شجررسولؐ کا انہدام :ایک طرف مندر بنوانا اور دوسری طرف شرک کے نام پر اسلامی آثار گرانا دوغلی پالیسی ہے ؛بھارت اسرائیل کی طرح استکبار ی ایجنٹ ہے،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

حرمین شریفین کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی آثار کو شرک قرار دینے والی فکر سے ہے اگر سلسلہ نہ رکا تو ااگلا نشانہ روضہ رسول ؐ بیت اللہ حجر اسودہوں گے
خاتون جنت ؑ کے خطبات عالم اسلام کی یکجہتی کی کلید ہیں حضرت فاطمہ زہراؑ کے وجود نے بیٹیوں کو افتخار بخشا، عزائے فاطمیہؑ کی مجلس سے خطاب 

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں نبی کریم ؐور صحابہ کرامؓ سے منسوب شجرۃ الرسولؐ کو گرا ئے جانے پر مسلم ممالک، حکمرانوں، اداروں اور میڈیا کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ،حرمین شریفین کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی آثار کو شرک قرار دینے والی فکر سے ہے اگر سلسلہ نہ رکا تو ااگلا نشانہ روضہ رسول ؐ بیت اللہ حجر اسودہوں گے،ایک طرف مندر بنوانا اور دوسری طرف شرک کے نام پر اسلامی آثار گرانا دوغلی پالیسی ہے ،مسلمانوں کو مشرک اور کافر قرار دینے کی اصطلاح اور مقدس مقامات گرانے کی سازش برطانوی ایجنٹ لارنس آف عریبیہ نے ایجاد کی آج بھی عالم سلام اس سے نجات نہیں پا سکا، ،بدھا کے مجسموں کیلئے چیخ پکار کرنیو الے یو نیسکو اور عالمی ادارے مسلمانوں کے اثاثوں کی جانب بھی توجہ دیں ،انڈیا کو چا بہار بندرگاہ لیز پر دینا پاکستان و چین کی نگرانی کیلئے مورچہ فراہم کرنا ہے بھارت اسرائیل کی طرح استکبار کا ایجنٹ ہے ایرانی حکومت غلط فہمی کا شکار نہ ہو، خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ کے خطبات عالم اسلام کی یکجہتی اور استحکام کی کلید ہیں ، زندہ در گور ہو جانے والی بیٹیوں کو حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے وجود سے افتخار حاصل ہو ا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشرہ عزائے فاطمیہ ؑ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اگر شجرۃ الرسول ؐ شرک کی نشانی تھی تو اسے حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ سمیت خلفائے راشدینؓ نے کیوں نہیں گرایااور امام ابو حنیفہؒ امام احمد بن حنبلؒ امام مالکؒ یا امام شافعیؒ نے گرانے کا فتوی کیوں نہ دیامقامات مقدسہ پر شرک کی مہر پہلی جنگ عظیم کے بعد لگائی گئی ۔ مسلمانوں کے مسائل کی بنیادی وجہ مشاہیر اسلام اور شعائر اللہ کی مسلسل توہین ہے جس کے سبب مغربی ممالک میں بھی اسلام کی پاکیزہ ہستیوں کے خلاف شاتمانہ اقدامات کا حوصلہ پیدا ہو گیا ہے ، اگر مسلمان خود ایسی توہین کا ارتکاب کرتے رہے تو خاکے بنانے والوں کو کون روکے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام آغاز ہی سے دنیائے شیطنت کا ٹارگٹ ہے افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم حکمرانوں کو ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ، ایک عالمی شیطانی سازش کے تحت خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیااور حجاز میں ایسے لوگوں کو لایا گیا جنہوں نے سب سے پہلے اسلامی آثار شعائر اللہ کو ٹارگٹ کیا جنت البقیع اور جنت المعلی میں جہاں رسول ؐ کے اجداد امہات المومنینؓ صحابہ کبارؓ اہل بیت اطہار ؑ کے مدافن تھے انہیں زمیں بوس کردیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔مزارات گرانے والوں کی فکر نے ہی دہشت گردی کو جنم دیاجس سے مسلم ممالک لہو لہان ہو چکے ہیں اور انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں رہی ، اور عراق شام سمیت دنیا بھر میں انبیاء و اولیاء کی قبور کو نشانہ بنایا گیا چند روز پہلے شرک کے خاتمے کے نام پر شجرۃ الرسول ؐجس کی نسبت رسول خدا سے تھی کو مٹاد یا گیا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ بھارت سمیت تمام شیطانی قوتیں پاکستان کے پیچھے پڑی ہیں کنٹرول لائن پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے مقبوضہ کشمیر ہو یا غزہ ایک جیسے مناظر پیش کرر ہے ہیں لیکن مظلوم کشمیریوں پر مظالم سے کسی مسلم حکمران کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت دن بدن افغانستان میں اثرو رسوخ بڑحا رہا ہے اور یہ عمل دخل امریکہ کا مرہون منت ہے چابہار بندرگاہ معاہدے کا مقصد افغانستا ن تک تجارتی رسائی نہیں بلکہ پاکستان تک دہشت گردانہ رسائی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سفارتی محاذ پر چیلنجز اور بیرون ملک افواج بھیجنے جیسے معاملات پارلیمان میں پیش کرے اور تمام جماعتیں ملک و قوم کو درپیش چییلنجز کے حوالے سے مشترکہ مضبوط و مستحکم پالیسی اپنائی جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.