نیا نصاب قرآن و سنت سے متصادم ہے منسوخ کیاجائے،ورنہ بڑا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

نیا نصاب قرآن و سنت سے انحراف اور نظریہ اساسی سے متصادم ہے،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کی جانب سے منسوخی کا مطالبہ
مکتب تشیع کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، آئین کی روح اورقوم کا مستقبل بچانے کیلئے بڑا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے
تاریخ میں تحریف‘بریلوی و شیعہ عقائد کی نفی کی گئی،مادررسول ؐ اور اجداد کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش‘آئمہ اہلبیتؑ کو نظر انداز کیا گیا
مسنون درود و سلام میں تبدیلی کی گئی آرٹیکل 227کی دھجیاں بکھیری گئیں، قرآن و سنت میں متعین مقام میں کمی یا تجاوز شریعت کے ساتھ مذاق ہے
نصاب رائج کرنے سے قبل مشتہر کرکے قومی آراء لی جائیں،ایک عقیدہ دوسرے پر مسلط نہ کیا جائے، وطن عزیز کو دوبارہ دلدل میں نہ دھکیلا جائے
نیا دین تخلیق کرنے سے اجتناب کیا جائے، کوئی قانو ن قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا تو نصاب کیسے تشکیل اور تبدیل کیا جاسکتا ہے
حکومت قیام پاکستان کے مخالف گروپوں اور ضیائی مارشل لاء کی باقیات کے ہاتھوں یرغمال نہ بنے،نصاب میں مخصوص عقیدے کی چھاپ نمایاں ہے
کونسلوں کمیٹیوں کوکالعدم جماعتوں اور بیرونی ممالک کے ایجنڈوں پر کام کرنیو الوں سے پاک کیا جائے،نیا نصاب نئے مسائل چھیڑنے کا موجب بنے گا
طبقاتی تعلیم کے مرض کو ختم کرنے کے بجائے تعصبات سے آلودہ نصاب سامنے لاکرمسلمہ مکاتب میں تشویش کی لہر دوڑادی گئی، نئے نصاب پر ردعمل

اسلام آباد( ولایت نیوز)تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے نو تشکیل’یکساں نصاب‘ کو تعلیم قرآن و سنت سے انحراف اور نظریہ اساسی سے متصادم قراردے دیا، ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع سے جاری ہونے والے ردعمل میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بنیاد دوقومی نظریہ اوردین محمدی ؐپر استوار ہے جب ملک میں کوئی قانو ن قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا تو نصاب بھی تشکیل اور تبدیل نہیں کیا جاسکتا آئین کی روح او آئندہ نسلوں کا مستقبل بچانے کیلئے بڑے سے بڑا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیا نصاب حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ملک وقوم کو افتراق کی ایک نئی دلدل میں دھکیلنے کی سازش ہے نصاب کی تیاری میں مکتب تشیع کو سرے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا کالعدم جماعتوں کو نمائندہ تسلیم نہیں کرتے۔

