آغا حامد موسوی کا انتباہ : مقامات مقدسہ کی تاراجی نہ رکوائی تو جینے کا حق بھی چھین لیا جائے گا؛چشم کشا جنت البقیع پیغام

ولایت نیوز شیئر کریں

باسمہ تعالی

قرآن میں ثابت ہے راہ خدا میں مصائب جھیلنے والوں کی نشانیاں اور یادگاریں قائم رکھنا ان کے پیغام کو زندہ رکھنے کی کلید ہے

اگر حضرت ابراہیم اوران کے خانوادہ کے ہر ہر عمل کو اللہ نے شعائر اللہ قرار دے کر اسے باقی رکھنے کا انتظام فرمایا تو تاجدار انبیاء فخر ابراہیمؑ نبی کریم محمد مصطفی ؐ اور ان کے خانوادہ و پاکیزہ صحابہ کے عمل کی یادگار یں بھی یقیناً شعائر اللہ میں شامل ہیں

نجد سے نکلے اس فتنے کی کاروائیوں سے نبی کریم ؐ کی حدیث مبارکہ کے پیچھے چھپی حقیقت بھی دنیا کے سامنے آشکار ہو گئی

تحریک خلافت نہ ہوتی  تو استعماری ایجنٹ روضہ رسولؐ گرانے میں بھی کامیاب ہو جاتے

 

قرآن مجید کے سورہ کہف میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے
اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْہِمْ بُنْیَانًا ط رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلآی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدا
(اصحاب کہف کے بارے میں اطلاع ہونے کے بعد قوم کے لوگ) ان کے بارے میں جھگڑنے لگے ، ان کی رائے یہ ہوئی کہ ( بطور یادگار) یہاں کوئی عمارت بنوا دو ، ان کا پروردگار ان کے حال سے خوب واقف ہے ، جن کی رائے ان کی رائے پر غالب آئی انہوں نے کہا ہم تو یہاں ( غار کے مقام ) کے اوپر ایک مسجد بنائیں گے۔(سورہ کہف آیت 21)

مفسرین کے مطابق جب اصحاب کہف کے صدیوں تک سوئے رہنے اور پھر بیدار ہونے کا واقعہ عوام الناس پر آشکار ہوا تواس مقام پرقیامت یعنی مرنے کے بعد روزحساب کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی ، مخالفین کی کوشش تھی کہ لوگ اصحاب کہف کے سونے اور جاگنے کے مسئلہ کو جلد بھول جائیں لہٰذا انہوں نے تجویز پیش کی کہ غار کا دروازہ بند کردیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں وہ لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہتے تھے کہ ان کے بارے میں زیادہ باتیں نہ کرو ، ان کی داستان پراسرار ہے ، ان کا پروردگار ان کی کیفیت سے آگاہ ہے لہٰذا ان کا قصہ ان تک رہنے دو اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔جبکہ حقیقی مومنین و مسلمین کہ جنہیں اس واقعے کی خبر ہوئی اور جو اسے قیامت کے حقیقی مفہوم کے اثبات کے لئے ایک زندہ دلیل سمجھتے تھے ، ان کی کوشش تھی کہ یہ واقعہ ہرگز فراموش نہ ہونے پائے ، لہٰذا انہوں نے کہا : ہم ان کے مدفن کے اوپر مسجد بناتے ہیں تاکہ لوگ انہیں اپنے دلوں سے ہرگز فراموش نہ کریں ۔اصحاب کہف کی یادگار اللہ کی وحدانیت اوراس کی طاقت و قدرت کی یادگار بن جائے ۔

