اسیر شہیدہ کے اسیر تابوت کی بر آمدگی نے کہرام مچادیا، سکینہ جنریشن کی مرکزی مجلس کا احوال

ولایت نیوز شیئر کریں

شہادت معصومہ کی مجلس میں ہزاروں خواتین اور کم سن بچیوں کی شرکت

پروگرام کے تمام انتظامات  سکینہ جنریشن کی بچیوں نے سنبھال رکھے تھے

سکینہ جنریشن کی تنظیم ایک اکیڈمی کی صورت اختیار کرچکی ہے

سکینہ کو بابا کا مشن یاد تھا  یہ محمد کے گھرانے والے دنیا کو مٹانے نہیں بچانے والے ہیں،کم سن خطیبہ لواء زینب کاظمی

اسلام ۤآباد(ولایت نیوز) سکینہ جنریشن کے زیراہتمام جامعۃ المرتضیٰ جی نائن فور اسلام آباد میں مجلس شہادت سکینہ بنت الحسین ؑ کی مرکزی مجلس منعقد ہوئی جس میں ہزاروں خواتین کے ساتھ ساتھ سکینہ جنریشن کی کم سن بچیون نے تنظیمی یو نیفارم میں شرکت کی،پروگرام کے تمام انتظامات بچیوں نے ہی سنبھال رکھے تھے ۔

سکینہ جنریشن کی تنظیم ایک اکیڈمی کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔ اس کا ثبوت اس وقت نظر آیا جب سکینہ جنریشن کی کم سن خطیبہ سیدہ لواء زینب کاظمی نے انتائی مدلل اور ایمان افروز خطاب کیا ۔اانہوں نے اپنے خطاب میں شعائر حسینی کی اہمیت ، نیاز حسینی کی فضیلت ر روشنی ڈالی ۔

انہوں نے کہا کہ حضرت یعقوب کے گھرانے کے باہر سائل بھوکا رہا اور ان کے گھر والے شکم سیر ہوگئے لہذا حضرت یعقوبؑ نبی کو آزمائش میں مبتلا کردیا گیا جبکہ خاتم الانبیاء محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کا اعجاز ہے  کہ گھرانے کے باہر مسکین اسیر یتیم  سائل سیر ہوتے رہے  جبکہ پورا گھرانہ تین دن بھوکا رہا جس پر اللہ نے سورہ دہر خانوادہ اہلبیت کی شان میں نازل کی ۔

لواء زینب نے کہا کہ  عزاداری کے خلاف پروپیگنڈے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دنیا بھر کی استعماری و طالمانہ قوتوں کو اس موثر ترین پرامن احتجاج سے سب سے زیادہ خطرہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ   ہمیں سوچنا ہوگا   اپنا احتساب کرنا ہوگاکہ ہم اپنے آقا  و مولا امام حسین ؑ کے مہمانوں کی تعظیم بھی ایسے ہی کرتے ہیں جیسے اپنے بچوں کے دوستوں ، اپنے عزیزوں اور صاحب حیثیت لوگوں کی کرتے ہیں ۔

انہوں نے بیان کیا کہ حضرت یعقوب کے فرزند یوسف نبی ؐکو ایک غلام نے ایک طمانچہ رسید کیا تو ان کی فریاد پرعذاب کا منظر پیدا ہو گیا جو حضرت یوسف کی دعا کے بعد ٹلا۔ لیکن خاتم الانبیا کی اولاد شہزادی سکینہ بنت الحسین ؑ کو کربلا سے شام تک طمانچے لگتے رہے لیکن انہوں نے بددعا نہ کی کیونکہ سکینہ ؑ کو بابا کا مشن یاد تھا  یہ محمد کے گھرانے والے دنیا کو مٹانے نہیں بچانے والے ہیں ۔ تمام تر مصائب برداشت کرکے نبی کریم کے خانوادے نے کربلا کے شفاخانے کی بنیاد رکھی جو آج بھی بیمار انسانوں ہی نہیں مریض اقوام کیلئے بھی نسخہ اکسیر کی حیثٰت رکھا ہے۔

مجلس عزا سے زاکرہ تہذیب زہرا، سیدہ بنت موسی موسوی کے علاوہ کم سن ذاکرات فضائل حسن ، ابریز فاطمہ ، حورین حسن ، حاسن بتول ، ابتہاج زینب ، ماریہ الطاف ، ریتاج فاطمہ ، مسکان ، شذرہ بتول ، نایاب ، کونین زہرا ، زرین فاطمہ ، نعلین زہرا، تاثٰل زہرا ، حنا نقوی ، ثنا نقوی نے بھی خطاب کیا۔مجلس کے بعد جب شہزادی سکینہ کا قیدخانہ نما تابوت برمد ہوا تو کہرام مچ گیا اور دلدوز ماتم کی صدائیں بلند ہوئیں ۔تابوت پر لگے  شہزادی سکینہ کی حسرت کی علامت شہزادہ علی اصغر ؑ کے خون سے رنگین کرتے کو دیکھ کر مستورات گریے سے نڈھال ہوتی رہیں ۔

مجلس میں راولپنڈی اسلام آباد، اٹک ، پشاور ، چکوال ، جہلم گجرات سے سینکڑوں خواتین نے شرکت کی ۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.