او آئی سی نے عالم اسلام کو پھر مایوس کیا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی لہر پر خاموشی سوالیہ نشان ہے،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

او آئی سی اجلاس نے عالم اسلام کو ایک بار پھر مایوس کیا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی لہر پر خاموشی سوالیہ نشان ہے،آغا حامد موسوی
تنظیم اپنا مقصد بھول گئی آج صرف القدس شعلوں کی زد میں نہیں پورا مسئلہ فلسطین مسلم حکمرانوں کے مفادات کی آگ میں بھسم ہو چکا ہے
مسلم حکمرانوں کی غیرت مرچکی ہے وہ فقط استعمار کے آلہ کاراور حکمرانی کی طوالت کیلئے اس کے جوتے چاٹنے کیلئے ہر دم تیار ہیں
نائیجرمیں کشمیر پر بحث سے انکار مسلم ممالک کی بے حسی ہے، کونسی تبدیلی آگئی کہ مسلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دیوانے ہوئے جا رہے ہیں؟
عراقی پلانٹ کی تباہی سے لیکر ایرانی سائنسدان کی شہادت تک سبھی حملوں کے پیچھے گریٹر اسرائیل ایجنڈا کارفرما ہے، دشمن کو کمزور نہ سمجھا جائے
کسی بھی مسلم ملک پر حملے کو عالم اسلام پر حملہ سمجھاجائے، مسلم فرمانروا کو گستاخیوں کے جواب کیلئے جذبہ مختار اپنانا ہوگا، ایام لثارات الحسین کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بور ڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے بیکار اجلاس نے عالم اسلام کو ایک بار پھر مایوس کیا جو تنظیم مسجد اقصی کی آتشزدگی کے ردعمل میں وجود میں آئی تھی اس کے اجلاس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی لہر کے بار ے میں خاموشی سوالیہ نشان ہے، آج صرف بیت المقدس شعلوں کی زد میں نہیں پورا مسئلہ فلسطین مسلم حکمرانوں کے مفادات کی آگ میں بھسم ہو چکا ہے، مسلم حکمرانوں کی غیرت مرچکی ہے وہ فقط استعمار کے آلہ کاراور حکمرانی کی طوالت کیلئے اس کے جوتے چاٹنے کیلئے ہر دم تیار ہیں،او آئی سی اپنا مقصد بھول کر استعماری خوشنودی کی راہوں پر گامزن ہے نائیجر وزرائے خارجہ اجلاس میں کشمیرکی صورتحال پر بحث سے انکار مسلم ممالک کی بے حسی کی علامت ہے، مسلم حکمران بتائیں کہ صیہونی پالیسیوں میں 70سال بعد ایسی کونسی تبدیلی آگئی کہ ایک ایک کرکے مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دیوانے ہوئے جا رہے ہیں؟عربوں کی پشت پر پیوست اسرائیلی خنجر کا زخم حکمران کیوں فراموش کرچکے ہیں؟ایرانی سائنسدان پر حملہ لمحہ فکریہ ہے،1981 عراقی نیوکلیئر پلانٹ کی تباہی سے لیکر ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے کی شہادت تک سبھی حملوں کے پیچھے گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا کارفرما ہے، مسلم ممالک اپنے دفاعی اثاثوں کی حفاظت کا نظام مزید موثر بنائیں دشمن کو کمزور نہ سمجھا جائے، کسی بھی مسلم ملک پر حملے کو عالم اسلام پر حملہ سمجھاجائے بصورت دیگر دشمن سب کو ایک ایک کر کے مارتا رہے گا، مسلم فرمانرواؤں کو گستاخیوں کے جواب اور کشمیر وفلسطین کی آزادی کیلئے جذبہ مختار اپنانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقام رسالتؐ و اہلبیت اطہار ؑ و پاکیزہ صحابہ کبار ؓ کے گستاخوں کے عبرتناک انجام کی یادگارقیام مختار کے موقع پر’ایام لثارات الحسین ؑ‘کی مناسبت سے منعقدہ محفل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاکہ اوآئی سی کے اقوام متحدہ سے توہین کے مطالبے میں اسی وقت جان پڑ سکتی ہے جب وہ خود توہین کے واقعات پر اقدامات اٹھائے، نبی کریم محمد مصطفی علیہ وآلہ وسلم کے آبا ء و اجداد، پاکیزہ اصحاب ؓ، امہات المومنینؓ اور اہلبیت اطہار ؑ کے مزارات کو تاراج کر کے اسلام کی توہین کی گئی لیکن اوآئی سی کے لب سلے ہوئے ہیں، آج بھی اسلام کی نشانیوں کی توہین کا سلسلہ جاری ہے اگر مسلمان خود اپنی مذہبی نشانیوں پرخاموش نہ رہتے تو کسی کو گستاخانہ خاکے بنانے کی جرات نہ ہوتی ۔