بزرگ عالم اہلسنت امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر کبیرمیں اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں؛ اوراس مسجد کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی برکت سے اصحابِ کہف کے آثار(رہتی دنیا تک) باقی رہیں گے۔علامہ شہاب خفاجی بھی تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں :’’اس آیتِ کریمہ نے صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنے کی واضح دلیل فراہم کردی‘‘۔
غرضیکہ شیعہ سنی مفسرین کی اکثریت نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایک یادگار کی تعمیر کے ساتھ اصحاب کہف کا ایمان افروز واقعہ لازوال ہو جائے گا۔ثابت ہوا کہ اللہ کی برگزیدہ ہستیوں اور راہ خدا میں مصائب جھیلنے والوں کی نشانیاں اور یادگاریں قائم رکھنا ان کے پیغام کو زندہ رکھنے کی کلید ہے ۔
خانہ کعبہ کا وجود حضرت آدم و نوح و ابراہیم ؑ کی داستان کو تابندگی بخشتا ہے تو صفاو مروہ اور زمزم کی یادگاروں نے حضرت ہاجرہ و اسماعیل کی یاد کو لافانی کردیا حتی کہ حضرت ابراہیم کے شیطان کو کنکریاں مارنے کی یادگار بھی قائم رکھی گئی تاکہ انسانیت کیلئے ایک درس رہے۔ان یادگاروں کو اللہ نے قرآن میں شعائر اللہ قرار دیتے ہوئے ان کی تعظیم واجب کردی ۔
وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ عمل قلوب کے تقوی کی نشانی ہے (سورہ حج آیت 33)
صرف اللہ نہیں اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کو بھی قلوب کا تقوی قرار دیا گیاہے تقوی کو زرہ بھی کہا گیا یعنی جس نے اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی زرہ پہن لی اس کے او پر شیطنت اور شرک و الحاد کے حملے اثر نہیں کر سکتے ۔ اللہ کی نشانیاں اللہ کے برگزیدہ بندوں سے منسوب تمام مقامات اور یادگاروں کو قراردیا گیاہے اگر حضرت ابراہیم کے بیٹے اسمعیل کی یادگار شعائر اللہ ہے تو حضرت محمد مصطفیؐ کی اولاد کی یادگاریں کیوں شعائر اللہ نہیں ۔

قرآن میں صرف انبیاء یا ان کے با ایمان خانوادہ کی قربانیوں جدوجہد سے منسلک یادگاروں کو ہی شعائر اللہ نہیں قرار دیا بلکہ قیامت تک ان کی شبیہوں کو بھی شعائر اللہ قرار دیدیا۔

وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْر

اور ہم نے قربانیوں کے اونٹ کو بھی اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے(سورہ حج 36)
یہاں اسمعیل کی جگہ قربان ہونے والا مینڈھا یا دنبہ ہی شعائر اللہ نہیں اس کی شبیہہ بن کر قیامت تک آنے والے قربانی کے جانور شعائر اللہ بن کر تعظیم کے قابل قرار پائے ۔ہم اسی سبب جہاں حضرت اسمعیل کی قربانی کے جانور کی شبیہہ کی تعظیم کرتے ہیں اسی طرح فخر اسمعیل نواسہ رسول امام حسین ؑ کے اسپ باوفا ذوالجناح کی تعظیم کو بھی واجب سمجھتے ہیں جس پر قرآن نے مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔اہلسنت عالم دین علامہ امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ شعیرہ ( یعنی اللہ کی نشانی بن کر واجب تعظیم )ہونے کا درجہ ہر اونٹ اور اونٹنی کو حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف قربانی کیلئے مختص اونٹوں کو حاصل ہوتا ہے۔‘‘(بعینہ ہمارے نزدیک بھی وہی جانور قابل تعظیم ہوتا ہے جو امام حسین ؑ کیلئے مختص کردیا جاتاہے وہی کپڑا بوسے کے قابل ہو جاتا ہے جو علم حضرت عباس کی زینت بن جاتا ہے ۔)

جب خلیل خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو راہ خدا میں قربان کرنے کیلئے لے کر مِنیٰ میں پہنچے تو تین مقامات پر شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے اور بیٹے کی قربانی سے روک کر اللہ کی نافرمانی پر اْکسانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان تینوں مقامات پر شیطان کو چھوٹی چھوٹی سات سات کنکریاں مار کر دفع کرنے کا اقدام کیا تھا۔شیطان کو تین مقامات پر سات سات کنکریاں مارنے کا عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ یہ عمل مناسک حج کی ادائیگی کا حصہ بنا دیا گیا، آج ہر حاجی پر سنت ابراہیمی کے مطابق شیطان کو کنکریاں مارنا واجب ہے اور شعائر اللہ میں شامل ہے۔ یہ علامتی عمل ہر مسلمان کیلئے راہ ابراہیمی پر چلنے اور شیطانی ہتھکنڈوں سے نجات کا درس ہے۔

