بزرگان دین کے مزارات فوری کھولے جائیں،کالعدم جماعتوں پر گرفت کی جائے ،بیروت دھماکے سوالیہ نشان؛ اعلی سطحی اجلاس کی قراردادیں

ولایت نیوز شیئر کریں

بیروت دھماکوں سے ہیروشیما جیسی تباہی عالمی امن کے ٹھیکے داروں کیلئے سوالیہ نشان ہے؟آغاحامدموسوی
اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے دنیائے انسانیت کو عالمی جنگ کے شعلوں سے بچانے کیلئے کرداراداکریں
مقبوضہ کشمیر کی پاکستانی نقشے میں شمولیت کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی ، قائداعظم کے خواب کی تعبیر ہے،5اگست تاریخ کایوم سیاہ ہے
حکومت قائد و اقبال کے مخالفین کو لگام دے، پاکیزہ ہستیوں ،مقدسات کی حرمت کویقینی بنائے ،بیرونی امداد قومی وحدت کیلئے کروناسے زیادہ مہلک ہے
آئین کی موجودگی میں کسی بل کی ضرورت نہیں ،تمام مکاتب کو انکے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے ،برابرکی سطح پر حقوق کی ادائیگی یقینی بنائی جائے
وباﺅں کے خاتمے کیلئے سخی شہباز قلندر، ؒاورکزئی میں سید میرانورشاہ میاں سمیت تمام بزرگان دین کے مزارات فی الفور کھول کر حاجتمندوں کا روحانی سکون بحال کیا جائے
سپریم کونسل کاقائد ملت جعفریہ آغا سید حامد موسوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ۔ ٹی این ایف جے کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں عالمی و قومی امور پر قراردادوں کی منظوری

اسلام آباد(ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماءبورڈ کے سرپرست اعلی ٰقائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ لبنان بیروت دھماکے سے ہیروشیما جیسی تباہی عالمی امن کے ٹھیکے داروں کیلئے سوالیہ نشان ہے؟۔بدھ کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے دوروزہ اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں پرزوردیاکہ وہ دنیائے انسانیت کو عالمی جنگ کے شعلوں سے بچانے کیلئے کرداراداکریں۔سپریم کونسل کااجلاس آمدہ محرم الحرام سمیت اہم تنظیمی فیصلوں اور عالمی و قومی امور کے بارے میں قراردادوں کی منظوری کے بعد اختتام پذیر ہو گیا ۔

اس موقع پرفیصلہ کیاگیاکہ ایام عزاکیلئے پالیسی ضابطہ عزاداری کا اعلان قائدتحریک آغا سید حامدعلی شاہ موسوی محرم الحرام سے قبل کریں گے ۔ٹی این ایف جے کے مرکزی ترجمان کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ 14اگست کو پاکستان کا یوم آزادی یوم نعمت کے طور پر منا کر وطن عزیز کوگروہی اسٹیٹ بنانے کی سازش کو باہمی اتحاد سے ناکام کرنے کے عہد کی تجدید کی جائیگی۔شرکائے اجلاس نے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد میںمقبوضہ کشمیر کی پاکستان کے نقشے میں شمولیت کو کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی ، قائداعظم کے خواب کی تعبیر قرار دیتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو عالمی ضمیر کیلئے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ۔

قرارداد میں ازلی دشمن بھارت کی جانب سے 5اگست2019کو آرٹیکل 370کے پرخچے اڑا کر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی پر زور مذمت کرتے ہوئے اس ظلم عظیم کو تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا جس کے ذریعے بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کرکے نہ صرف آئین و قانون کو پامال کیا بلکہ دنیا پر واضح کرنے کی ناکام کوشش کی کہ اس نے عالمی متنازعہ علاقہ کشمیر اور لداخ ہڈپ کر لیے ہیں ۔ قرارداد میں باور کرایا گیا کہ بھارتی آئین کی آرٹیکل 33-Aاور 370کو کالعدم قرار دینے کے غیر منصفانہ اقدام کے نتیجے میںمقبوضہ کشمیر کو آئینی طور پر بھارت کا حصہ قرار دیکر عالمی ضابطوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئیں۔قرارداد میں واضح کیا گیا کہ گذشہ ایک سال سے کشمیر کے بڑے حصے میں جاری بھارتی لاک ڈاﺅن او رمظلوم کشمیریوں پر جبر و تشدد کی انتہائی کاروائیوں کے باوجود اہل کشمیر کا جذبہ حریت اور اپنے عزم پر قائم رہنا منزل قریب ہونے کی دلیل ہے ، آج نہیں تو کل وہ ضرور آزادی کے حصول میں کامیاب ہونگے ۔سپریم کونسل ٹی این ایف جے نے مظلومین کشمیر کیساتھ بھر پو راظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ جموں سے کپواڑہ ، سری نگر سے ہندواڑہ ، بارہ مولا سے بڈگام، پلوامہ سے کلگام تک بوڑھے بچے اور خواتین کشمیر بنے گا پاکستان اور مٹ کے رہے گا ہندوستان کے نعرے پر یک زبان ہیں ۔

قرارداد میں اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی قراردادوں اور کشمیریوں کے امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کروائے بصورت دیگر جنوبی ایشیا ءمیں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ اجلاس میں نظریہ بنیادی کے تحفظ کےلئے عملی جد و جہد جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے وطن دشمن قوتوں کو انتباہ کیا گیا کہ وہ دین و وطن کیخلاف سازشوں سے باز آجائیں اور حکومت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اورمصور پاکستان علامہ اقبال کے مخالفین کو لگام دے، پاکیزہ ہستیوں ، تمام مذاہب و ادیان کے مقدسات کی حرمت کو یقینی بنائے ۔