انہوں نے کہا کہ حضور ؐ کی شان میں سب سے بڑی گستاخی کربلا کے میدان میں برپا کی گئی جب اولاد مصطفی ؐ کو ذبح کیا گیا اور پاک نبی ؐ کی بیٹیوں کے سروں سے چادریں چھین کر بازاروں میں پھرایا گیایزیدی توہین کے خلاف صحابی رسول ؐ ابو عبید ہ ثقفیؓ کے فرزند حضرت مختارؒ نے قیام کیا اور تاریخ میں عشق رسالت ؐ کی ایسی مثال پیش کی جس کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں اور تمام شاتمان رسالت ؐ کو تہہ تیغ کردیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ایک صدی قبل سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے بعد عالم اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی اور اسرائیل کے قیام کیلئے راستہ ہموار کیا گیاچھوٹے چھوٹے مسلم ممالک میں انتشار پھیلانے کی سازش آج بھی پورے زور و شور سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں پر ایسے حملے کئے جارہے ہیں کہ وہ کبھی ایک نہ ہونے پائیں،مسلمان پہلے ہی بکھرے ہوئے تھے انہیں مزید بکھیرا جا رہا ہے، اگر فلسطین کشمیر کی قراردادوں پر عمل نہیں ہو رہا تو اس کا سبب بھی مسلمان خود ہیں، دشمن کی سازشوں کا ادراک کرنے کے بجائے وہ دشمن کے جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ آج تک او آئی سی کے تمام اجلاس گفتند نشستند برخاستند کے سوا کچھ نہ کرسکے بدقسمتی سے یہ تنظیم اپنی 51سالہ تاریخ میں اجلاس کرنے کے سوا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو مٹادینے کی صہونی و امریکی سازش کو اس وقت شہ ملی جب ٹرمپ نے حجاز مقدس کا دورہ کیا اور وہاں جو مسلم ممالک کی’عزت‘کی گئی وہ تاریخ کا حصہ ہے ٹرمپ نے ایران کو سب سے بڑا دہشت گرد کہہ کر مسلمان ممالک میں خلیج کو مزید گہرا کیا اور وہ دن اور آج کا دن جو ہوا اس پر ہر غیرت مند مسلمان خون کے آنسو رو رہا ہے بیت المقدس کو اسرائیلی حکومت بنانے کراعلان کردیا گیا،گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو مستحکم اور ناجائز یہودی بستیوں کا مزید پھیلاؤ کردیا گیا اور مسجد اقصی کو ہر روز حملوں کا سامنا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ شیطانی قوتیں مسلم ممالک کے دفاع ترقی استحکام کے ہر منصوبے کی دشمن ہیں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے عظیم منصوبے سی پیک سے بھی صر ف ازلی دشمن بھارت، اسرائیل، امریکہ اور اس کے پٹھوؤں سبھی کے پیٹ میں مروڑ ہیں اسی وجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی اور افراتفری کا نیٹ ورک پھیلایا گیا ہے۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مسلم حکمران بندہ بنیں فلسطینیوں کشمیریوں پر جو بیت رہی ہے اس پر مسلم حکمرانوں کو خدا کی عدالت میں ضرور جوابدہ ہونا ہوگا انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ دائمی بقااور دینی و اخروی فلاح استعماری غلامی میں نہیں باہمی اتحاد میں مضمر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.