بعثت نبویؐ : حضرت ابو طالب ؑ کا قصیدہ اور دعوت ذوی العشیرہ

ولایت نیوز شیئر کریں

رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر عبادت کے لیے کوہ حراء میں جایا کرتے تھے اور ہر سال ایک مرتبہ مسلسل پورا ایک مہینہ کوہِ حراء میں گزارتے تھے۔

کوہ حراء مکہ کے شمال میں دو فرسخ کے فاصلے پہ ایک پہاڑ ہے اس پہاڑ کی چوٹی پہ ایک غار ہے کہ جسے غارِ حراء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں یہ غار عبادت و ریاضت کے لیے مناسب جگہ تھی۔

اس غار کا ذکر حضرت ابو طالب علیہ السلام نے بھی اپنے اشعار میں یوں کیا ہے:

وثور ومَن أرسى ثبيراً مكانه۔۔۔۔۔۔۔۔وراق ليرقى في حراء ونازل

یعنی: قسم ہےکوہِ ثور اور اس ذات کی جس نے کوہِ ثبیر کو اس کی جگہ قائم کیا اور قسم ہے اس ہستی کی جو کوہِ حراء کی بلندی پہ جاتی تھی تاکہ بلند مرتبہ حاصل کرے اور قسم ہے اس ہستی کی جو وہاں نازل ہوتی تھی۔

رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال ایک مہینہ غار حراء میں لوگوں اور ان کی شرف، مروّت اور دین سے مناسبت نہ رکھنے والی عادات سے دور نماز، نوافل اور عبادت کی حالت میں گزارتے، اللہ کے رسول(ص) کا سینہ ناجانے کتنا تنگ ہوتا ہو گا جب آپ(ص) لوگوں کو اللہ کی نافرمانی کرتے دیکھتے ہوں گے جبکہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی اتنی وسیع تر نعمتوں سے نواز رکھا تھا کہ جن کا شمار اور احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے، جس وقت آپ(ص) اللہ کے قرب کی منزلیں طے کر رہے ہوتے تھے اس وقت آپ(ص) لوگوں کو لات اور عزی کے قریب دیکھتے تھے کہ جو نہ نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ فائدہ، نہ کسی کو روک سکتے تھے اور نہ کسی کا دفاع کر سکتے تھے یہ تو بس بے جان پتھر تھے جو نہ بولتے اور نہ ہی سنتے، ان کو تو بس سرکش لوگوں نے بنایا اور پھر اللہ کی بجائے ان کو اپنا معبود بنا لیا۔

ان حالات میں اللہ کے صادق و امین نبی(ص) کو کفر اور سرکشی سے بھری اس دنیا سے الگ لوگوں کی نظروں سے دور اور اللہ کے بہت قریب کسی جگہ کچھ وقت گزارنے کی اشد ضرورت ہوا کرتی تھی تاکہ آپ(ص) وہاں اپنے پروردگار سے راز ونیاز کی باتیں کریں اور اس ہم وغم اور کرب کا شکوہ کریں…

اس غار میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آپ(ص) کے چچا زاد بھائی حضرت علی علیہ السلام بھی ہوا کرتے تھے کہ جو آپ(ص) کے وہ شاگرد تھے کہ جنھیں آپ(ص) نے ہم جلیسی کے لیے منتخب کیا اور ہمراہی کے لیے اختیار کیا۔

حضرت علی علیہ السلام اس ہمراہی اور ہم جلیسی کے بارے میں فرماتے ہیں: ولقد كان يجاور في كل سنة بحراء، فأراه ولا يراه غيري۔

یعنی: آنحضرت(ص) ہر سال غار حراء میں کچھ عرصہ قیام کرتے تھے اور آپ(ص) کو وہاں صرف میں دیکھا کرتا تھا اور میرے علاوہ کوئی بھی آپ(ص) کو نہیں دیکھتا تھا۔

