ یہ لاشوں کے بیوپاری انہی عناصر کے پہلو میں بیٹھے ہیں جن کی تصویریں دکھا کر اور تقریریں سنا کر یہ جوانوں کو گمراہ کرتے رہے۔اگر آج تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی بیدار اور صالح قیادت نہ ہوتی تو خدانخواستہ پوری  شیعہ قوم پر دہشت گردی کا لیبل لگ چکا ہوتا اور ملک کا جو حال ہوتا اس کا تصور ہی محال ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارت داخلہ میں محرم عزاداری کنٹرول رومز کا قیام

ایام عزا میں عزاداروں کو بعض مقامات پر نچلی انتظامیہ کی نا اہلی اور بعض مقامات پر شرپسندوں کی شر انگیزیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا کرتا تھا جسے نچلی انتظامیہ کی جانب سے درست انداز میں ہینڈل نہ کرنے کے سبب بعض جگہوں پر امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو جایا کرتا تھا۔اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں وفاقی سطح پر وزارت داخلہ اورمذہبی امور سمیت صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس میں محرم کنٹرول رومز کا قیام کروایاتاکہ عزاداروں کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی و صوبائی سطح پر فوری اقدامات اور احکامات جاری کرائے جا سکیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔جس سے ہزاروں مسائل خو ش اسلوبی سے حل ہوئے۔

……عزاداری کے پروگراموں کو منظم و مرتب کرنے اور عزاداروں کے مسائل کے حل کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے مرکزی صوبائی و ریجنل و ضلعی سطح پر محرم عزاداری سیل قائم کئے جاتے ہیں جو سال بھر عزاداروں کے مسائل کے حل کیلئے سرگرم رہتے ہیں کوئٹہ میں سانحہ عاشورہ کے بعد 25محرم اور بعدا زاں چہلم کے جلوس پر لگنے والی پابندی کے خاتمہ سے لے کر کشمیر کے دور افتادہ سرحدی گاؤں سیڑھیاں سیداں تک ہزاروں عزاداری کے مسائل تحریک کی محرم کمیٹیوں اور عزاداری سیلز نے حل کرائے۔

سپریم کو رٹ میں موسوی امن فارمولہ کی گونج

97میں چیف جسٹس سجا د علی شاہ نے دہشت گردی کا ازخود نو ٹس لے کر کاروائی شروع کی تو قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے تاج المناظرین علامہ تاج الدین حیدری نے 800صفحات پر مشتمل تاریخی امن فارمولا پیش کیا جسے سراہتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں شامل کرتے ہوئے اسے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کی ضمانت قرار دیا۔بالآخر اسی فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے  صدر پرویز مشرف نے انسداد دہشت گردی آرڈیننس جاری کیا جو بعدازاں ایکٹ بن گیا جس کے سبب آمریت کے پروردہ دہشت گردوں پر پہلی مرتبہ ہاتھ ڈالا گیا جن پر ہاتھ ڈالنے سے سابقہ حکومتیں گریزاں رہیں اور ان کی کھلم کھلا سرگرمیوں سے چشم پوشی کرتی رہیں۔

٭٭٭٭٭

فیڈرل شریعت کورٹ میں قادیانیت کا مقابلہ

……یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی تھی جس نے حکومت پاکستان کی درخواست پرفیڈرل شریعت کورٹ میں قادیانیوں کے فتنہ کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکا اور محکم و مستند دلائل سے قادیانی وکلاء کو شکست سے دوچار کیا۔

شیعہ کتب پر پابندی کا خاتمہ

…… تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے ہی تمام شیعہ کتب حتی کہ نہج البلاغہ پرلگا دی جانے والی پابندی ختم کرائی۔

جنت البقیع کی اجڑی قبروں کی بحالی کیلئے عالمی سطح پر جدوجہد

……قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کی ولولہ انگیز و بصیرت افروز قیادت میں یہ اعزاز تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی کو حاصل ہے کہ اس نے جنت البقیع کی تاراجی کے خلاف عالمگیر احتجاج کی بنیاد رکھی اور دنیا کے ہر فورم پر اس آواز کو بلند کیا۔جنت البقیع کی تاراجی کے خلاف تحریک کی اس جدوجہد کا ہی ثمرہ ہے کہ آج یورپ و امریکہ سمیت دنیا کے کونے کونے میں 8شوال کو صدائے احتجاج بلند کی جاتی ہے۔