قرارداد میں حضرت سخی شہباز قلندر ؒ ، اورکزئی ایجنسی میں انور شاہ میاں ؒسمیت تمام بزرگان دین کے مزارات ، درگاہوں کو فی الفور کھول کر عقیدت مندوں ، حاجت مندوں کا روحانی سکون بحال کیا جائے تاکہ ملک سے ہر قسم کی وباﺅں اور بلاﺅں کا جڑ سے خاتمہ ہو سکے ۔

ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ ٹی این ایف جے نے ہر دو رمیں ظلم و بربریت کے مقابلے میں مظلومیت کا شعار بنایا ہے ، کسی ڈکٹیٹر کی باقیات کو نظریاتی اساس اور آئین پامال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی، 1973کے آئین کی موجودگی میں کسی بل کی ضرورت نہیں لہذا تمام مکاتب کو انکے عقائد کے مطابق انہیں زندگی بسر کرنے کی آزادی اور برابرکی سطح پر حقوق کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔ایک قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹی این ایف جے کی سفارشات کے مطابق زیارات پالیسی مرتب کر کے زائرین کو سہولیات فراہم کی جائے ۔ قرارداد میں عراق ، ایران اور شام کی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ محرم الحرام میں زائرین کیلئے خصوصی اقدامات کرےں اس ضمن میں حکومت پاکستان سفارتی سطح پر اپنا کردار ادا کرے ۔

قراردا دمیں عراقی عزاداروں کی جانب سے پابندی کو مسترد کرنے کو خانوادہ رسالت سے عقیدت کے معراج قرار دیتے ہوئے باور کرایا گیا کہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے بقول زیارت حسین ؑ اصول دین میں ہے جو فتووں کی محتاج نہیں اسی لئے مجتہدین کرام اور مراجع عظام کی تاسی میں زائرین کے پاﺅں کی خاک کو اپنے لئے سرمہ اکسیر قرار سمجھتے ہیں ، آقای بروجردی نے موکب زائرین کے پاﺅں کی خاک اپنی آنکھوں میں لگائی تو وہ نہ صرف ٹھیک ہو گئیں بلکہ انہیں عینک کی ضرورت بھی نہیں رہیں گویاں کربلا عالمی شفا خانہ ہے ۔

ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مدنی ریاست کا ماڈل بنانے کیلئے تمام مکاتب کے حقوق کی ادائیگی یقینی بنائی جائے مکتب تشیع کو نظریاتی کونسل سمیت تمام اسلامی ریاستی اداروں میں برابر کی سطح پر نظریاتی نمائندگی دی جائے، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ،مذہبی لسانی جماعتوں کی بیرونی ایڈ قومی امن و وحدت کیلئے ایڈز سے زیادہ مہلک ہے مذہبی رہنماؤں کے اثاثے آمدن اخراجات کا بھی احتساب کیا جائے سب سے پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اپنے آپ کو پیش کرتی ہے،کالعدم جماعتوں کو محض کھالیں جمع کرنے سے روکنا کافی نہیں کام کرنے سے بھی روکا جائے کالعدم تنظیمیں نئے پرانے ناموں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں سیاسی اتحادوں میں شامل ہیں جو باعث تشویش ہے، کالعدم تنظیموں کی امن کمیٹیوں میں شمولیت کو روکا جائے ۔

ٹی این ایف جے سپریم کونسل نے ایک قرارداد میں مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی اقتصادیات و معاشیات کو امریکی تسلط سے آزاد کرائیں ایک دوسرے کو فتح کرنے کے بجائے ملت واحدہ بن کر کشمیر و فلسطین کی آزادی کیلئے متفقہ موقف اپنائیں ،باہمی تنازعات اوآئی سی کے فورم پر حل کریں ، تاریخی اسلامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے،مسلمانوں کی باہمی چپقلش سے اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں۔قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے ، ملک میں بیروزگاری و مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے، مغرب و ازلی دشمن بھارت کی ثقافتی یلغار روکے ۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی اختتامی نشست میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے حضرت زینب بنت علی ؑکی شہادت 16ذوالحجہ ’یوم شریکة الحسین ؑ‘، 17تا24ذوالحجہ ’ہفتہ ولایت ‘، 27تا اختتام ذوای الحجہ ’ایام استقبال محرم ‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔اس موقع پر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے اراکین نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی بصیرت افروز قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے عہد کا اعادہ کیا۔ اختتامی سیشن سے سیکرٹری جنرل سید شجاعت علی بخاری ، صوبائی صدور و نمائندگان علامہ حسین مقدسی ، علامہ اصغر علی نقوی ، سید غضنفر علی شاہ ایڈوکیٹ ، انجینئر ہادی عسکری ،ساجد حسین کاظمی ، علامہ بشارت حسین امامی ،علی اجود نقوی، پروفیسر غلام عباس حیدری ، محمد علی بنگش، حذیفہ یمانی،ایم ایچ جعفری،سردار ابو ازہران جعفری ، انجینئر علاحیدر، ذوالفقار حیدر جمیل ، سردار عبادت حسین شاہ ، مولانا فرمان شاہ ، ارشاد علی شاہ ،سمیت دیگر اراکین سپریم کونسل نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.