نگران حکومت حدود سے تجاوز کررہی ہے کالعدم رہنماؤں کو کلین چٹ ایکشن پلان و رد الفساد کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہے ،آغا حامد موسوی 

ولایت نیوز شیئر کریں

مکروہ منصوبے کے تحت پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہاہے چیف جسٹس نو ٹس کیوں نہیں لیتے؟ عدلیہ کے بعض فیصلے یک بام دو تاہوا ہیں
گولی گالی کی بات کرنے والے کالعدم رہنماؤں اور کارکنوں کا آزاد پھرنا الیکشن لڑنا اتحاد بناناسوالیہ نشان ہے؟ انسداد دہشت گردی قوانین کو مذاق نہ بنایا جائے
ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے عین فیصلے کے وقت کالعدم جماعتوں کو کلیئر کرنا معنی خیز ہے ، تحقیقات کروائی جائیں
حسینی ؑ ہیں نوک سناں پر بھی کلمہ حق بلند کریں گے، پاک فو ج اور بے گناہ عوام کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے، عشرہ صادق آل محمد ؐکمیٹی سے خطاب

اسلام آباد( ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ وتحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ نگران حکومت اپنی حدود سے تجاوز کررہی ہے کالعدم رہنماؤں کو کلین چٹ دینا ایکشن پلان اور رد الفساد کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہے ، ایک مکروہ منصوبے کے تحت پاکستان کو خانہ جنگ کی طرف دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے چیف جسٹس نو ٹس کیوں نہیں لیتے؟ عدلیہ کے بعض فیصلے یک بام دو تاہوا کے مترادف ہیں عدلیہ التوا میں پڑے لاکھوں کیسز کے فیصلوں کی جانب توجہ دے ،ملک خطرناک مرحلے سے دوچار ہے قومی ادارے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت چھوڑ دیں،، بیرونی ممالک سے مال لے کر دہشت گردی انتہا پسندی تکفیری سوچ پھیلا کر پاکستان کو پراکسی وار کا اکھاڑہ بنانے والی جماعتوں کے محض نام کالعدم ہیں اور گولی گالی کی بات کرنے والے کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کا آزاد پھرنا اتحاوں میں شامل ہونا الیکشن لڑنا سوالیہ نشان ہے ، انسداد دہشت گردی قوانین کو مذاق نہ بنایا جائے نقائص دور کئے جائیں ، اگر پابندی صرف جماعتوں پر ہے تو جماعۃ الدعوۃ کے لوگوں کونئی جماعت بنانے سے کیوں روکا جارہا ہے ؟ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے عین فیصلے کے وقت کالعدم جماعتوں کو کلئیر قراردینا معنی خیز ہے تحقیقات کروائی جائیں دفتر خارجہ سیر سپاٹے کا گڑھ بن چکا ہے جودہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں تسلیم کرانے میں ناکام رہا، حسینیؑ ہیں نوک سناں پر بھی کلمہ حق بلند کریں گے دہشت گردی کے خلاف پاک فو ج اور بے گناہ عوام کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشرہ صادق آل محمد ؐ کمیٹی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی بیس شقوں میں سے کسی پر عمل نہیں کیا گیاکھلم کھلا فوج پر حملے کرنے والے ریسٹ ہاؤسز میں مہمان بنے رہے ، آج بھی کوئٹہ سمیت بعض شہروں میں مسلح ملیشیائیں کام کررہی ہیں ، نیکٹا کو فعال کرنے کے بجائے اس پر فیصلے مسلط کئے جا رہے ہیں ،نفرت انگیز تقریریرں کرنے والے کالعدم جماعتوں کے رہنما کہیں اصلی اور کہیں نئے ناموں سے ٹھونک بجا کر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں سوشل میڈیا ہی نہیں الیکٹرانک میڈیا پر بھی کالعدم جماعتوں کے امن کے درس تواتر سے جاری ہیں ، جو لوگ ریڑھیاں چلاتے ہیں انہیں خانہ پری کیلئے شیڈول فور میں ڈال دیاگیا اور جو کھلم کھلا کافر کافر کے نعرے لگا کر اربوں کھربوں بنا رہے ہیں انہیں پاک صاف قرار دے دیا گیا جو سوالیہ نشان ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ اگر ایکشن پلان کی شقوں پر عمل ہو تا تو پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی گرے لسٹ میں کبھی شامل نہ کیا جاتا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں میں امریکہ جیسے دہشت گردوں کے پالن ہار اور بھارت جیسے دہشت گردی کے چمپئین کا شامل ہو نا عالمی امن کے ساتھ مذاق ہے دہشت گردی عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے جسے وہ کبھی ختم نہیں کرنا چاہتے ۔ خارجہ پالیسی نقائص سے بھرپور ہے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نام نکلوانے میں ناکام خارجہ پالیسی کو تبدیل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کے معیار دوغلے اور منافقانہ ہیں مشرقی تیمور سوڈان سکاٹ لینڈ میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے ہیرو اور کشمیر وفلسطین میں آزادی کے طلبگار نہتے عوام دہشت گرد ہیں ؟ ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ اسے قیام کے فوری بعد استعماری سرغنہ امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا گیااہم ملکی فیصلے حتی کہ حکومتوں کی تبدیلیاں بھی اسی کی مرضی سے ہوتی رہیں ملک کو مارشل لاؤں کا سامنا رہا اور وطن عزیز دولخت ہو گیا امریکہ ہر مشکل کے وقت میں پاکستان کو دھوکہ دیتا رہا نائن الیون کے ڈرامے کے بعد پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر دہشت گردوں کے سامنے ڈال دیا گیا، درجنوں آپریشنز کے بعد آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں کامیا بی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتائج کو دیر پا بنانے کیلئے ایکشن پلان اور ردلفساد شروع کیا گیا لیکن بعض عناصر ان منصوبوں کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی قوت اور سی پیک منصوبہ اندر باہر کے دشمنوں کی نیندیں حرام کئے ہوئے ہے ، خدارا ایسے اقدامات نہ کئے جائیں جن سے دشمن قوتیں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.