نصاب سے منافرت انگیزی کی اخراج کی متواتر جدوجہد

…… تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے ہی پیہم کوشش سے تعلیمی نصاب سے منافرت انگیز اور اختلافی مواد بہت حد تک خارج کرا دیا ہے۔

عزاداری اور زنجیرزنی کے حق میں مراجع کے فتاوی کی پہلی بار انٹرنیٹ پر انگریزی میں اشاعت

……جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب حسینیت سے خوفزدہ قوتوں نے عزاداری کو زک پہنچانے اور مرجعیت کو بدنام کرنے کیلئے مرجعیت اور عزاداری کو ایک دوسرے کی ضد ثابت کرنے کی کوشش کی تو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے آئی ٹی ونگ اور ریسرچ سیل کی کوششوں سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی ویب سائٹ کے ذریعہ انٹرنیٹ پرپہلی مرتبہ عزاداری کے متعلق ساڑھے تین سو سے زائد مراجع عظام کے فتاویٰ کو انگریزی زبان میں پیش کیا  گیاجس سے عزاداری اور مرجعیت کے دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی۔اس حوالے سے مراجع عظام کے دعائیہ کلمات تحریک کی قیادت و کارکنان کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔

مرجعیت و مرکزیت کیلئے آواز

……قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے ہی صدام حکومت کے خاتمہ کے بعد مرجعیت اور دنیائے شیعیت کی مرکز یت کے خلاف ہونے والی سازش کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی۔بعثی حکومت کے خاتمہ کے بعد جب علماء کا بے دریغ قتل عام کیا جانے لگا حتی ٰ کہ آےۃ اللہ سیستانی کے گھر کا بھی محاصرہ کرلیا گیا، مراجع اربعہ پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا اور نجف اشرف کے تقدس کو پامال کیا جانے لگاتو پوری دنیائے شیعیت گو مگو کی کیفیت میں تھی اس موقع پر اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے یہ واضح کرکے کہ مرجعیت اور اور مرکزیت خطرے میں ہے، دنیائے شیعیت کو جنجھوڑکر رکھ دیا،دنیا بھر کی شیعہ ویب سائٹس نے آقائے موسوی کے اس موقف کو نمایاں انداز میں اجاگر کیا۔اس پہلی آواز کے بعددنیا بھر سے صدائے احتجاج بلند ہونے لگی اور مرجعیت اور مرکزیت کے دشمنوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

……قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے ہی ایران کے اسلامی انقلاب کو مکتبی و مسلکی انقلاب ثابت کرنے کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔اورآیۃ اللہ العظمی روح اللہ الخمینی کے خلاف پروپیگنڈے کے انسداد کیلئے عملی اقدامات کئے ۔ آیۃ اللہ روح اللہ خمینی ؒ کے عقائد و تعلیمات کا عام کرنے میں اہم کرداد ادا کیا ۔ عراق میں صدام حکومت خاتمے کے بعد مرجعیت پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی ۔

……یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی تھی جس نے 2006ء میں مغربی ممالک کی جانب سے رسالت مآب کے کارٹون شائع ہونے کے خلاف سب سے پہلے آواز احتجاج بلند کی۔

……تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے فرمان امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ”کونوا للظالم خصماًو للمظوم عوناً“کو اپنا موٹو قرار دیتے ہوئے ہمیشہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔یوم القدس حمایت مظلومین،یوم یکجہتی کشمیر پر سالانہ ملک گیر ریلیاں اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔لبنان پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران قانا میں ان گنت بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف تحریک کی ذیلی تنظیم مختار جنریشن کے زیر اہتمام دنیا میں پہلی مرتبہ بچوں کا عظیم الشان جلوس نکالا گیا جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔پھراسی طرز پر دنیا بھر میں اس ظلم کے خلاف بچوں کے جلوس اور ریلیاں نکلنے لگیں۔

روضۃ العسکریینؑ کی بحالی کیلئے جدوجہد

……یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی تھی جس نے سانحہ سامرا کے خلاف صرف پاکستان میں ہی احتجاج نہیں کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس پوری انسانیت کے ورثے کی بحالی کیلئے آواز بلند کی۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری،یونیسکو،سلامتی کونسل،انسانی حقوق کی تنظیموں غرضیکہ ہر فورم پراس مسئلے کو اجاگرکیا۔یہی وجہ ہے کہ یونیسکو نے امام العسکریین  کے مراقد کو عالمی ورثے میں شامل کیا۔اس حوالے سے فرانسیسی تنظیم کی جانب سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی کوششوں کا اعتراف ملت جعفریہ پاکستان کا بہت بڑااعزازہے۔

