کاظمین اجتماع شیطنت کے منہ پر طمانچہ ہے،امریکہ عالم اسلام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دے گا، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

تمام دہشت گردوں کا کھرا امریکہ سے ملتا ہے جوعالم اسلام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دے گا، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
امن پسند قوتیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں، حملوں کے باوجود کاظمین میں کئی ملین عاشقان رسالتؐکا اجتماع شیطنت کے منہ پر طمانچہ ہے
پولیس جوانوں کی شہادت لمحہ فکریہ ہے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، کالعدم جماعتوں کے ہاتھوں سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکا جائے
استحصال سے نجات کیلئے خواتین مغرب کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں دامن زہراؑ سے وابستہ ہوجائیں، اسلام نے خواتین کو عزت و حرمت کی معراج بخشی
امام موسی کاظمؑ نے دین کے تحفظ کیلئے تمام زندگی زندانوں میں گزار دی، چراغ مصطفوی ؐآج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہے
مشاہیر اسلام کے مزارات شرک و نفاق کی آندھیوں کے مقابل دین توحید کے قلعے ہیں، مجلس سے خطاب؛ ملک بھر میں یوم باب الحوائج پر مجالس و جلوس تابوت

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ دنیا کی تمام دہشت گرد تنظیموں کا کھرا امریکہ سے ملتا ہے انکل سام صیہونی مفادات کی تکمیل تک عالم اسلام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دے گا امن پسند قوتیں اور کمزور اقوام شیطان بزرگ کے ہتھکنڈے روکنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں، بم حملوں کے باوجود کاظمین میں کئی ملین عاشقان رسالتؐکا اجتماع شیطنت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں پولیس جوانوں کی شہادت لمحہ فکریہ ہے ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل کیا جائے، کالعدم جماعتیں نفرت انگیزی کیلئے سوشل میڈیا کا بھرپوراستعمال کررہی ہیں سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکا جائے۔

اسلام نے وجود فاطمیہ ؑ کے ذریعے خواتین کو عزت و حرمت کی معراج بخشی استحصال سے نجات کیلئے خواتین مغرب کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں دامن فاطمہ زہرا ؑ سے وابستہ ہوجائیں۔

چودہ صدیوں سے ہر رنگ کی دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں بزدل دہشت گرد دین و وطن کے پرستاروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

امت مسلمہ مشاہیر اسلام کی ر اہ ترک کرنے کے سبب اغیار کے ہاتھوں پس رہی ہے،امام موسی کاظم ؑ حکمرانوں اور بالادستوں کی جانب سے شریعت مصطفوی ؑمیں من مانی تبدیلیاں کرنے کی راہ میں ہمیشہ حائل رہے حق کے علمبردار اور مظلوموں کے طرفدار رہے تمام زندگی زندانوں میں گزار دی زہر کا جام پی لیا لیکن دین میں تحریف نہ ہونے دی ظالموں کا جبر نابود ہوگیا چراغ مصطفوی ؐ کاظمین میں آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہے۔

گنبدخضری سے کربلا ونجف اور کاظمین بغداد سے دمشق و اسلام آباد تک مشاہیر اسلام کے مزارات شرک و نفاق کی آندھیوں کے مقابل دین توحید کے قلعے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 25رجب کو یوم شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے موقع پر مجلس باب الحوائج سے خطاب کرتے ہوئے کیایوم باب الحوائج کے موقع پردنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے تمام شہروں قصبوں دیہات میں مجا لس عزا منعقد ہوئیں اور جلوس تابوت برآمد کئے گئے۔

کاظمین اجتماع شیطنت کے منہ پر طمانچہ ہے،امریکہ عالم اسلام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دے گا، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
کاظمین اجتماع شیطنت کے منہ پر طمانچہ ہے،امریکہ عالم اسلام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دے گا، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ دہشت گردی شیطان بزرگ کا ہتھیار ہے جسے ذریعے وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کے جواز تلاش کرتا ہے،سوویت یونین کو گرانے کیلئے جنگجوؤں کی نرسریاں امریکہ نے خود تیا ر کیں اپنا مقصد پورا ہونے پر اس نے دہشت گردی کے بیج پوری دنیا میں پھیلا دیئے اوران کی نشو نما کا خوب سامان کیاپھر انہی دہشت گردوں کا نام استعمال کرکے اسلام پر تنگ نظری اور تشدد کا لیبل تھوپ دیا۔

انہوں نے کہا کہ عہد حاضر میں انسانیت کو ایک طرف انسانیت کو استعماریت و صیہونیت کے مظالم کا سامنا ہے تو دوسری جانب کورونا جیسی آفات درپیش ہیں ان مصائب کے مقابلے کیلئے اللہ نے امت مسلمہ کو ایسے روشنی کے مینار عطا کئے جن سے مستفید ہو کر عالم اسلام نجات دنیوی و اخروی حاصل کر سکتا ہے اور آفات و بلیات سے بھی چھٹکارا پا سکتا ہے۔فرزند رسول ؐباب الحوائج امام موسی کاظم ؑ ایسی ہی ایک عظیم المرتبت ہستی ہیں جن کے کردار و افکار عہد حاضر کی مایوسیوں میں امید کی کرن ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام موسی کاظم ؑ کے مزار اقدس کو بلاتفریق تمام مورخین محققین اور تمام مسالک کے آئمہ و علماء کی جانب سے حاجات کی قبولیت کی سند مانا گیا ہے اسی لئے انہیں باب الحوائج کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اہل سنت کے امام حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظم ؑ کی قبر کے پاس دعا مانگنا مجرب ہے جب کبھی مجھے کوئی حاجت پیش آتی مَیں دو رکعت نماز پڑھ کر امام موسیٰ کا ظم ؑکے مقبرہ کے پاس دْعا کرتا، فوراً دْعا قبول ہوجاتی۔

انہوں نے کہا کہ امام موسی کاظم عبادت اور اپنی زندگی کے دوسرے امور کی دیکھ بال میں مصروف رہنے کے علاوہ اپنا زیادہ وقت دینی علوم کی ترویج، لوگوں کی ہدایت، شاگردوں اور راویان حدیث کی تعلیم و تربیت میں صرف کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے زمانے کے حکمران آپ کی علمی شخصیت اور سماج میں آپ کے عزت و احترام سے خوفزدہ اور ہمیشہ آپ اور آپ سے فیض پانے والوں سے ہوشیار رہتے تھے، کیونکہ آپ کی ذات شریعت کی آڑ میں حکمرانوں کے من پسند اقدامات کیلئے حرف انکار کی حیثیت رکھتی تھی اسی لئے آپ کو طویل مدت تک بصرہ اور بغداد کے قید خانہ میں قید رکھا گیااور بالآخر 25رجب 183 ھ کو زہر کے ذریعے شہید کرادیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام موسیٰ کاظم ؑ نے قید خانوں کو عبادت گاہوں میں بدل دیا حضرت امام موسی کاظم اس قدر زیادہ عبادت کرتے تھے کہ زندانوں کے نگہبان بھی اس کے تحت تاثیر آجاتے۔ آپ ؑ نے اپنی جان دے دی اورتنگ و تاریک قید خانے اور دارورسن کی تکالیف برداشت کیں مگر دین و شریعت کا سودانہیں کیا۔اسیر بغداد امام موسیٰ کاظم ؑ کی استقامت حق وصداقت کے طلبگاروں کیلئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.