اس وقت رسول خدا(ص) پوری دنیا میں سے صرف اس نوجوان کا اپنے پاس ہونا کافی سمجھتے تھے کہ جو آپ(ص) کی ایسے ہی اتباع کرتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کی اتباع کرتا ہے، یہ وہ وقت تھا جب پوری زمین پہ صرف یہ ایک نوجوان آپ(ص) والی رائے رکھتا تھا، آپ(ص) کی طرح کی عبادت کرتا تھا اور آپ(ص) بتائی ہوئی صراط مستقیم پہ چلتا تھا۔

بعثت نبوی

اللہ تعالی نے صادق و امین کو 27رجب المرجب ہجرت سے 13 سال قبل ، غار حراء میں نبوت سے نوازا، اس غار میں ایک روشنی ظاہر ہوئی اور ہدایت کا نور بلند ہوا اور جبرائیل کی آواز میں یہ آیات سنائی دیں:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ {1} خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ {2} اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ {3} الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ {4} عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ{5} ( سورہ علق )

اے رسول پڑھیے: اپنے پروردگار کے نام سے جس نے خلق کیا۔ اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔ اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

اس پہاڑ کے درمیان سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آواز سنی: يا محمد أنت رسول الله، وأنا جبريل۔

یعنی: اے محمد(ص) آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔

اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پوری بشریت کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور آپ(ص) کو لوگوں کو ڈرانے اور اللہ کے شدید ترین عذاب کی یاد دلانے کا حکم دیا۔

جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگوں کی نافرمانی، حق سے انکار، کفر اور سرکشی نے ہم و غم اور تکلیف میں مبتلا کر دیا تو اللہ نے آپ(ص) کو لوگوں سے پروردگار کی نعمتِ نبوت کے بارے میں گفتگو کرنے کی ترغیب دی کہ جس نبوت سے اللہ نے آپ(ص) کو مشرف کیا اور اسے پورے قریش میں سے صرف آپ(ص) کے لیے خاص قرار دیا۔

نبی کریم(ص) کو اپنے گھر والوں کو دعوتِ اسلام دینے کا حکم

علامہ ابن ہشام اپنی کتاب السيرة النبویہ میں لکھتے ہیں:

فجعل رسول الله يذكر ما أنعم الله عليه، وعلى العباد سِراً الى من يطمئن إليه من أهله.

یعنی: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خاندان کے قابل اعتماد اور قابل اطمینان لوگوں سے خفیہ طور پر اس نعمت کا ذکر کرتے جس سے اللہ نے آپ(ص) کو اور لوگوں کو نوازا ہے۔

اور یہ اس لیے تھا کہ آپ(ص) کو ابھی رسالت کا سرعام اعلان کرنے کا حکم نہیں ملا تھا جس کی وجہ سے آپ(ص) اپنے گھرانہ میں جسے قابل اعتماد اور اصلاح و ہدایت کے قابل سمجھتے اسے خفیہ طور پر نبوت سے آگاہ کرتے۔

ابن ہشام کی عبارت سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ بعثت کے بعد پہلے مرحلہ میں یہ خفیہ تبلیغ اور دعوتِ اسلام کا سلسلہ صرف اپنے گھر والوں میں منحصر تھا۔

اسی طرح دعوت اسلام کے دوسرے مرحلہ میں بھی اللہ نے اپنے رسول(ص) کو اپنے خاندان والوں میں سے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم ان الفاظ میں دیا: وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ.