٭٭٭٭٭

پاکستانی میڈیا میں سیرت چہاردہ معصومین ؑ کا ابلاغ

80ء کی دہائی کے وسط تک پاکستان کے اخبارات اور میڈیا پر مکتب تشیع کو شاذ ہی کوریج دی جاتی تھی اور چہاردہ معصومین ؑ  کے تذکرہ کا تو تصور ہی محال تھا۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے قیادت سنبھالنے کے بعد معصومین علیھم السلام،پاکیزہ صحابہ کبار اور محسنان دین و شریعت  بالخصوص حضرت ابو طالب ؑ و ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا کے ایام شہادت و ولادت منانے کیلئے ملکی سطح پر منظم و مربوط پروگراموں کا آغاز کیا۔اور آج شاید ہی پاکستان کا کوئی اخبار ایساہو جس میں کسی نہ کسی حوالے سے ان پاکیزہ ہستیوں کا تذکرہ نہ ہوتا ہو۔ان کوششوں سے نہ صرف آمریت کی پیدا کردہ گھٹن ختم ہوئی بلکہ اسلام کے ان مشاہیر کے پاکیزہ افکار و کردار کی روشنی سے ہر شخص منور ہونے لگا ہے۔تحریک کی اس پیہم کوشش سے آج ولاء و عزا کے پروگراموں کی رونق کئی گنا بڑھ چکی ہے۔پاکستان کے اخبارات وجرائد کے لاکھوں ایڈیشنز تحریک کی اس کامیابی کی سند ہیں۔یہی نہیں آج یہ روشنی جغرافیائی سرحدوں کو پھلانگ کر دنیا بھر کو متاثر کرہی ہے اور تحریک کی جانب سے اعلان کردہ پروگرام پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں انعقاد پذیر ہورہے ہیں۔

علماء کی تو قیر کی حفاظت ۔ بیرونی ممالک کا پراکسی بننے سے انکار

…… تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی روحانی قیادت آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس نے آج تک کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔تحریک کا بدترین دشمن بھی تحریک پر کسی قسم کی تہمت لگانے سے قاصر نظر آتا ہے۔ قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی نے امام المتقین علی ابن ابی طالب ؑ کی سنت میں سادہ ترین طرز رہائش اختیار کرکے  اور اپنے کردار و عمل سے بڑے سے بڑے بدخواہ کو بھی اپنے زہد وتقوی ٰ کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے،اس دور میں جب عمامہ اور عبا قبا کے تقدس کو بری طرح پامال کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے آقائے موسوی نے لباسِ آئمہ کی اس انداز میں حفاظت کی کہ عوام میں علماء حقہ سے محبت و عقیدت کی ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی علی ؑ مسجد آمد اور حیرت و استعجاب

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اپنے بھائی میر مرتضی بھٹو کی شہادت کے بعد شدید بحرانی کیفیت میں دعاؤں کے حصول کیلئے جب علی مسجد تشریف لائیں تو یہ سن کر حٰیران رہ گئیں کہ آغا حامد موسوی خواتین سے ملاقات نہیں کرتے ۔ انہوں نے آقائے موسوی کی اہلیہ مادر ملت جعفریہ کے ذریعے دعائیں حاصل کیں اور آقای موسوی کے سادہ طر ز زندگی اور تنگ و تاریک گھر میں رہائش پر شدید حیرت کا اظہار کیا ۔ آقائے سید حامد علی شاہ موسوی کے تقوی و پر ہیزگاری نے ایک عالم کو مسخر کر رکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب ؑ کے علم کو اٹھانے والے آ غا حامد علی موسوی نے عملا سیرت امام المتقین کو اختیار کرکھا ہے جس پر دشمن بھی انگشت نمائی کرنے سے لاچار ہے ۔

٭٭٭٭٭

تائیدخدا و چہاردہ معصومین ؑ کا مظہر

”تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سرپرست وارث خون شہیداں سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام ہیں“

