خارجی فکر کا حال نہروان سے بھی برا ہوگا امن کو داؤ پر نہیں لگنے دیں گے، زیارت حسین ؑ اصول دین ہے فتووں کی محتاج نہیں،قائد ملت جعفریہ کا اعلی سطحی اجلاس سی خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

ضرب عضب کی کچلی کالعدم تنظیموں میں جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے،امن و یکجہتی کو داؤ پر نہیں لگنے دیں گے،آغا حامد موسوی
قومی پرچم جلانے والے کانگرسی فکر کے ورثہ دار تصورپاکستان پر حملہ آور ہیں قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے پیروکار جاگیں!
پنجاب اسمبلی کا متنازعہ بل صرف ’علیہ السلام‘ نہیں اسلام کا مسئلہ ہے، دوبارہ لانے کی کوشش کی گئی تو ہر آئینی قانونی راستہ اختیار کریں گے
شیعہ سنی لڑائی کے خواہشمندایک بار پھر ناکام ہوں گے، خارجی فکر کا حال نہروان سے بھی برا ہوگا، وطن کی بنیادیں بچانے کیلئے کربلا بسانا جانتے ہیں
زیارت امام حسین ؑ اصول دین میں ہے فتووں کی محتاج نہیں، غریب زائرین کی سہولت کیلئے حکومت پاکستان اور عراق و ایران فوری اقدامات کریں
پوری قوم 5اگست کو کشمیریوں سے ہم آواز ہو کرصدائے احتجاج سے امن عالم کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے دروبام ہلا دے، ہنگامی اعلی سطحی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ ضرب عضب کی کچلی کالعدم تنظیموں میں جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان کی بنیادوں میں ہمارا لہو شامل ہے بیرونی پیسے پر پلنے والوں کی ہر پیشقدمی پر نگاہ رکھے ہیں قومی یکجہتی اور امن کو داؤ پر نہیں لگنے دیں گے، کانگرسی فکر کے ورثہ دارپاکستان کے تصور پر حملہ آور ہیں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پیروکار جاگیں پاکستان کے جھنڈے جلانے والوں کو وطن عزیز کی بنیادیں کبھی نہیں اکھاڑنے دیں گے،پنجاب اسمبلی کا متنازعہ بل صرف ’علیہ السلام‘ نہیں اسلام کا مسئلہ ہے علم منجمدکرنے کی سازش ہے،اگر اسمبلی میں بل دوبارہ لانے کی کوشش کی گئی تو ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے،شیعہ سنی لڑائی کے خواہشمندایک بار پھر ناکام ہوں گے، خارجی فکر کا حال نہروان سے بھی بدترہوگا، زیارت امام حسین ؑ اصول دین میں ہے فتووں کی محتاج نہیں، غریب زائرین کی مشکلات اور خدشات دو ر کرنے کیلئے حکومت پاکستان اور عراق و ایران فوری اقدامات کریں، پوری قوم 5اگست کو کشمیریوں سے ہم آواز ہو کرصدائے احتجاج سے امن عالم کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے دروبام ہلا دے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے اعلی سطحی اجلاس کی پہلی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ تحفظ بنیاد اسلام بل لانے والے 77میں جمہوریت پر شب خون مارنے والے ڈکٹیٹر کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کو مسلکی و گروہی سٹیٹ بنا کر مسلمانوں کا باہم لڑانے کا اہتمام کیا جاسکے،مسلمانوں کو تقسیم کرکے لڑنے مرنے کیلئے تیار کرناپہلی جنگ عظیم کے وقت بنائے گئے ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کے تحت عثمانی سلطنت توڑٰ گئی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی پرورش کرنیو الے حکمرانوں کو مسلم ممالک میں لا بٹھایا گیا اسرائیل کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں گھونپا گیا بیت المقدس صیہونیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک نفاذفقہ جعفریہ کا قیام پاکستان کو گروہی سٹیٹ بنانے کے اعلان کے ردعمل کے طور پر لایا گیا جس کامقصدپاکستان کے دوقومی نظریے کو بچانا تھا، 6جولائی 80کو اسی جدوجہد کی راہ میں ہم نے سیکرٹریٹ پر پاکستان کے پرچم کے ساتھ حضرت عباس ؑکا علم لہرا کے بتایا کہ وطن کی بنیادیں اور نظریہ بچانے کیلئے کربلا بسانا جانتے ہیں، ضیاء الحق نے مذہبی آزادیوں میلادالنبی اور عزاداری پر حملہ کیا تو 8ماہ پرامن حسینی محاذ ایجی ٹیشن کرکے اسے ناکام کیا، پرائیویٹ شریعت بل کے ذریعے چور دروازے سے73کے آئین پر حملہ کیا تو سنی برادران کے ساتھ مل کر اسے ناکام بنایاآئندہ بھی کوئی ایسی سازش کامیاب نہیں ہو نے دیں گے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ فلسطین کی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی برطانوی سامراج کا پیدا کردہ ہے، آرٹیکل 370 اور35Aکے خاتمے کے ذریعے کشمیر ہڑپ کرلینا بھارت کی خام خیالی ہے، کشمیر ہمارا ہے اورکشمیر لے کر رہیں گے، مظلوم کشمیری اقوام متحدہ یا مسلم حکمرانوں سے کوئی امید نہ رکھیں اپنی دلیرانہ جدوجہد جاری رکھیں سارے ظالم کتنا ہی ایکا کئے رکھیں فتح مظلومین کا مقدرہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیر و فلسطین کے مظلوموں سے مسلسل منافقانہ کھیل کھیل رہا ہے مشرقی تیمور کے بعد جنوبی سوڈان کی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں عیسائی برادری کو استصواب رائے کے ذریعے آزادی دلوا دی گئی لیکن کشمیریوں کی تحریک حریت سے اقوام متحدہ 73سال سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ شیعہ سنی متفقہ علیہ حدیث نبوی کی رو سے حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہی نسبت حاصل ہے جو حضرت ہارون ؑ کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی،قرآن گواہ ہے کہ جب موسی علیہ السلام نے جادوگروں پر فتح پائی تو انہوں نے حضرت موسی ؑ کے ساتھ حضرت ہارون ؑ کا کلمہ پڑھامکتب تشیع بھی اسی عقیدے پر عمل پیرا ہے ہم بارہا دہرا چکے ہیں کہ اپنا عقیدہ دوسرے پر مسلط نہیں کرتے لیکن دوسرا عقیدہ بھی اپنے عقائد پرمسلط نہیں ہونے دیں گے شیعہ سنی بھائی چارے کے پرچم کو دہشت گردی کے شعلوں میں بھی سربلند رکھا آئندہ بھی وحدت و اخو ت اور امن و محبت کا پرچم جھکنے نہیں دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.