حضرت امام علی نقی ؑ کایوم شہادت: کربلائے کشمیر کیساتھ بھرپور یکجہتی، علامہ ریاض رضوی ، ڈاکٹر غضنفر عباس ، مولانا عامر قمی کا ملک گیر ماتمی احتجاج کا خیر مقدم

ولایت نیوز شیئر کریں

حضرت امام علی نقی ؑ کایوم شہادت،کربلائے کشمیر کیساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار
ٹی این ایف جے کی کال پر ملک بھر میں مجالس عزاو ماتمی جلوس،تابوت برآمد ہوئے، پاک فوج کے شہداکو خراج عقیدت
قائد ملت جعفریہ آغا سید حامدعلی شاہ موسوی کی جانب سے پہلے قدم کے طور پر 25رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کا خیر مقدم
مکتب تشیع کیساتھ امتیازی قابل مذمت ہے،قائد اعظم کیخلاف فتوے دینے والوں کا نصاب تعلیم مسلط کرنا سازش ہے۔علامہ ریاض رضوی
آل محمدؐ کے بغیر پڑھایا جانیوالا نصاب قبول نہیں، شہدائے کربلا کے کارناموں پر پردہ ڈالنا دینی خیانت ہے۔ ڈاکٹرغضنفرعباس
حضور ؐ اکرم اور انکے اہل بیت ؑ پر سلام آیا ہے جسکے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔ذاکر سجاد شماری، ذاکر ملک علی رضاکھوکھر او ر دیگر کا خطاب
دربار سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدی چوہڑ ہڑپال میں مرکزی مجلس عزا میں قرارداد کی منظور ی،دین و وطن کیلئے قربانیاں دینے کا عزم

راولپنڈی ( ولایت نیوز)قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کردہ عالمی عشرہ اجر رسالتؐ کی مناسبت سے نقوی البخاری،البھاکری سادات کے جد اعلیٰ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا یوم شہادت ہفتہ کو عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔

اس موقع پر امامبارگاہوں عزاخانوں میں مجالس عزا ہوئیں اور تابوت کے جلوس برآمد کیے گئے۔

راولپنڈی میں مرکزی مجلس عزا دربار عالیہ سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدی چوہڑ ہڑپال میں محمدبشیر و پسران کے زیر اہتمام مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین علامہ سید ریاض حسین رضوی نے وطن عزیز پاکستان میں مکتب تشیع کیساتھ ہونیوالی زیادتیوں اور امتیازی سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بانی پاکستان کیخلاف تکفیر کے فتوے دینے والوں کی باقیات کا بنایا ہوا نصاب تعلیم مسلط کرنے کی سازش کی جارہی ہے جو سراسر ظلم ہے۔انہوں نے قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کی جانب سے حکومت کو مسلسل متوجہ کرنے کے باوجود شیعہ مطالبات کے بارے میں کوئی مثبت پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے پہلے قدم کے طور پر 25رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہوئے جوانان ملت اورپوری قوم کو آقای موسوی کے لائحہ عمل پر لبیک کہنے کیلئے تیار رہنے کی تلقین کی۔

علامہ رضوی نے کہا کہ نسل نو کیلئے یکساں نصاب کے نام پر مخصوص نظریہ زبردستی لاگو کرنے اور آل اطہار ؑ کے بغیر پڑھایا جانیوالا نصاب ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے کیونکہ اسلام کے دفا ع کیلئے لڑی جانے والی بدر،احد اور خندق و خیبر سمیت تمام جنگوں کے ہیرو حضرت علی ابن ابی طالب ؑ تھے لیکن پرائمری کے نصاب سے فاتح اعظم علی ؑ کا نام خارج کرکے نصاب مرتب کرنا اور شہدائے کربلا کے کارناموں پر پردہ ڈالنا دینی خیانت ہے جسکی کوئی مسلمان بھی تائید نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ حضرت علی المرتضیٰ ؑ اور اہلبیت اطہار ؑ کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لکھنے اور پڑھنے پر پابندی قرآنی احکامات کیخلاف ہے کیونکہ خداوندعالم نے قرآن میں حضور ؐ اکرم اور انکے اہل بیت ؑ پر سلام بھیجا ہے جسکے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔

انہوں نے یہ بات زوردیکر کہی کہ پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات مولاناکوثرنیازی مرحوم نے حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے نام کیساتھ کرم اللہ وجہ اور صحابہ کبارؒ کیساتھ رضی اللہ عنہ اس لیے لکھنے اور کہنے پر زوردیا تھا کہ حضرت علی ؑ کا سر کبھی بتوں کے سامنے نہیں جھکا۔انہوں نے کہا کہ تاریخی حقائق اور اسلامی اصولوں سے رو گردانی اور ان میں تبدیلی کرنا پاکستان کے آئین سے انحراف ہے۔

اس موقع پر امام جمعہ و الجماعت سخی شاہ پیارا کاظمی علامہ سید مطلوب حسین تقی،علامہ علی رضا زیدی،چیئرمین مختار ایس او سید محمد عباس کاظمی،بانی مجلس مولانا عامر حسین قمی،ذاکر سید سجاد حیدر شماری،عزادا ر،بانیان مجالس سید سجاد حسین کاظمی،سید توصیف حسین کاظمی،سید قاسم علی شاہ،سید فرزندعلی شاہ کاظمی،سید محسن عباس کاظمی،سید حامد نقوی اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں علامہ ڈاکٹر ملک غضنفر عباس قمی نے قومیات کے موضوع پر قرارداد پیش کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے متنازعہ فیملی لاز بل،مخصوص فرقے کے نام نہاد یکساں نصاب تعلیم،عزاداری پر ناروا پابندیوں،بے گناہ عزاداروں کے خلاف انتقامی کاروائیوں،شیعہ مقدسات کی توہین،تکفیریوں اور کالعدم گروپوں کو کھلی چھٹی دینے کی مذمت کی گئی اور مکتب تشیع کے آئینی و قانونی حقوق سلب کیے جانے کے حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کے اعلان کا خیرمقدم اور قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کی جانب سے پہلے قدم کے طور پر 25رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کی کال کی پرزورتائید کرتے ہوئے انکے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھر پور لبیک کہنے کے عہد کا اعادہ کیا گیا۔

مجلس عزا سے مختلف علمائے کرام اور ذاکرین نے بھی خطاب کیا۔مجلس کے آخر میں شبیہ تابوت حضرت امام علی نقی ؑ برآمد ہوا اور شہر کے معروف ماتمی حلقو ں نے نوحہ خوانی اورماتمداری کی۔

اختتام پرسہ داری پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین کی آزادی کی تحریکوں کی کامیابی، وطن عزیز پاکستان کے استحکام و سلامتی اور دہشتگردوں کی کمر توڑنے والے عساکر پاکستان اورپاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.