33کروڑ جعلی ڈومیسائل بھی کشمیر کی آزادی کی لہر کو نہیں روک سکتے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

اقوام متحدہ استعمار کا سہولت کار ہے،وہ وقت دور نہیں جب مظلوم قومیں یو این سے خوف کھائیں گی،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
کشمیری راہ حسینیت ؑپر گامزن ہیں،33کروڑ جعلی ڈومیسائل بھی آزادی کی لہر کو نہیں روک سکتے، امن کا ٹھیکیدار وعدے پورے کرے
آبادی کا تناسب بدلنا خوفناک اقدام ہے، سنگینوں کے سائے میں ’لبیک یا حسین ؑ‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘کے نعرے بھارتی یزیدیت کی شکست کا اعلان ہیں
پاکستان نے عرب دنیا کے حکمرانوں کاہرمشکل وقت میں ساتھ دیاہے، آج پاکستان کی شہ رگ خطرے میں ہے مسلم حکمران دوٹوک فیصلہ کریں
ہر مسلمان کو کشمیریوں فلسطینیوں کی پکار پر لبیک کہنا ہوگا،ایسے اقدامات کئے جائیں کہ پورا عالم مظلوموں سے یکجہتی کی صداؤں اسے لرزنے لگے
کشمیری پاکستان کو پکار رہے ہیں حکومت اور حزب اختلاف محاذ آرائی ختم کریں، کارکنان سے خطاب، یوم یکجہتی پر ملک بھر میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی ریلیاں مظاہرے

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامدعلی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ عالمی امن کا ٹھیکیدار اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ کئے وعدے پورے کرے بصورت دیگر وہ وقت دور نہیں کہ جب مظلوم اقوام اپنا کیس یو این میں لے جانے سے خوف کھائیں گی اور دنیا میں دہشت گردی فتنہ و فساد کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں ہو گا جس کی تما متر ذمہ داری اقوام متحدہ پر ہوگی، اقوام متحدہ استعماری قوتوں کے سہولت کا ر کا کردار ادا کررہا ہے فلسطین و کشمیر یواین کی منافقت کے سبب آگ میں جل رہے ہیں، کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش خوفناک اقدام ہے کشمیری راہ حسینیت پر گامزن ہیں 33لاکھ چھوڑ 33کروڑ جعلی ڈومیسائل بھی آزادی کی لہر کو نہیں روک پائیں گے، سنگینوں کے سائے میں ’لبیک یا حسین ؑ‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘کے نعرے بھارتی یزیدیت کی شکست کا اعلان ہیں،بھارت کو تمغوں سے نوازنے اور اسرائیل سے دوستی کے دیوانے مسلم حکمرانوں نے کشمیریوں فلسطینیوں کی فریاد نہ سنی تو عبرت سے دوچار ہوں گے،پاکستان نے عرب دنیاکے حکمرانوں کاہرمشکل وقت میں ساتھ دیاہے آج پاکستان کی شہ رگ خطرے میں ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ وہ دوغلی پالیسی ترک کرکے دوٹوک فیصلہ کریں، کشمیری پاکستان کو پکار رہے ہیں حکومت اور حزب اختلاف محاذ آرائی ختم کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر علاقہ بنگش سے تعلق رکھنے والے ٹی این ایف جے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پاکستان کے تمام شہروں میں تحریک نفاذذ فقہ جعفریہ کی جانب سے ریلیوں، مظاہروں اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے صدارتی فرمان اور جموں اور کشمیر کی تنظیم نو کے مسودہ قانون کے تحت مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370اور35 اے کو ختم کرکے نہ صرف تقسیم ہند کے منصوبے ا، عالمی قوانین وراقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کردیابلکہ دو قومی نظریے کو باطل اور ہندوستان کو پاکستان پر ترجیح دینے والے مٹھی بھر نام نہاد کشمیری لیڈروں کی اولادوں کو یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ تاریخی غلطیوں کے مرتکب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی نیتاؤ ں کے اقدامات نے جہاں بانیان پاکستان کی سچائی، فہم و فراست، دور اندیشی، حکمت بصیرت اور مسلمان دوستی پر ایک بار پھرمہر تصدیق ثبت کردی ہے وہاں ہندوستان کی خالق مہاسبھائی سوچ کی منافقت کا پردہ ایک بار پھر چاک کردیا ہے، اقلیتوں اور مسلمانوں پر مظالم سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے دعویدار بھارتی ریاست کی فسطائیت دنیا کے سامنے کھل کر آگئی ہے، بھارتی سیکولزم کا پول بھی کھل چکا ہے اور مودی نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ اور اسکی قراردادوں کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہے،مودی نے بھارت کی جمہوریت اہنسا سیکو لرزم کے ترانے گانے والوں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔

آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ نہرو خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ لے کر گیا نصف درجن سے زائد حق خود ارادیت کی قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا دیکھنا یہ کہ اقوام متحدہ و سلامتی کونسل اپنی قراردادوں کو پرزے پرزے کرنے والے بھارت کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں بدقسمتی سے اقوام متحدہ اپنے چارٹر پر عمل کروانے میں دوغلی پالیسیوں کا شکار رہامشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں تو استصواب رائے کرا دیا کیونکہ وہ عیسائی تھے اور استصواب رائے کی آڑ میں ایک طرف آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی مسلم ریاست انڈونیشیا اور دوسری طرف رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی مسلم ریاست سوڈان پر ضرب لگانا مقصود تھی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مسلم حکمران ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت اور گولان پہاڑیوں کو اس کا حصہ تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ سے مستعفی ہو جاتے تو مودی کو کشمیریوں کے خلاف انتہائی اقدام کی جرات نہ ہوتی،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان تمام غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا جو مسئلہ فلسطین میں مسلمانوں کی جانب سے کی گئیں،آج دنیا میں پونے دو ارب مسلمان ہیں جن میں ایثار قربانی کا جذبہ یقینا پایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے مسلم حکمران محض اقتدار کے بچاؤ کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں مسلمانان عالم کو اس حدیث نبوی کو یاد رکھنا ہو گا کہ ”جو اس حالت میں صبح و شام کرے اور مسلمانوں کے امور کا اہتمام نہ کرے وہ مسلمان نہیں“۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں ہر مسلمان کو کشمیریوں کی پکار پر لبیک کہنا ہوگا، امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی وصیت کونوا للظام خصما و للمظوم عونا (ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بن جاؤ) کے تحت بھارتی غاصبوں کے خلاف آواز احتجاج بلند کرناہوگی اور مظلومین کشمیرو فلسطین کی دادرسی اور حمایت و اعانت کیلئے اس انداز میں اقدامات کرنا ہوں گے کہ پورا عالم کشمیر یوں فلسطینیوں سے یکجہتی کی صداؤں اسے لرزنے لگے اگر مسلمانان عالم نے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرلیا تو دیگر آزادی و انصاف پسند حکومتیں بھی کشمیریوں فلسطینیوں کیلئے اقدامات اٹھانے کیلئے آمادہ ہو جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.