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے یہ الفاظ محض لفاظی نہیں گذشتہ تین دہائیوں میں آئے روز درپیش آزمائشوں میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سرخروئی اور کسی بھی دنیاوی وسیلے اور مال و زر کی نایابی کے باوجود اس تحریک کا قائم اور دائم رہنا اس سرپرستی کی واضح اور بین دلیل ہے۔ تمام تر بے سروسامانی کے باوجود تائید معصومین ؑ سے آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے مکتب جعفر ابن محمد ؑ کے عَلَم کو سرمایے کے سیلاب،جھوٹے پروپیگنڈے کی آندھیوں،جبر ودہشت کی کڑی دھوپ اور آستین کے سانپوں کی سازشوں کے باوجود کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔

٭٭٭٭٭

عقا ئد حقہ کے تحفظ اور نفرت انگیزی کے خاتمے کیلئے پیہم جدوجہد

اے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ     اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ

پے درپے شکست کے باوجود آج بھی دشمنان اسلام کی سازشیں عروج پر ہیں۔دشمنان دین وشریعت نئے روپ دھار کراسلام کو مٹانے چل نکلے ہیں۔اسلامی ممالک کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے بالخصوص عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت پاکستان اس سازش کا ٹارگٹ ہے،بھائی کو بھائی سے لڑایا جارہا ہے،اپنے کیمپوں میں دہشت گرد تیار کرکے استعمار عالم اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگارہا ہے اورعالمی سطح پر مشاہیر اسلام کی عزت و توقیر کم کرنے کیلئے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔

ذوق فسادو ولولہ ئشرلئے ہوئے                                 پھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لئے ہوئے

حسینیت اسلام کی روح ہے لہذا اسے مجروح کرنے کیلئے ایک منظم صیہونی و استعماری سازش کے تحت دنیا بھر میں ایجنٹوں کا جال پھیلا دیا گیا ہے جنہیں مکتب جعفر ابن محمد کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مکروہ منصوبہ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔بالخصوص وطن عزیز پاکستان میں اصلاح کے نام پر آج بھی عقائد حقہ کی تخریب کا سامان کیا جا رہا ہے،رزم گاہوں میں شکست فاش سے دوچار ہونے کے بعد سازشوں کے مراکز اپنے نمک خواروں کو منافقت کے ماسک پہن کر ملت جعفریہ کی صفوں میں گھس جانے کی پالیسی دے چکے ہیں،مراجع عظام اور علمائے حقہ کی تقدیس کو نقصان پہنچانے کیلئے ’خارجی‘تربیت گاہیں کھل چکی ہیں،سادات عظام کی عظمت و حرمت کو نقصان پہچانے کیلئے ’اجتماعی‘منصوبہ بندی اختیار کی جا چکی ہے،عزاداری کو علی الاعلان مسدود کرنے کے ناپاک ارادے خاک میں ملنے کے بعد آج دشمنان عزا صف عزا میں داخل ہو کر ’مثالی عزاداری‘ کے نام پر گمراہ کن لٹریچر اور سی ڈیز کے ذریعے مشن سیدہ زینب و سجادؑ کو مٹانے کا نیا ذریعہ تلاش کر چکے ہیں،ایک طرف جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ ماتمی عزاداروں کو مراجع عظام اور علمائے حقہ سے دور کیا جارہا ہے تو دوسری جانب جبہ ودستار کی حرمت کو بیچ کھانے والے علمائے سو کے ذریعے فضائل و مصائب محمدؐ و آل محمدؐاور عبادات عزاداری کو فرسودہ قراردلوا کر نوجوان نسل کو مجلس وماتم ا ور زنجیر و تطبیرسے دور کرنے کی ناکام کوششیں جاری ہیں۔بیرونی سرمایے کے بل بوتے پرزیادہ ترمدارس دینیہ پر قبضہ جمانے کے باوجود تاحال ناکامیوں سے دوچارعناصر اب ’ماڈل درسگاہوں،کیمپس اوریونیورسٹیوں‘کے ذریعے قوم کے بچوں کی برین واشنگ کے منصوبے شروع کرچکے ہیں،بد عقیدہ عناصر کو مسترد کردینے والے مومنین کو عیسائی مشنریز کی طرز پر فلاحی منصوبوں کی آڑ میں ’مفتوح‘بنانے کی کوشش جاری ہے غرضیکہ ’نیاجال لائے پرانے شکاری‘کے مصداق حسینیت کو زیر کرنے کی صیہونی سازش کی تکمیل کیلئے ہر حربہ اور ہتھکنڈا اختیار کیا جارہا ہے۔

٭٭٭٭٭

قوم اصحاب حسین ؑ کی طرح ساتھ دے یا اصحاب مسلمؑ کی طرح ساتھ چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔

