شام پراسرائیلی حملہ ٹرمپ کے ایماء پر کیا گیا؛روسی خاموشی معنی خیز؟ قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کی جانب سے عالمگیر عشرہ صادق آل محمدؐ منانے کا اعلان

ولایت نیوز شیئر کریں

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد موسوی کی جانب سے15تا 25شوال عشرہ صادق آل محمد منانے کا اعلان

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈکے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شا ہ موسوی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کوعالم اسلام کیلئے انتہائی ناساز گار قرار دیتے ہوئے شام پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے کو ابلیس اعظم ٹرمپ کی ایماء پر ہونے والی کاروائی قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ شام پر ہونے والوں حملوں پر روس کو بھی کوئی اشکال نہیں، عالم اسلام کی تنظیمیں عرب لیگ ، او آئی سی کی پالیسیوں نے عالم اسلام کو مزید کمزور کر دیا ہے ،مسلم حکمران ہمیشہ کیطرح آج بھی محض حصول اقتدار اور اُسکے بچاؤ کیلئے کوشاں ہیں مسلمان ممالک چاہے بھاڑ میں جائیں ، ازلی دشمن پاکستان کیخلاف آغاز ہی سے مہم جوئی میں مصروف ہے ، مودی نے بر سر اقتدار آنے کے بعدپاکستان مخالف ہرز ہ سرائی کیلئے کوئی فورم نہیں چھوڑا جسکا مقصد پاکستا ن کو تنہاکرنا اور دہشتگرد ملک قرار دلوانا ہے ، حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے مدینہ منورہ میں حوزہ علمیہ قائم فرمایا جن کی تعلیمات رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہیں۔ ان خیالات کا انہوں نے مختار علی بنگش کی سر کردگی میں 72رکنی عمائدین علاقہ بنگش کوہاٹ ڈویژن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے 15تا 25شوال عشرہ صادق آل محمد منانے کا اعلان بھی کیا۔

آقای موسوی نے باور کرایا کہ پاکستانی خارجہ پالیسی کو عرصہ دارز سے آزمائش کا سامنا ہے ، ملک پر اندرونی بیرونی خطرات منڈلا رہے ہیں ، دہشتگردی و شدت پسندی ہمارے سب سے بڑے چیلنج ہیں،ہم اس قدر پیچھے ہیں کہ چین کے علاوہ ہمارا کوئی دوست نہیں ، ہمارے تعلقات دیگر ممالک کیساتھ د ن بہ دن پستی کیطرف جا رہے ہیں اور ہم اسقدر کمزور ہیں کہ کشن گنگا ڈیم کے بارے میں ورلڈ بینک نے اسلام آباد کو ثالثی بنانے کی تجویز ماننے کی بجائے دہلی کی غیر جانبدار تعیناتی کی تجویز مان لی ۔ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ابھی تک سیاسی بلوغت سے محروم ہیں جن سے وطن اور جمہوریت کے تحفظ کی توقع رکھنا فضول ہے۔ پاکستان کے بعد تشکیل پانے والے چین جیسے ممالک اقتصادی قوت بن چکے ہیں مگر ہمارا پرنالہ وہی پر ہے لہٰذا تمام محب وطن سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط خارجہ پالیسی مرتب کر کے خود کو درست کریں ورنہ مزید مشکلات کیلئے تیار رہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ عالم اسلام کیخلاف استعماری و صیہونی سازشیں شروع سے شد و مد کیساتھ جاری ہیں جن کے تحت نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو فرنٹ لائن پر لا کر پھنسایا گیا ، اسامہ کے نام پر افغانستان کو نشانہ بنایا گیا جو سالہا سال سے مصیبتوں میں گھرا ہو ا ہے ، صدام کے نام پر عراق کو صدمات سے دوچار کیا گیا ،پہلے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اس سے زیادہ معذور بنا دیئے گئے پھر عراق کو کویت میں گھسایا گیا پھر شام کو ٹارگٹ کیا گیا جہاں عالمی شیطانوں کی تخلیق کردہ دہشتگرد تنظیموں نے تباہی مچا کر انبیائے کرام ، آئمہ ہدیٰ اور اولیا ئے کرام کے مزارات کوبھی نہیں بخشا،وہاں ابھی تک خانہ جنگی جاری ہے بعدا زاں شام کو نشانے پر رکھا گیا جہاں 5لاکھ مسلمانوں کا خون بہایا جا چکا ہے اور ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہیں ۔ٹرمپ نے بر سر اقتدار آ کر پہلے دہشتگری کو اسلام سے جوڑا، بعض مسلم ممالک کے باشندوں کے امریکہ داخلے پر پابندی لگائی ، برادر ملک سعودیہ نے اسکی خوب مہمان نوازی کر کے بیش بہا تحائف پیش کیے، اُسی کے ایما ء پر چالیس ملکی عرب امریکہ اتحاد وجود میں لایا گیا اور یمن میں مداخلت کر کے خون کے دریا بہائے گئے جو آج بھی جاری ہے ، عوام قحط سے دوچار ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ، عراق ، ایران ، سعودیہ اور بعض دیگر ممالک میں نئی جنگ کی کیفیت ہے لہٰذا عالم اسلام کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر طاغوت کی کاسہ لیسی کی بجائے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد کیلئے جرات مندانہ ٹھوس حکمت عملی وضع کرنی ہوگی اسی صورت میں باطل کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.