اگر حضرت ابراہیم اوران کے خانوادہ کے ہر ہر عمل کو اللہ نے شعائر اللہ قرار دے کر اسے باقی رکھنے کا انتظام فرمایا تو تاجدار انبیاء فخر ابراہیمؑ نبی کریم محمد مصطفی ؐ اور ان کے خانوادہ و پاکیزہ صحابہ کے عمل کی یادگار یں بھی یقیناً شعائر اللہ میں شامل ہیں اسی سبب مسلمانان عالم صدیوں سے نبی کریم ؐ کی نشانیوں کی تعظیم بجا لاتے رہے ہیں جو اسوہ رسول ؐ سے منسلک تھیں ۔اگر نبی ؐ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ کے دروازے پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں سلام کی صدا بلند کرتے تو اس بیٹی کی یادگار پر سلام کرنا عاشقان رسالت ؐ نے اپنا فریضہ گردانا اگر نبی کریم ؐاپنی ماں کی قبر پر پھوٹ پھوٹ کر روئے تونبی کے امتیوں نے بھی خانوادہ رسالت ؐ وپاکیزہ صحابہؓ کے مصائب پر گریہ و ماتم باعث نجات سمجھا۔

تمام محققین اس امر پر بھی متفق ہیں کہ حضرت عیسی ٰ و دیگر انبیاٗ کے پیغامات اور صحائف میں تحریف کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ ان کی زندگی سے منسلک آثار کو باقی نہ رکھا جا سکا۔حضرت عیسی ٰ کے مصلوب ہونے کی یادگار باقی نہیں اسی سبب ان کے مصلوب ہونے کے متعلق درجنوں مختلف روایات وجود میں آگئیں جبکہ کفر کی سرتوڑ کوششوں کے باوجوداسلام اور قرآن کے آفاقی پیغام میں تحریف نہ ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ اسلام کی نشانیاں خانہ کعبہ مسجد نبوی غار حرا بدر میں فرشتوں کا اترنا ، خیبرخندق کی فتوحات کے مقامات اور صحابہ و اہلبیت کے سادہ طرز زندگی کی یادگاریں زندہ و جاوید تھیں ۔

اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے اٹھارویں صدی کے آغاز میں برطانوی سامراج نے اپنے وقت کی عظیم مسلمان عثمانی و ایرانی سلطنتوں کو گرانے اور مسلمانوں کو بے روح کرنے کیلئے جو منصوبہ بنایا اس کا اول جزو اسلام کی نشانیوں مزارات مقدسہ اور مشاہیر اسلام سے منسوب یادگاروں کو صفحہ ہستی سے مٹادینا قرار دیا گیا۔ ہمفرے جیسے برطانوی جاسوسوں کی کوششوں سے اسلامی عقائد ونظریات میں انتہا پسندی و دہشت گردی کی ملاوٹ کرکے نجد کی سرزمین سے سامری کے بچھڑے کی مانند جس نئے نظریے میں روح پھونکی گئی اس کا اولین ہدف خانہ کعبہ مسجد نبوی سمیت عالم اسلام کی تمام یادگاروں کو گرانا قرار پایا۔یہی وجہ ہے کہ جب جب برطانوی سامراج کی سازش سے تشکیل دیئے گئے نئے ( مزارات کو گرا دیئے جانے کے)عقیدے پر چلنے والوں کو حکومت ملی انہوں نے سب سے پہلا کام مزارات مقدسہ کو گرانے کا کیا۔18ویں صدی عیسوی میں حجاز پر قبضہ کرتے ہی آل سعوداور محمد بن عبد الوہاب کے پیروکاروں نے مکہ و مدینہ کے تمام مزارات اور کربلا میں روضہ امام حسین ؑ کو گرادیا اور خوب لوٹ مار کی ۔بعد ازاں عثمانی سلطنت نے ان مقدس مقامات کو ان لٹیروں سے پاک کیا اور ان مزارات کی دوبارہ تعمیر کروائی اور ان مقامات کی حفاظت کیلئے قلعے بھی تعمیر کروائے ۔(اسلامی یادگاروں سے بیر رکھنے والوں کے بغض کی انتہا ہے کہ انہوں نے ترک حکومت کی جانب سے مکہ معظمہ کے مقامات مقدسہ کو نجدی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے 1780ء میں جو’ الاجیاد‘ قلعہ تعمیر کروایا تھا2002 ء میں اسے بھی گرادیا تاکہ مقامات مقدسہ تو درکنار ان کے تحفظ کے نظریہ اور سوچ کو بھی مٹادیا جائے )