ایک طرف ان سازشوں کا بازار گرم ہے تو دوسری جانب قوم و ملت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مکمل ادراک  رکھتے ہوئے آقای موسوی اس یقین کے ساتھ کہ ”جو بھی حسینیت سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا“مکتب تشیع کے ہیڈ کوارٹر سے قومی حقوق اور عقائد حقہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اور  غدیردینہ سے لے کر آج تک یہ اعلان دہراتے چلے آرہے ہیں کہ ”قوم اصحاب حسین ؑ کی طرح ساتھ دے یا اصحاب مسلمؑ کی طرح ساتھ چھوڑ دے،جب تک موسوی کے دم میں دم ہے دشمنان حسینیت کی ہر سازش اور شرارت کو ناکام بنا یا جاتا رہے گا“یہی وجہ ہے کہ ان گنت سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود آج بھی علمائے روحانیین،مراجع عظام اوراولیائے کرام کے مشن کے پاسدار آقائے موسوی ریالوں ڈالر وں اور درہم و دینار کی بیساکھیوں کے بجائے ’یاعلی ؑ مدد‘کے نعرے  و ایمان کے ساتھ اور ولایت علی ؑ و عزائے حسین ؑ کو اوڑھنا وبچھونا بنائے عزم و ثبات سے جادہ حسینیت پر گامزن ہیں

ولایت علی ؑ عزاداری سید الشہداء ، حرمت سادات کے تحفظ کیلئے مورچہ

زخموں سے بدن گلزار سہی پر اُن کے شکستہ تیرگنو      خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اس کی روحانی قیادت ہی قوم کو بے روح کردینے کی سازشوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، تحریک ہی محمدؐ و آل محمدؐ  کے پاکیزہ ورثے کو تباہ کرنے کے خواہاں عناصر کو بے نقاب کررہی ہے اورعقائدمیں تخریب کرنے والوں سے عملاًاظہار برات و بیزاری کر رہی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی وہ مورچہ ہے جس نے نظریہ پاکستان پر حملے کو ناکام بنایا۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی مراجع کی عظمت و بزرگی اور سادات کی حرمت کی علمبردار ہے۔ تحریک کے قائد آقائے موسوی  خودبھی عزادار اور مشن زینب و سجاد ؑ کے پاسدار ہیں، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے ہی عزاداری کو بام عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام کیا۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی یہی کارکردگی ہے جو ہر حسینیؑ کو اس عزم و عمل کے کاروان میں شامل ہونے پر مجبور کررہی ہے۔

٭٭٭٭٭

کاروان موسوی ۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں دعوت شمولیت

حق و باطل کے معرکوں میں خاموشی جرم ہوا کرتی ہے،عقیدے کی استقامت کی پرکھ ایسے حالات میں امتحان و آزمائش سے ہی ہواکرتی ہے

 فیصلہ آپ پر ہے

حسینی استغاثہ آج بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے  اگر آپ واقعاً نصرت امام کرنا چاہتے ہیں اورعنداللہ و عند الرسول و علی وبتول و اولاد بتول سرخروہونا چاہتے ہیں تو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے اس کاروان کامراں میں شامل ہو جائیں۔

یہ بات ذہن نشین رہے

کہ حق کبھی افراد کی کثرت یا وسائل کا محتاج نہیں ہوا کرتا ہاں مگر اہل حق خواب غفلت کا شکار عوام الناس کو فلاح اور سرخروئی سے ہمکنار کرنے کے خواہاں ہمیشہ سے رہے ہیں۔آدم و نوح،ابراہیم وموسی ٰ و عیسیٰ ہوں خاتم الانبیاء ہوں یا دشت نینوا میں ”ھل من ناصر ینصرنا“کی صدائے استغاثہ بلند کرنے والے حسین ابن علی ؑ،اہل حق اپنی صداقت و امانت منواکرعوام الناس کو دعوت ِ حق ضرور دیا کرتے ہیں۔

یہ دعوت اسی سلسلے کی کڑی ہے

اگرآپ واقعاًمحمد و آل محمد کی محبت سے سرشار ہیں اور خدا اورمعصومین کی خوشنودی کے طلبگار ہیں توآئیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا رکنیت فارم بھرکر اس قافلہ جس کے سیدو سردارزینبؑ و سجاد  ؑہیں میں شامل ہوجائیں اور اپنے فکر وعمل سے اس مسیحا کی تعجیل کا سامان کریں جس کا انتظار صدیوں سے ہر مظلوم و مستضعف کررہا ہے۔

و ما علینا الاالبلاغ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.