آنسو گیس کی بوچھاڑ اوربدترین تشدد کے باوجود علم عباس ؑ سنبھالے رکھنے والا چل بسا

ولایت نیوز شیئر کریں

آنسو گیس کی بوچھاڑ اوربدترین تشدد سہنے کے باوجود علم عباس ؑ سنبھالے رکھنے والے عباس علی شاہ چل بسے

آقائے موسوی کے نڈر سپا ہی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت ، خدمات کو خراج تحسین

گوجر خان (والعصر نیوز) اسیر فقہ جعفریہ بزرگ عزادار آزادی جمہوریت کے نڈر کارکن تحریک نفاذ فقہ جعفریہ تحصیل گوجرخان کے صدرباواسیدعباس علی شاہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے، مرحوم سیداحتشام عباس، سیدمظاہرعباس شاہ، وقیع حیدر، سیدقلب عباس، سیدمحمدعلی عباس کے والداورسابق صدرمختارایس اوپاکستان سیداسرارنقوی کے ماموں، مختارایس اوپاکستان کے رکن نگران کونسل سیدتاشف نقوی کے نانابزرگوارتھے۔باواسیدعباس علی شاہ مرحوم کی نماز جنازہ ان کی قائم کردہ علی مسجدہ امام بارگاہ جاگیرعلی اکبردولتالہ میں قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے نمائندہ خصوصی علامہ محسن علی ہمدانی کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر ریجن صدر ٹی این ایف جے علامہ ابو الحسن تقی، مختار فورس کے سرپرست سردار عبادت حسین شاہ، بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی پنجاب کے رکن علامہ زاہد عباس کاظمی، سابق وزیر اعظم پرویز اشرف سمیت پنجاب بھر سے عزاداروں، بانیاں مجالس، ذاکرین، علمائے کرام،ماتمی سالاروں، مذہبی،سماجی،سیاسی شخصیات اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔بعدازاں مرحوم کو امام بارگاہ کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔

اپنے تعزیتی پیغا م میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ سیدعباس علی شاہ انتہائی بیباک دلیرشخصیت کے مالک تھے،عزاداری امام عالی مقام انکااوڑھنابچھوناتھا،مرحوم مرکزمکتب تشیّع علی مسجدسے تادم مرگ عملی طورمنسلک رہے(اسی لئے انہوں نے مقامی مسجد کا نام بھی علیؑ مسجدہی رکھا)۔ آقای موسوی نے ان کے درجات کی بلندی اورسوگوارخانوادہ کیلئے صبرجمیل کی دعاکرتے ہوئے دعا کی کہ خداوندعالم عباس علی شاہ کو جوارآئمہ ھدیٰ ؑمیں اعلیٰ مقام اورمرحوم کی اولادکوانکے نقش قدم پرچلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

عباس علی شاہ علاقے کی سیاست میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے تحریک بحالی جمہوریت میں بھی انہوں نے گرانقدر خدمات سر انجام دیں ان کے جنازہ میں تقریر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اعتراف کیا کہ سماجی خدمت کا ہنر انہیں باوا عباس علی شاہ نے سکھایا۔گوجرخان کی سیاست کے اہم فرد ہونے کے باوجود عباس علی شاہ روحانی بزرگ سخی حیدر بہادر مشہدی کے مزار کی جاروب کشی کو اپنے لئے اعزا ز سمجھتے تھے۔

عباس علی شاہ قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی سے دیوانہ وار محبت رکھتے تھے جب قائد ملت جعفریہ نے اکتوبر1984میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرضیا الحق کی جانب سے عزاداری پر پابندی کے خلاف حسینی محاذ ایجی ٹیشن کا آغاز کیا تو عباس علی شاہ ہراول دستے میں نظر آئے۔

حسینی محاذ ایجی ٹیشن کے دوران صفر کے پہلے اتوار کو آئی ٹین اسلام آبادمیں مارشل حکومت کی جانب سے بندکیے گئے جلوس عزا میں باوا عباس علی شاہ نے ناقابل فراموش جوانمردی کا مظاہرہ کیا بدترین پولیس تشددبرداشت کے باوجود باب الحوائج حضرت عباس علمدارؑ کے علم کو سربلندبلند رکھااورماتمی جلوس کو امام بارگاہ قصرامام موسیٰ کاظم ؑ تک پہنچایا مارشل لاء حکومت عزاداری کے جلوس کو روکنے میں ناکام ہوگئی۔

دسمبر 1984 شہیدزندان اشرف علی رضوی آف میلسی کے جنازے کے روز عباس علی شاہ کفن پہن کر گرفتاری پیش کرنے والے رضاکاروں میں شامل تھے یاد رہے کہ اسی روز صفدر علی نقوی شہید نے بھی پولیس تشدد کے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا تھا۔

ولاء و عزا سے لبریز اپنے انمول عقیدے اور مرکز مکتب تشیع علی مسجد سے باوا عباس علی شاہ کی والہانہ محبت ہمیشہ یاد گار رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.