پہلی جنگ عظیم میں بعد برطانوی سامراج کو امریکی سامراج کی بھی مدد حاصل ہو چکی تھی ان بڑی قوتوں نے باہمی اشتراک سے جہاں لارنس آف عریبیہ جیسے جاسوسوں اور ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کی طاقت کو پارہ پارہ کیاوہاں بالفور معاہدے کے تحت فلسطین قبلہ اول پر اسلام کی نشانیاں مٹانے کیلئے یہود کو مسلط کردیا تو سرزمین حجاز پر اسلام کی نشانیاں مٹانے کیلئے آل سعود کو مسلط کردیا گیا۔صیہونی یہود نے عالمی برادری کے خوف سے مسجد اقصی کی بے حرمتی کرنے میں 50سال (1967)کا عرصہ لگایا لیکن اسلام کا لبادہ اوڑھے ایجنٹوں کی دیدہ دلیری کی انتہا دیکھئے کہ انہوں نے اقتدار حاصل ہوتے ہی 8شوال 1344ھ(21اپریل 1926 ) کو جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ کرام امہات المومنین اہلبیت اطہار اور سب سے بڑھ کر رسول کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کے مزار کو مسمار کر ڈالا۔

جس قوم کی نگاہ میں بنت نبی ؐ کی حیا نہ ہو اس قوم کا نوشتہ تقدیر ہے زوال (شورش کاشمیری)

نجدی علماء نے توروضہ رسول ؐگنبد خضری کو بھی گرانے کا فتوی صادر کردیا تھا لیکن برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں چلائی جانے والی زبردست تحریک خلافت کے سبب جب برطانوی سامراج کو ہندوستان میں اپنا اقتدارخطرے میں نظر آیا تو برطانوی حکومت نے اپنے ایجنٹوں کو اس ناپاک منصوبے پر عمل سے روک دیا۔

نجد سے نکلے اس فتنے کی کاروائیوں سے نبی کریم ؐ کی حدیث مبارکہ کے پیچھے چھپی حقیقت بھی دنیا کے سامنے آشکار ہو گئی جیسا کہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی : خدایا ! ہمیں ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور خدایا ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد کے بارے میں بھی (دعا فرمائیے تاکہ ہمیں اس علاقہ کی طرف سے بھی برکت حاصل ہو) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی دعا فرمائی : خدایا! ہمیں ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور خدایا ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (دوبارہ) عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمارے نجد کے بارے میں بھی (یہی دعا فرمائیے) راوی کہتے ہیں کہ تیسری بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر اُنہی الفاظ میں دعا کی اور نجد کے بارے میں) فرمایا وہاں زلزلے ہوں گے فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا۔ ” (کتاب الفتن صحیح بخاری، مشکوۃ شریف)
آج اُنہی فتنہ گر قوتوں کے باعث وہ ملک شام جس کیلئے نبی کریم ؐنے برکت کی دعا فرمائی تھی دنیا بھر کے دہشت گردوں کی سفاکیت سے اجڑ چکا ہے وہ یمن جہاں سے نبی کریم ؐکو ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں جس کیلئے حضور دعا فرمایا کرتے تھے آ ج وہاں معصوم بچے ایک طرف بارود کی بارش اور دوسری جانب بھوک اور پیاس سے بلک بلک کر مررہے ہیں ۔اور صرف یہی نہیں شیطان کا یہ سینگ اس قدر نمایاں ہو چکا ہے کہ آج نجد کے حکمرانوں کے اولین مرکز الدرعیہ (جہاں سے ابن وہاب کا نظریہ دنیا میں پھیلا)کے مکانات و محلات کو اقوام متحدہ سے عالمی اثاثہ قرار دلوا کرعالمی ادارے کو ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جبکہ پوری انسانیت کاحقیقی اثاثہ سرزمین حجاز کے آثار جو بنی نوع انسان کا مشترکہ ورثہ ہیں اسلام کا پہلا مرکز دنیا کے بتکدوں میں اللہ کا پہلا گھراور اس سے منسلک تعمیرات جہاں سے تحفظ و حرمت انسانیت کا نظریہ دنیا میں پھیلا انہیں تیزی سے مٹایا جا رہا ہے ۔صرف مکہ و مدینہ کے مزارات ہی نہیں نبی کریم کی جائے پیدائش کو شاہی خاندان کی گزرگاہ کیلئے مسمار کردیا گیا ، حضرت ابو بکرؓ کے گھر کے نشانات مٹا کر ہوٹل بنا دیا گیا، ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا گھر جہاں پہلی وحی کی تصدیق ہوئی گرا کر عوامی بیت الخلا تعمیر کردیئے گئے ۔لیکن افسوس اپنی ماں کی اتنی بڑی توہین پر عالم اسلام کے لب سلے رہے ۔