آغا حامد موسوی کا کہنا تھا کہ نظریاتی کونسل علماء بورڈ اور اسلامائزیشن کیلئے قائم دیگر اداروں میں من پسند وں بیرونی ممالک کے تنخواہ داروں اور کالعدم جماعتوں کے ہمدردوں کو شامل کر کے پہلے ہی آئین پاکستان کے آرٹیکل 228 کو پامال کیا جاتا رہا اب آرٹیکل 227 کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مسلمہ مکاتب کے عقائد و نظریات میں مداخلت کی کوشش اور تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ آئین یہ ضمانت دیتا ہے قرآن و سنت کی تعبیر وہی مستند ہوگی جوکسی فرقے کی توضیح کے مطابق ہوگی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے مطالبہ کیا کہ کسی ایک مسلک مکتب کا عقیدہ دوسرے پر ہرگز مسلط نہ کیا جائے نئے نصاب کے تحت شائع ہونے والی کتب کو منسوخ کیا جائے، آئینی اداروں کمیٹیوں کو متعصب اور بیرونی ممالک کے ایجنڈوں پر کام کرنیو الوں سے پاک کیا جائے،نصاب پر اتفاق ہونے کے بعد اسے مشتہر کیا جائے تاکہ صائب الرائے اس میں موجود اغلاط اور کمی بیشی کی نشاندھی کرسکیں نصاب میں ایک مخصوص عقیدے کی چھاپ نمایاں ہے جسے ضیائی مارشل لاء میں پروموٹ کرنے کی کوشش کی گئی جو اکثریتی مسلمہ مکاتب کے عقائد و نظریات کے منافی ہے اور انتشار کاباعث بن سکتا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نصاب تعلیم طلاب کی تربیت میں نمایاں ترین کردار ادا کرتا ہے جسے ملک معاشرے کی تہذیب ثقافت تاریخ اور دینی و دنیاوی علوم سے کشید کرکے ایک بہترین نسل اور قوم کی تیاری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔وطن عزیز میں طبقاتی نظام تعلیم ایک قومی مرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کے خاتمے کیلئے یکساں نصاب تعلیم ہر جماعت کا زبانی کلامی نعرہ رہا نئی حکومت سے پوری قوم کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں لیکن پہلی سے پانچویں جماعت کی نصابی کتب سامنے آتے ہی پوری قوم بالخصوص مسلمہ مکاتب میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ کتب میں تعصبات کی آمیزش اور ایسی بنیادی غلطیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے جو قوم کو مزید مسائل میں الجھانے کے مترادف ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نصاب میں نبی کریم کے والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سلام اللہ علیھا اور اجداد کے مقام کو گھٹانے کی مذموم کوشش کی گئی اور جن ہاتھوں میں ہادی برحق ؐنے پرورش پائی انہیں کمترجبکہ اسلام کو ملوکیت میں جھونک کر منہاج النبوۃ ؐ سے ہٹانے والوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیاہے، مسنون درود و سلام کے طریقہ میں تبدیلی کی گئی، اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کم کرنے اور چھپانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ صحا ح ستہ کی احادیث کے مطابق قرآن و اہلبیت علیھم السلام امت کو گمراہی سے بچانے کی ضمانت ہیں۔ آئمہ اہلبیتؑ کے بارے میں اہلسنت کے امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کا فرمان ہے ”آپ آئمہ اہلبیت کی حرمت اور تعظیم و تکریم میرے اوپر اس طرح واجب ہے جس طرح صحابہ کرام پر تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم واجب تھی“لیکن افسوس امام زین العابدین ؑ سے لیکر امام مہدی ؑ تک آئمہ اہلبیت ؑ کے بارے میں کوئی مضمون کسی نصابی کتاب میں شامل نہیں کیا گیا امام شافعی کے بقول جن پر دورد بھیجے بغیر نماز بھی قبول نہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مشاہیر اسلام کے مقام اور مناقب میں کمی یا تجاوز دین و شریعت کے ساتھ مذاق ہے جس سے ایسا پنڈورا پاکس کھلے گا جسے بند کرنا کسی سے ممکن نہیں ہوگا یہ بھی واضح رہے کہ نماز میں کلام انسان کو شامل کرنا نماز کو باطل کردیتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام حوالے سے ایسا انحراف کیوں کیا گیا؟

قائد ملت جعفریہ نے صاحبان اقتدار کو متوجہ کیا کہ نئے نصاب میں تاریخ میں تحریف کی گئی ہے جس سے قوم میں اضطراب پایا جاتاہے خدارانئی شریعت اور نیا دین تخلیق کرنے کی کوشش سے اجتناب کیا جائے بریلوی اور اہل تشیع پاکستان میں کثرت رکھتے ہیں لیکن ان کے عقیدہ کے خلاف نئے نصاب میں اللہ سے دعا کیلئے وسیلہ کی نفی کی گئی ہے جبکہ قرآن میں ’وابتغو الیہ الوسیلہ‘ کا صریح قرآنی حکم موجود ہے اسی وجہ سے انسانوں میں انبیاء وسیلہ، جمادات میں خانہ کعبہ وسیلہ، کتابوں میں قرآن وسیلہ، اور خود دعا اور نماز بھی وسیلہ ہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ نیا نصاب نئے مسائل چھیڑنے کا موجب اورملکی یکجہتی و استحکام کیلئے تباہ کن ثابت ہوگاحکومت قیام پاکستان کے کھلے مخالف گروپوں اور ضیائی مارشل لاء کی باقیات کے ہاتھوں یرغمال نہ بنے، وطن عزیز کو دوبارہ اس دلدل میں نہ دھکیلا جائے جس سے نکالنے کیلئے عساکر پاکستان اور اور عوام کو پون لاکھ جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں وطن عزیز ہر گز کسی نئی آزمائش اور بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.