قصہ خوانی بازار میں نبی کریم ؐ کی پیاری بیٹی کے مزار پر بلڈوزر چلنے کے دردناک قصے کی گونج ؛ غیر مسلم بھی اشکبار

ولایت نیوز شیئر کریں

پشاور(ولایت نیوز)قصہ خوانی بازار غیر منقسم ہندوستان کے زمانے سے ادبی اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں پہلے پہل دور دراز سے آئے تاجر یہاں کے مہمان خانوں میں قیام کرتے اور اپنے اپنے ملکوں کے حالات قصہ کی شکل میں بیان کرتے تھے۔

قصہ خوانی بازار کے قصہ گو بہت مشہور تھے اور یہ دنیا بھر سے آئے تاجروں، مسافروں اور فوجیوں سے سنے قصوں کو نہایت خوبی سے بیان کیا کرتے تھے۔ ایک وقت میں اس بازار کو غیر تحریر شدہ تاریخ کا مرکز کہا جاتا تھا۔ خیبر پختونخوا کے گزئٹیر کے سیاح لوئل تھامس اور پشاور کے برطانوی کمشنر ہربرٹ ایڈورڈز نے اپنی تصانیف میں اس بازار کو وسط ایشیا کا پکاڈلی قرار دیا ہے۔

اسی تاریخی قصہ خوانی بازار میں جب 8 شوال بمطابق 10 مئی 2022 ء کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے کارکنوں نے نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزار پر بلڈوزر چلنے کا قصہ اپنے ماتمی احتجاج کی صورت چھیڑا تو صرف شرکائے احتجاج ہی نہیں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں ، اہلسنت کے ساتھ ساتھ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی آنکھوں سے بھی اشکوں کی لڑیاں رواں نظر آئیں ۔

معروف نوحہ خواں سبز علی شہزاد جب یہ صدا بلند کرتے کہ ‘اندھیرا ہی اندھیرا ہے بقیعہ میں ۔۔۔۔۔ خوف کا ہر جانب ڈیرا ہے بقیعہ میں ‘ تو آنکھوں سے رواں چشموں میں اور تیزی پیدا ہو جاتی۔

ہر غیرت مند مسلمان اور درد انسان سوال کناں نظر آیا کہ وہ کیسے انسان تھے جنہوں نے اپنے نبیؐ کی بیٹیؑ، جنت کی مالک اولاد ، امہات المومنین رض اور ہزاروں صحابہ کرام رض کی قبروں کو تاراج کر ڈالاَ؟؟؟؟

تفصیلات کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی سرکار کی کال پر لبیک کہتے ہوئے یوم انہدام جنت البقیع کی ماتمی ریلی کا آغاز امام بارگاہ ماسٹر غلام حیدر خان محلہ رسی وٹاں سے ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں مومنین و ماتمی سنگتوں اور اہل سنت براردران نے بھی شرکت کی ۔اس موقع پر صوبائی صدر TNFJ کےپی سید غضنفر علی شاہ ، صوبائی ناظم الامور آغا عباس علی کیانی ، علامہ سید موسی رضا الحسینی و دیگر صوبائی و ضلعی عہدے داران و مقامی ذاکرین و علماء نے ماتمی احتجاجی جلوس کی قیادت کی۔

ماتمی احتجاجی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے قصہ خوانی بازار پہنچا جہاں ذاکر اہل بیت علامہ قبلہ جوہر عباس میر نے یوم انہدام جنت البقیع کے حوالے سے خطاب کیا ۔

اس موقع پر علامہ سید موسیٰ رضا الحسینی نے بھی پشتو زبان میں اس دن کے حوالے سے گفتگو کی اور حکومت وقت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ جنت البقیع کی تعمیر ہوسکے ۔

انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ جب تک جنت البقیع کی تعمیر نہیں کی جائے گی ، مسلمانان عالم آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور شیعان حیدر کرار ع اسی طرح مزارات مقدسہ کی تعمیر کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے ،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس پراشوب دور میں اس اہم مسئلہ پر اگر کوئی کھڑا ہے تو وہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی سرکار کی ذات بابرکت ہے ۔

ماتمی احتجاجی جلوس میں ہر طرف ایک ہی صدا تھی کہ تعمیر کرو تعمیر کرو جنت البقیع تعمیر کرو۔

کم سن بچے احتجاج میں سب سے آگے

بعد ازاں جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا ، ماتمداری کرتا ہوا امام بارگاہ ہذا میں اختتام پذیر ہوا ۔

جلوس میں مختار ایس او کی جانب سے سبیل امام ع کا بھی اہتمام کیا گیا اور سیکیورٹی کے فرائض مختار فورس نے انجام دئیے۔

جلوس کے بعد نیاز امام حسین ع کا بھی اہتمام کیا گیا۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پشاور اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی سرکار کے ہر حکم پر لبیک کہیں گے اور مشن ولا و عزا کی خاطر کسی قربانی سے کوئی دریغ نہیں کریں گے

7 شوال کو بھی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پشاور امام بارگاہ ماسٹر غلام حیدر خان محلہ رسی وٹاں میں مجلس عزا و ماتمداری کا انعقاد کیاگیا جس میں پشاور شہر کی ماتمی سنگتوں جن میں زوار ماتمی سنگت حاجی میر کفایت حسین ، ماتمی سنگت انجمن محمدیہ ،ماتمی دستہ والئ خراسان ، ماتمی سنگت سفیران اہل بیت ع ، ماتمی دستہ سید الشہداء و دیگر مومنین کرام نے مخدومہ کونین سلام اللہ علیہا کے حضور پرسہ پیش کیا ۔ مجلس سے قبلہ جوہر عباس میر صاحب نے خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.