قبر کی زیارت کو شرک قرار دینے اور مزارات کے ساتھ مسا جد و مزارات یا عبادتگاہ بنانے کو حرام قرار دینے کے اس نظریے کی بنیادیں اس وقت پامال ہو جاتی ہیں جب انہیں اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے۔
سوال یہ ہے کہ اصحاب کہف کی یادگار پر مسجد بنانے کا ذکر قرآن میں ہواتو اس کی مذمت کیوں نہ کی گئی یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بزرگان دین کی قبور کے احترام میں مسجد اور عبادت خانہ بنانا اچھا اور پسندیدہ کام ہے ۔کسی آیت یا حدیث میں اس کی تکذیب یا رد نظر نہیں آتی لہذا یہ عمل باعث تقلیدہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے بعض روایات میں 28اور بعض میں 70انبیاء کی قبریں مسجد الحرام میں ہیں، اس کے باوجود یہ مسجد نماز پڑھنے کی روئے زمین میں سب سے افضل جگہ ہے۔کیا قبر رسولؐ اسلام کی دوسری بڑی مسجد نبوی کا حصہ نہیں؟ ۸۸ھ میں متفقہ طورپر حجرہ رسول جہاں قبر نبی ؐتھی کو مسجد نبوی میں شامل کرلیا تھا۔یہ کام حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے مدینہ کی گورنری کے دور میں انجام پایا۔قبور کی زیارت پر فتوے صادر کرنے والے فرمان رسالتمآبؐ کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓروایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے حج کیااور پھر میرے وصال کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی( مشکوۃ شریف ، شعب الایمان )سوال یہ ہے کہ کیا صحاح ستہ میں موجودبیسیو ں احادیث میں نبی کریم ؐ کا اپنی پیاری ماں(حضرت آمنہؑ ) کی قبر کی زیارت اس پر پھوٹ پھوٹ کر رونا اور دوسروں کو رلا دیناثابت نہیں ۔گویا برگزیدہ ہستیوں کی قبر کی زیارت اور انہیں یاد کرکے گریہ کرنا نبیؐ کی سنت ہے ۔

مختصر یہ کہ بزرگان دین کے مزارات ، انکے ساتھ مساجد کا قیام ، بزرگان دین کے مزارات کی زیارت ، مشاہر اسلام کے ساتھ وابستہ شعائر نشانیوں کی تعظیم و احترام قرآن ، حدیث سے ثابت ہے یہ بھی واضح ہے کہ اس قسم کی عمارات ہرگز توحید کی نفی نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے وجود سے اس بات کی ذرہ بھر نفی ہوتی ہے کہ عبادت فقط اللہ کے لیے مخصوص ہے تعظیم اور عبادت میں فرق ہے اللہ نے آدم کی تعظیم کی خاطر ان کے سجد ہ کا حکم دیاذات وحدانیت خود کیسے شرک کا حکم دے سکتی تھی توحید کے بدترین دشمن ابلیس نے بھی آدم کے سجدے سے انکار کی وجہ شرک نہیں اپنے تکبر کو بنایا جب آدم کو سجدہ کرنا تعظیم ٹھہرا شرک نہیں بنا تو بزرگان دین کے مقابر ان کی زندگی سے متعلق آثار شعائر اللہ کی تعظیم احترام وزیارت شرک کیسے ہو سکتی ہے ۔

ان نشانیوں کا احترام صرف جائز ہی نہیں بلکہ تقوی قلوب کی علامت ہے اور وہ اللہ کے نزیک زیادہ صاحب اکرام ہے جوزیادہ متقی ہے گویا جس نے اللہ کی نشانیوں کی زیادہ تکریم کی وہ اللہ کے نزدیک زیادہ تکریم کا مستحق ٹھہرا۔اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرنے والے اہل تقوی کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا
ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا تھا۔ اور ظالموں کو اس(جہنم کی آگ ) میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔(سورہ مریم 72)