یعنی: اوراپنے قریب ترین رشتے داروں کو تنبیہ کیجیے۔

قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت کے نزول کے بعد رسول خدا (ص) نے امام علی (ع) کو حکم دیا کہ کھانا تیار کریں جو بکرے کے ایک ران اور (آج کے زمانے کے حساب سے) تین کلوگرام دودھ پر مشتمل ہو اور فرزندان عبد المطلب کو بلائیں تا کہ آپ (ع) اللہ کا حکم ان تک پہنچا دیں۔ امیرالمؤمنین (ع) نے حکم کی تعمیل کی۔ تقریبا 40 افراد اکٹھے ہوئے جن میں ابو طالب، حمزہ بن عبد المطلب اور ابو لہب بھی شامل تھے۔ کھانے کی مقدار کم تھی اور اتنا کھانا معمول کے مطابق ان افراد کے لئے کافی نہ تھا؛ لیکن سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور کھانے میں کوئی کمی نہ آئی۔ ابو لہب نے حضرت محمد (ص) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس نے جادو کیا ہے۔ ابو لہب کی بات نے مجلس کے ماحول کو رسول اللہ (ص) کی دعوت کے منصوبے سے خارج کر دیا چنانچہ آپ (ص) نے اپنی دعوت مؤخر کردی اور یہ نشست کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوئی۔ امیرالمؤمنین (ع) کو ایک بار پھر ذمہ داری سونپ دی گئی کہ سابقہ انداز سے کھانا تیار کریں اور رسول خدا (ص) کے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دیں؛ چنانچہ آپ (ع) نے ایسا ہی کیا اور رسول خدا (ص) نے کھانے کے بعد فرمایا:

:یا بَنِی عَبْدِالْمُطَّلِبِ إِنِّی وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ شَابّاً فِی الْعَرَبِ جَاءَ قَوْمَهُ بِأَفْضَلَ مِمَّا جِئْتُکُمْ بِهِ إِنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِخَیرِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَقَدْ أَمَرَنِی اللَّهُ تَعَالَى أَنْ أَدْعُوَکُمْ اِلَیهِ فَأَیکُمْ یؤَازِرُنِی عَلَى هَذا الْأَمْرِ عَلَى أَنْ یکُونَ أَخِی وَخَلِیفَتِی فِیکُم۔
اے فرزندان عبدالمطلب! خدا کی قسم! میں پورے عرب میں ایسا کوئی جوان نہیں جانتا جو مجھ سے بہتر کوئی چیز اپنی قوم کے لئے لایا ہو؛ میں تمہارے لئے دنیا اور اخرت کی بھلائی لایا ہوں؛ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف بلاؤں؛ پس کون ہے جو اس کام میں میری پشت پناہی کرے، جو میرا بھائی، اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ اور جانشین ہو؟

کسی نے جواب نہیں دیا؛ امیرالمؤمنین (ع) جو سب سے چھوٹے تھے، اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی پشت پناہی کروں گا۔ چنانچہ رسول اللہ (ص) نے علی (ع) کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

"إِنَّ هَذَا أَخِی وَ وَصِیی وَ خَلِیفَتِی فِیکُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِیعُوا۔
یہ (علی (ع)) میرے بھائی، میرے وصی اور تمہارے درمیان میرے جانشین اور خلیفہ ہیں، پس ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔(طبری، تاریخ الامم والملوک،)

سب لوگ وہاں سے ہنستے ہوئے اٹھے اور کہنے لگے: ابو طالب تم کو تمہارے بيٹے کي اطاعت و پيروي کا حکم ديا گيا ہے۔

سب اٹھے جبکہ ہنس رہے تھےاور ابو طالب(ع) سے کہہ رہے تھے: محمد آپ کو ہدایت دے رہے ہیں کہ اپنے بیٹے کی اطاعت کریں اور ان کی بات سنیں!”۔(طبری، تاریخ الامم والملوک)

اس واقعے کو مؤرخین اور محدثین نے اس واقعے کو "یوم الدار” (وہ دن جب لوگ گھر میں جمع ہوئے)، "بدء الدعوة” (آغاز دعوت) اور "یوْمُ الْاِنذار” (لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرا دینے کا دن) اور "دعوت ذو العشیرہ” جیسے عناوین کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ( ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ابن کثیر، البدایہ و النهایہ، ابن کثیر، تفسیرالقرآن العظیم، سیوطی، الدر المنثور،حسکانی، شواهد التنزیل، ابن هشام، السیره النبویہ)

آغاز دعوت کا یہ واقعہ حضرت ابو طالب (ع) کے گھر میں پیش آیا۔ بعثت کا پہلا عوامی اعلان نگہبان رسالت ؐ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے گھرانے سے ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.