وہ خاندان اور حکومت جس نے نبی کریم ؐکے اجدادکے مزارات کو زمیں بوس کردیا پوری دنیا میں مزارات مقدسہ کو گرانے کی تحریک کی آبیاری کی وہ یو نیسکو کی مدد سے آل سعود کے اجدادکی یادگاریں تعمیر کررہا ہے ۔وہ خانوادہ جس نے شرک و الحاد کے الزامات لگا کر مسلمانوں کو روضہ رسولؐ کی جالی چومنے اور مزارات اہلبیتؑ و صحابہؓ کی زیارت پر پابندیاں لگائیں آج وہ امریکی حکمرانوں کو بوسے دینے کو باعث افتخار قرار دے رہے ہیں۔جنہوں نے شہدائے بدر و احد کی یادگاریں مٹا ڈالیں غار حرا کی زیارت پر پابندی لگادی وہ حجاز مقدس میں کیسینو نائٹ کلب اور فحاشی و عریانی سے لتھڑے ساحلی مقامات پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت گناہ دے رہے ہیں ۔جن کے نزدیک بزرگان دین کے مزارات پرعقیدت کے چڑھاوے حرام تھے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک ارب ڈالر کے چڑھاوے چڑھا دیئے ۔اور علی الاعلان یہ بھی تسلیم کررہے ہیں کہ سامراجی قوتوں کے کہنے پر ہی انہوں نے دنیا بھر میں انتہا پسندی عام کرنے کیلئے ڈالرز و ریالوں کے دریا بہائے ۔

انہدام جنت البقیع مسلمانوں کی غیرت و حمیت جانچنے کیلئے ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں کامیاب ہو کر صیہونی و شیطانی قوتوں نے مسجد اقصی کو آگ لگائی گئی ، مسلمانوں سے سرزمین مقدس فلسطین چھین لی گئی اور اب بیت المقدس کو صیہونی دارالحکومت بنادیا گیا ، آئمہ اہلبیت کے مزارات کو مسمار کیا گیا، نبی کی نواسی کے مزار پر راکٹ برسائے گئے ، انبیاء کی قبریں تاراج کردی گئیں ، پاکیزہ صحابہ کبارؓ کی قبریں اکھاڑ ڈالی گئیں ۔لیکن مسلمان خواب خرگوش میں ہی پڑے رہے ۔ بقول علامہ اقبال

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

8شوال کا سیاہ دن جہاں امہات المومنین صحابہ کبار اہلبیت اطہار کے مزارات کے دلسوز واقعہ کی یاد دلاتا ہے وہاں عالم اسلام کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ اسلام کی عظمت کی نشانیوں کی پامالی کو روکیں اور جو مسمار کر دئیے گئے ہیں ان کی عظمت رفتہ بحال کرائیں ۔قرآن و حدیث ،تاریخی حقائق اور اسلام میں فتنہ کھڑے کرنے والوں کے حالات زندگی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ مزارات مقدسہ گرائے جانے کی تحریک کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں تھابلکہ دراصل یہ اسلامی قوت کو تار تار کرنے کا مکروہ منصوبہ تھا جو کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے ۔

جنت البقیع اور جنت المعلے سمیت اسلامی آثار کا انہدام پیغام تو حید کے خلاف ابلیسی سازشوں ، مسلمانوں میں تفریق، عالمی طاقتوں کے مکروہ کردار ، امن عالم کیلئے قائم ا داروں کی منافقت اور دنیا میں تشدداور انتہا پسندی کے فروغ کی ایک مکمل داستان ہے جو تو حید کے پیروکاروں کو جھنجھوڑ رہی ہے۔۔اغیار کی سازشیں بے نقاب ہو جانے کے باوجود اگر اہل ایمان نے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ کیا اور مقامات مقدسہ کی تاراجی رکوانے اور ان کی بحالی کیلئے اقدام نہ اٹھائے تو بیت المقدس یا کشمیر کی بازیابی تو دور کی بات ہے روئے زمین پر ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جائے گا!!!!!
8شوال کے موقع پر ایک بار پھر ہم اپنے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب تک ہمارے دم میں دم ہے اسلام کی نشانیوں کی حرمت کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ظلم منافقت حیوانیت و درندگی سے لبریز سیاہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوجائے ہر گزرتا لمحہ اس سحر کو قریب کررہا ہے جب مظلومین کو اس کرہ ارض کا وارث بنادیا جائے گا اسلام کے محسنوں کے مزارات پر ایک بار پھر بہار لہلہائے گی ، جنت البقیع جنت المعلی اور مقامات مقدسہ کی تعمیر اور بحالی کیلئے بلند ہونے والی آوازیں ضرور انعام و اکرام کی مستحق قرار پائیں گی یہ وعدہ خداوندی ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا۔

قد جاء الحق و ذھق الباطل ان الباطل کان ذھوقا

والسلام
خاکپائے سوگوارانِ انہدام جنت البقیع و جنت المعلیٰ
آغا سید حامد علی شاہ موسوی

دنیا بھر میں یوم انہدام جنت البقیع کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں

واشنگٹن: بقیع ریلی میں آسمان بھی روتا رہا؛قبر زہراؑ کی بحالی کیلئے تاریخی مارچ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.